کنٹرول لائن کے شہدائ۔ حافظ سعید توجہ فرمائیں

کنٹرول لائن کے شہدائ۔ حافظ سعید توجہ فرمائیں

لیجئے جی قبلہ حافظ سعید بھی سراج الحق کی طرح گھاٹے میں نہیں رہے، ایک گھنٹہ دیاا ور تیسرا کالم حاضر خدمت ہے۔ ابھی دماغ کھول رہا ہے۔

میری حافظ سعید سے ملاقات ہوئی ، مغرب کے بعد جانا ہوا، اور ابھی دل کی باتیں دل ہی میں تھیں کہ عشاءکا وقت ہو گیا۔ مطلب یہ تھا کہ ملاقات ختم،سو میں جو اصل بات کہنے گیا تھا وہ نہ کر سکا۔
میرے ذہن میں ایک نکاتی ایجنڈہ تھا کہ میں ان کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کروں گا کہ یہ جو آئے روز ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن پربھارتی فوج کی گولیوں سے کشمیری شہادت کی خلعت سے سرفراز ہو رہے ہیں ، پوری قوم ان کی طرف سے بے حس ہے، ہم نے اے پی ایس کے بچوں کے ترانے گائے ا ور گانے بھی چاہئیں تھے مگر یہ جو بے گناہ کنٹرو ل لائن پر بے دردی سے سیدھے فائر کا نشانہ بنتے ہیں ، ان کا رزم نامہ کون پڑھے گا، ان کی ماﺅں کے آنسو کون پونچھے گا، ان کے بھائیوں کی تنہائی کو کون دور کرے گا، ان کے سکول کے ہم جولیوں کو کون بتائے گا کہ ان کا ساتھی کس گناہ کی پاداش میں شہید کیا گیا۔ یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ میں حافظ سعید کی توجہ اس سنگین بے حسی ا ور بے اعتنائی کی طرف مبذول کروانا چاہتاتھاکہ کنٹرول لائن کے بے نام شہدا بھی ہمارے قومی ہیرو ہونے چاہیئں،ان کے لئے گمنام شہداءکی یاد گار بنانے کی ضرورت نہیں، یہ بے نام نہیں، ان کے نام بھی تھے، شناخت بھی تھی، قومی شناختی کار ڈزبھی تھے۔ ان کے ورثاءبھی موجود ہیں ، ان سے پوچھ کر ان شہدا کی یادگاروں پر تختیاں لگائی جائیں اور ان پر شہدا کے مختصر حالا ت کندہ کئے جائیں کہ وہ کس حالت میں شہید ہوئے، کیا ان کی کوئی کفالت کرنے کے لئے آیا، کیا ان کے ورثا کو کوئی چیک دینے آیا، کیا چیکوں کی تقسیم کی تقریب کو قومی میڈیا نے براہ راست بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا ۔
حافظ سعید کی نگرانی میں فلاح انسانیت کا ایک عظیم منصوبہ چل رہاہے، اگر ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن کے شہدا کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا جائے تو یہ ایک عظیم قومی خدمت ہو گی۔قومی رہنماﺅں کو ان کے ورثاءکے پاس پرسہ دینے کے لئے جانا چاہئے۔
آئیے ان شہداءکی چند مثالیں ملاحظہ کریں۔
1 جون، 2017کو بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3 شہری زخمی ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نے لائن آف کنٹرول پر بٹل،تتہ پانی اور جندوٹ سیکٹر کو نشانہ بنایا اور بلا اشتعال فائرنگ کی۔ بھارتی فائرنگ سے تین شہری زخمی ہوگئے۔
10جون کو بھارتی فوج نے ایک بار پھر ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چری کوٹ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 70 سالہ بزرگ پاکستانی شہری شہید ہو گیا۔
12 جون 2017کو بھارتی فوج نے ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر کے گا¶ں بابڑہ میں بھارتی فوج کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ کار پر جا گرا۔ جس کے نتیجے میں دو شہری شہید ہوگئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ بھی کی گئی۔
8جولائی کو ایل اوسی پر بھارتی فورسز کی گولہ باری اورفائرنگ سے ضلع پونچھ کے ٹیٹری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کے نزدیک موجود گا¶ں بھیرا کے 75 سالہ رہائشی محمد شریف شیلنگ کی زد میں آکر شہید ہوگئے جبکہ ان کا گھر بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ عباس پور سیکٹر میں مارٹر شیل کی زد میں آ کر 26 سالہ فائزہ سلیم شہید جبکہ 22 سالہ ادیبہ اور 17 سالہ ماہ نور زخمی ہوگئیں، تینوں خواتین کا تعلق ایک ہی گھرانے سے تھا۔
8 جولائی کو معروف کشمیری نوجوان حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے موقع پر جہاں وادی میں کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا وہیں بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھاری شیلنگ کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
16جولائی کو آزاد کشمیر کے علاقے وادی نیلم میں ستھریاں کے مقام پر بھارتی فوج کی جانب سے سرحد پار سے پاک فوج کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس سے گاڑی دریا میں جا گری تھی، حادثے میں گاڑی میں سوار فوج کے 4 جوان ڈوب کر شہید ہو گئے تھے۔
17جولائی کوبھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پرآزاد کشمیر کے نکیال سیکٹرکے علاقے ترکنڈی میں گولہ باری کی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 4 افراد زخمی ہوئے ہیں، بھارتی گولہ باری کے باعث تین مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
7 اگست کو کھوئی رتہ اور کیرالہ سیکٹرز میں بھارتی فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 35 سالہ خاتون شہید ہوگئی۔
8 اگست کوبھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے بھارتی فورسز کی جانب سے کھوئی رٹہ اور کیرالہ سیکٹرز میں بلا اشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق رواں سال 8 اگست تک بھارتی فورسز نے ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر 600 سے زائد بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی جس میں اس وقت تک 25 بے گناہ شہری شہید اور 110 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
28 اگست کوآزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب نیزاپور سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے نیزاپور سیکٹر کے گاﺅں فتح پور میں اتوار کی شب 10 بجے سے 11 بجے کے دوران شیلنگ کی گئی جہاں پر دو افراد شہید ہوئے۔ ایک شیل 65 سالہ ریٹائرڈ سکول ٹیچر شیخ مشتاق کے گھر پر گرا جس کے نتیجے میں ان کے 32 سالہ بیٹے نوید اور20 سالہ بیٹی اسما شہید ہوگئیں۔شہید ہونے والا نوید فوٹو کاپی کی دکان چلا رہاتھا جبکہ اس کی بہن بی ایس سی کی طالبہ تھی۔ شیخ مشتاق اور ان کی اہلیہ نسیمہ بیگم اور 25 سالہ بیٹا انصار شدید زخمی ہوگئے رات گئے دوران علاج انصار دم توڑ گیا۔ بھارتی فوج نے نیزاپور سیکٹر میں دن کے وقت بھی شیلنگ کی تھی ۔
17 ستمبرکو بھارتی فورسز نے ورکنگ باونڈری پر سیالکوٹ میں ہرپال سیکٹر کے مقام پر پاکستانی علاقے میںپر فائرنگ اور مارٹر شیل فائر کیے۔ایک گولہ 62 سالہ کسان محمد بشیر کے مکان پر آگرا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگیا۔ بی ایس ایف کی جانب سے ہرپال اور چارواہ کے علاقوں میں شدید فائرنگ کی گئی۔ اس سے قبل انہوں نے پھونکاوالیہ بجوات سیکٹر میں بھی فائرنگ کی تھی۔
21ستمبرکو ورکنگ با¶نڈری پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت 4 پاکستانی شہری شہید ہو گئے تھے۔
22ستمبرکو عالمی یوم امن کے موقع پربھی بھارت اشتعال انگیزی سے باز نہ آیا اور ورکنگ با¶نڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی سے 4 خواتین سمیت 6 پاکستانی شہری شہید 26 زخمی ہو گئے ۔
بھارتی فوج نے مستقل سیزفائرکی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورکنگ با¶نڈری پر چارواہ اور ہرپال سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایافائرنگ کے نتیجے میں 4 خواتین سمیت 6 شہری شہید جب کہ 15 خواتین اور پانچ بچوں سمیت 26 شہری زخمی ہو گئے۔
24ستمبر کوبھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی لڑکی شہید اور 2 شہری زخمی ہوگئے ۔بھارتی فورسز نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزی کی اور نکیال سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 22 سالہ خاتون تاشیبہ شہید ہوگئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری 18 سالہ عنیقہ اور 16 سالہ محمد لیاقت زخمی بھی ہوئے ۔اور ندیم شہید ہو گیا جبکہ 3 جوان اور ایک شہری زخمی ہوا زخمی ہوئے۔
02 اکتوبر کوبھارتی فورسز نے ایل او سی پر آزاد جموں اور کشمیر کے ضلع حویلی کے دیہی علاقوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک بزرگ پاکستانی شہری شہید اور 5 افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی فورسز نے صبح 6 بجے نیزہ پیر اور دیگوار سیکٹرز میں شیلنگ کا آغاز کیا جس میں بھاری اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ بھارتی فورسز کی شیلنگ سے دیگوار گا¶ں میں ایک 70 سالہ بزرگ شہری محمد دین شہید جبکہ ان کا 25 سالہ بیٹا محمد جمیل زخمی ہوگیا۔ اسی گا¶ں میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے 34 سالہ تسنیم بی بی، ان کا 12 سالہ بیٹا عاقب اور 35 سالہ محمد جاوید زخمی ہوگئے۔ نیزہ پیر کے سیکٹر میں بھارتی فورسز کی شیلنگ سے ولی محمد نامی شخص بھی زخمی ہوا۔ بھارتی فورسز کی شیلنگ کے بعد تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دے دیا گیا تاکہ طلباءاور اساتذہ کی قیمتی جانوں کو کسی بھی نقصان سے بچایا جاسکے۔
25اکتوبرکی رات بھارتی فوج نے وادی لیپا کے نوکوٹ اور قیصر کوٹ گاﺅں میں شہریوں کو نشانہ بنایا۔ بھارتی بلااشتعال فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری خواتین شہید جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔شہید ہونے والی خواتین میں نوکوٹ گاﺅں کی سمیرا یونس اور مریم جبکہ 6 زخمیوں میں نوکوٹ کے 5 اور قیصر کوٹ کا ایک شہری شامل تھے جن میں شکیل، انور بیگ، منیر، ذیشان، رفیق اور نسرین شامل تھے ۔
12نومبر کوآزاد کشمیر کے علاقے بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج کی سول آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ سے بچہ زخمی ہوگیا۔ ایک بار پھر بھارتی فوج نے بٹل سیکٹر میں سول آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گھر کے صحن میں کھیلتا 10 سالہ عمر نشانہ بن گیا۔
15 نومبرکوبھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے چری کوٹ سیکٹر کو اپنی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایاجس سے 75 سالہ خاتون محمودہ بیگم شہید ہو گئیں۔
بھارتی فوج کی جانب سے مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔
میں ان شہادتوں کا تذکرہ حافظ صاحب سے کرنا چاہتا تھا۔ اب کالم کی صورت میں یہ تذکرہ کرنے بیٹھا ہوں تومیرے قلم سے خون رس رہا ہے۔قبلہ حافظ صاحب ہی بتائیں کہ میرے قلم کے زخموں کامرہم کس کے پاس ہے۔
میں ان شہیدوں کا تذکرہ کبھی بعد میںکروں گا جو لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے بینر تلے کشمیر کے جہاد میں شہید ہوئے۔انکے جنازے قاضی حسین احمد اور حافظ سعید گاﺅں گاﺅں پڑھاتے رہے۔ ان شہدا کے ورثا کس حال میں ہیں، یہ میری آنکھوں بیتی ہو گی ۔ان کے ورثا کس حال میں ہیں،یہ کہانی بعد میں، میں ایک شہدا کیٹل فارم کا تذکرہ بھی کروں گا جو میں نے رائے ونڈ میں دیکھا ، یہ بیس سال قبل کی بات ہے، اس وقت اس فارم کے انچارج میرے کلاس فیلو حافظ محمد ادریس تھے۔ یہاں بھینیسں بندھی تھیں ، ان کا دودھ شہدا کے ورثا تک کیسے پہنچتا تھا، یہ ایک انوکھاسوال ہے۔
٭٭٭٭٭