کراچی میں پانی کا راج اور بلدیاتی انتخاب

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

کراچی شہر بارش کے پانی میں ڈوب گیا۔ لوگ اندھیرے اور اندھیر میں فرق بھول گئے ہیں۔ مگر ایک ہی گھر کا میڈیا نے ذکر کیا ہے کہ نومنتخب صدر ممنون حسین کے گھر میں بھی پانی داخل ہو گیا۔ پانی کو پروٹوکول کا پتہ نہیں۔ انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔ فوری طور پر پانی کو نکال باہر کیا گیا۔ ایک افسر ہاتھوں سے پانی باہر پھینک رہا تھا۔ اُسے بتایا جائے کہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے۔ مگر اتنی شرم ہمارے افسران اور حکمران نہیں کرتے۔ اس افسر کی اتنی خواہش ہے کہ کوئی ممنون صدر کو جا کے بتا دے کہ میں کس قدر فرمانبردار افسر ہوں۔ میری مثال اس چڑیا کی ہے کہ جب سیدنا ابراہیمؑ کے گھر نمرود نے آگ لگائی تھی تو وہ چونچ میں پانی لے کے بار بار جاتی رہی تھی۔ ہمارے افسران اس زمانے میں نمرود کے ساتھ ہوتے۔ سیدنا ابراھیمؑ کے ساتھ نہ ہوتے کیونکہ حکومت نمرود کی تھی۔ ایسے ہی آدمیوں کے لئے میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی نے کہا تھا کہ اگر کربلا میں یہ شخص ہوتا تو یزید کا پی آر او ہوتا۔ میں اس آدمی کا نام نہیں لیتا وہ بہت نامور کالم نگار ہے۔ مگر کراچی شہر میں پانی کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ اس سے حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنی حکومت ہے ہمارے لئے کافی ہے۔ اندرون سندھ میں سیلاب زدگان ابھی تک کھلے آسمان تلے موجود ہیں اور پانی ان کے گھروں پر قابض ہے حکومت کسی قبضہ گروپ کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتی۔ پانی نے ممنون صدر کو بھی ابھی تک عوام سمجھا ہوا ہے۔ ویسے وہ ہیں بھی عام آدمی۔ شریف آدمی اس لئے نہیں کہا کہ اس طرح نوازشریف کے کالم نگار سمجھتے ہیں کہ میں نوازشریف پر تنقید کر رہا ہوں۔ اب ”شرمناک“ کے معانی تبدیل ہوئے ہیں تو اس سے پہلے شریف کے معافی بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ مگر ایک پریشانی میرے آس پاس غوطے کھا رہی ہے۔ آخر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ گورنر سندھ عشرت العباد شرجیل میمن اور سارے وزیر شذیر کے گھر کی طرف اور بلاول ہاﺅس کی طرف پانی کیوں نہیں گیا۔ کسی افسر پولیس افسر یا چھوٹے موٹے حکمران کی طرف گیا ہوتا تو دہائی مچ جاتی۔ پانی سے خالی تو ممنون صدر کا گھر کرا لیا گیا مگر پانی وہاں گیا کیوں؟ یہ ممنون صدر کے سوچنے کی بات ہے؟ علامہ اقبال کا یہ شعر مجھے آیا ہوا ہے مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کس کو سناﺅں۔ 
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات ۔۔۔ تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
اس دوران الطاف حسین نے ڈوبتے ہوئے شہر کے لئے بیان جاری کیا ہے اور لوگوں سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔ ہمارے سیاستدان اور حکمران صرف ہمدردیاں ہی ظاہر کرتے ہیں مگر ایک بات الطاف بھائی نے بہت گہری کہہ دی ہے۔ فوری طور پر کراچی شہر کے لئے سابق ناظم مصطفٰی کمال کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے۔ یہ کون کرے گا۔ ایم کیو ایم تو مسلم لیگ ن سے مل گئی ہے اور یہ کام صوبائی حکومت کا ہے اور یہاں پیپلز پارٹی ہے۔ یہ بات عمومی طور پر درست ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں۔ ڈسٹرکٹ ناظم کراچی کے طور پر مصطفٰی بھائی نے کمال کر دیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے ایک دفعہ مصطفٰی کمال کی بہت تعریف کی تھی۔ یہ تعریف اس وقت بہت بڑی بات تھی۔ چیف جسٹس جب غیر فعال تھے تو ایم کیو ایم جنرل مشرف کے ساتھ تھی۔ اور جسٹس صاحب کراچی آئے تھے تو انہیں ائرپورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا تھا تمام جماعتیں اس کے لئے ایک دوسرے پر الزام لگاتی رہیں۔ ایم کیو ایم کا کام اس حوالے سے نمایاں تھا۔ اس کے باوجود چیف جسٹس کی تعریف بہت بامعنی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مصطفٰی کمال نے کوئی کمال کر دکھایا تھا۔ تب لاہور کے ناظم عامر محمود کی مثال بھی دی جاتی تھی۔ مصطفٰی کمال سے پہلے جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان نے بھی بہت کام کیا۔ ان کے کئی منصوبوں کو مصطفٰی کمال نے مکمل کیا۔ یہ بھی اچھی بات ہے ورنہ پہلی ایڈمنسٹریشن کے کام کو ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک بار جنرل مشرف نعمت اللہ خان کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور کہا کہ آپ نے کام تو بہت اچھا کیا ہے مگر افسوس ہے کہ آپ جماعت اسلامی کے ہیں۔ کئی لوگ جماعت اسلامی سے بھی ایم کیو ایم میں گئے ہیں۔ کراچی سب جماعتوں کے لئے بہرحال ایک اہم شہر ہے۔ میری ملاقات نعمت اللہ اور مصطفٰی کمال سے ہوئی ہے۔ مصطفٰی کمال نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ بلدیاتی انتخاب کرائے جائیں۔ حیرت ہے کہ مشرف کی کچھ باتوں کو سیاستدانوں نے جاری رکھا ہے اور کچھ کے لئے مخالفانہ طرزعمل اختیار کیا ہوا ہے۔ اسمبلیوں میں خواتین ممبران کے لئے آغاز جنرل مشرف نے کیا تھا جو میرے خیال میں ان کے اپنے مفادات اور سہولتوں کے لئے بہترین تھا۔ اسے سیاستدانوں نے بھی بڑے جوش و خروش سے اپنایا ہے۔ جنرل مشرف کی قریب ترین عورتوں کو تحریک انصاف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے قریب جگہ دی ہے۔ اس کے لئے میرے ذہن میں سب سے پہلے ماروی میمن کا نام آتا ہے۔ جو جنرل مشرف کے استعفٰی پر دھاڑیں مار مار کے روتی رہی تھی۔ اب وہ ن لیگ کی طرف سے مخصوص نشستوں پر ایم این اے ہے۔ ملک سسٹرز بہت فائدے میں ہیں۔ سمیرا ملک اور عائلہ ملک نوازشریف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتیں۔ پہلے وہ چودھری صاحبان کے ٹکٹ پر جیتی تھیں۔ عائلہ ملک کو عمران خان نے میانوالی کے غیرت مند لوگوں کی لیڈر بنانے کے لئے ٹکٹ دیا۔ مگر عدالت نے اُسے نااہل کر دیا ہے۔ تو اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟ اس کی دلجوئی کے لئے عائلہ کے کسی عزیز کو ٹکٹ دیا ہے۔ مگر جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کے لئے سیاستدانوں کو بہت ”تحفظات“ ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود سندھ اور پنجاب ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ بلدیاتی حکومت کے نمائندے ہوتے تو کراچی کا یہ حال نہ ہوتا۔ مجھ سے ملتان کے برادرم راﺅ خالد نے مصطفٰی کمال کے کئی کارناموں کا ذکر کیا ہے۔ سندھ کے وزیر شذیر شرجیل میمن ڈوبتے ہوئے لوگوں کے پاس سے گزر گئے۔ حیرت ہے کہ اتنے سیلاب میں بھی وہ پورے پروٹوکول کے ساتھ سیر کرتے رہے۔ بارشیں ہوتی ہیں سیلاب بھی آتے ہیں ہر سال کچھ بیانات کچھ معطلیاں۔ اور پھر اگلے سال کا انتظار ہوتا ہے کیا کسی ایسے موقعے پر کوئی منصوبہ بنا۔ ذمہ دار لوگوں کو سزا دی گئی۔ اب تو فوج کو بھی بلا لیا گیا ہے۔ فوج کہاں کہاں حکومتوں کی مدد کرے گی۔ اس سے پہلے بھی جون کے سیلاب میں بھی سب سیاستدانوں نے فوج کو آوازیں دی تھیں۔ آخری بات یہ کہ بلدیاتی نظام ضروری ہے تو پھر بلدیاتی انتخاب کیوں نہیں ہونے دئیے جاتے۔ یہ تو ہوا ہوتا کہ شہباز شریف کی طرح قائم علی شاہ پانی میں اترے ہوتے۔