عطا قاسمی کے ساتھ دھرو ہو گیا

کراچی میںربڑی بیچنے والا ملک کا صدر بن گیا اور گلاسگو میں ہر مال فروخت کرنے والا پنجاب کا گورنر بن گیا۔یہ سب قدرت کے کرشمے ہیں۔
اجمل نیازی میرا کلا س فیلو نہ ہوتا تو میں اسے سنجیدگی سے لیتا۔اس نے بہت پہلے لکھا کہ عطا قاسمی پنجاب کا گورنر بنے گا، میں نے سمجھا کہ یہ معاصرانہ چشمک اور ادبی چھیڑ چھاڑ ہے۔ مگر ہفتے کے روز شائع ہونے والے عطا کے ایک کالم پر نظر پڑی تو مجھے اپنی کم فہمی اور کج فہمی پر بہت افسوس ہوا، کالم سے ظاہرہوتا ہے کہ عطا کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ اور میںخود بھی یہ سمجھتاہوں کہ ن لیگ کو چاہئے تھا کہ وہ عطا کو گورنر بنائے۔یہ فیصلہ میرٹ پر پورا اترتا۔عطا ایک نامور ادیب، شاعر، مزاح نگار، کالم نگار، ڈرامہ نگار ، استاد اور سفارت کار ہے۔ممنون حسین ، محمد سرور، شجاعت عظیم، طارق عظیم، طارق فاطمی عطا کے پاسنگ بھی نہیں۔ عطا کے لئے میرے دل میںاحترام کا ایک رشتہ یہ بھی ہے کہ ہم دونوں ایک وقت میں نوائے وقت میں اکٹھے کام کرتے رہے۔اس لحاظ سے مجھے شدید قلق ہے کہ میرا بھی استحقاق مجروح ہوا بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس استحقاق کو کفن کے بغیر دفن کر دیا گیا۔
عطا نے لکھا ہے کہ ان کے حق میں اجمل نیازی کے علاوہ منصور آفاق، سعداللہ شاہ، بابر اعوان ، اختر شمار نے بھی لکھا۔،مگر یہ کیسے ہو گیا کہ شریف برادران نے کسی لکھے پر توجہ نہ دی ، کیا وہ بھی میری طرح یہی سمجھتے رہے کہ سبھی عطا کے ساتھ دل لگی کر رہے ہیں۔مجھے شریف برادران سے اس رویے کی توقع ہر گز نہیں ہے، وہ تودوستوں اور بزرگوں کی قدر کرنے والے ہیں۔
عطا قاسمی کا شریف برادران سے تعلق ماڈل ٹاﺅن کی ایک مسجد سے شروع ہوا جہاں عطا کے والد گرامی درس وتدریس کا فریضہ ادا کرتے تھے اور شریف برادران بلکہ ان کے بزرگ بھی ان سے فیض یاب ہوتے تھے۔عطا نے ذاتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر میاںصاحبان سے قربت کا رشتہ برقرار رکھا۔سچی بات ہے کہ میں اندرو اندری اس پر کڑھتا تھا۔ عطا کے اقبال ٹاﺅن والے چھوٹے سے گھر میں نواز شریف شریف نہاری کھانے آجاتے تھے۔اس نے فاطمہ جناح روڈ سے ملحقہ کسی تنگ سی گلی میں اپنا دفتر قائم کیا تو میاں نوازشریف وہاں بھی چائے پینے چلے آئے۔اور یہ دفتر اس قدر تنگ تھا کہ صوفے پر دبڑ گھسڑ کر کے معزز مہمانوں کو بیٹھنا پڑا۔کسی اور نے نہیں ، یہ منظر خود ڈاکٹر مجید نظامی نے میرے سامنے کھینچا۔میں جانتا ہوں کہ ڈاکٹر مجید نظامی حیا دار انسان ہیں اور انہیں کوئی بھی اخلاص سے دعوت دے تو وہاں چلے جاتے ہیں۔
میاں صاحبان نے پہلے دور میں عطا کو ناروے میں سفیر بنایا اور دوسرے دور میں تھائی لینڈ سفیر بنا کر بھیجا۔وہ انہیں کسی اچھے ملک بھی بھیج سکتے تھے ۔ واجد شمس الحسن بھی لکھنے والے ہیں، لندن میں ہائی کمشنر بنتے رہے،حسین حقانی بھی لکھتے لکھاتے واشنگٹن میں سفیر بنے ،ملیحہ لودھی اور شیری رحمن نے بھی صحافت کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا تو عطا قاسمی صرف صحافت کیا، علم ودانش کے بحر بے کراں کا شناور ہے۔اس سے کیا خطا ہوئی کہ گورنر پنجاب بننابھی اس کی قسمت میں نہیں لکھا گیا۔
 میں نے گزشتہ دنوں عطا کو فون پر دو گلے کئے ۔ایک یہ کہ اپوزیشن کالم نگار کے میدان پر بھی وہ حاوی ہو رہے ہیں، اور میرے جیسوں کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے، دوسرا یہ تھا کہ آج تک انہوں نے اپنے کسی کھابے میں مجھے مدعو نہیں کیا، نہ ناروے یا تھائی لینڈ کے دورے کے لئے کبھی ٹکٹ بھیجی۔ دوسرے یار دوست مزے کرتے رہے۔ مجھے نمک کھلایا ہوتا تو میں اس قدر نمک حرام اور طوطا چشم واقع نہ ہوتا جیسے ٹکٹیں پانے اور کھابے اڑانے والے ان کے دوستوں نے کیا بلکہ الٹا کئی پیادے بری طرح ان پر حملہ آور بھی ہو گئے ہیں۔ظاہر ہے جنگل میں ایک شیر ہی بادشاہ ہو سکتا ہے، کئی شیر ہوں گے تو وہ ایک دوسرے پر غرائیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے۔ مگر عطا کی جو درگت بن رہی ہے، مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔
میرا لکھا ہوا میاں صاحبان تک نہیں پہنچتا ، راہ میں کوئی کلرک حائل ہے جو فائل پر ہرروز قدرت اللہ شہاب والا نوٹ لکھ دیتا ہے کہ کالم نگار عادی عرضی نویس ہے۔اور یوں کالم والی فائل بغیر دیکھے بھالے داخل دفتر کر دی جاتی ہے۔مگر پھر بھی میں اپنا فرض ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عطا کے ساتھ دھرو نہ کرو۔اس نے چند دنوں میں کئی کالم لکھ مارے ہیں اور اس کے لکھے کو عادی عرضی گزار کی تحریر قرار دے کرنظر انداز کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔اس نے تازہ تریں کالم میں انکشاف کیا ہے کہ ن لیگ کی نجی محفلوں میں لاوا پک رہا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔مجھے تو یہ لاوا ابلتا اور امڈتا نظر آتا ہے۔ بجلی آئی نہیں اور لوگوں کی جیب پرٹیکسوں کا ڈاکہ پڑ گیا،جیلیں ٹوٹ رہی ہیں ، مگر سیکورٹی پالیسی نہیں بن سکی، سیلاب نے صدر ( اتنا تمہاتڑ صدر)کے مکان کو لپیٹ میں لے لیا ہے ، ہما شما کا ذکر کیا کرنا، صدر زرداری سیلاب میں ڈوبے ملک کو چھوڑ کر پیرس چلے گئے تھے اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف نے بھی وہی کیا ہے ۔ملک میں بارشوں نے تباہی مچا رکھی ہے اور وہ عمرے کے لئے یہ جا وہ جا۔سعودی بادشاہ کے سامنے کیا خوبصورت سوٹ زیب تن کئے بیٹھے ہیں۔
عطا قاسمی گورنر پنجاب بن جاتے تو سیلاب تو پھر بھی آنا تھا، نجی محفلوں میں لاوا پھر بھی پکنا تھا مگر اس کا ذکر کرنے والا تو کوئی نہ ہوتا۔ محمد سرور گورنر بن گئے، وہ سرمایہ کاری لانے اور تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے اعلا نات کر رہے ہیں ، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئین کی رو سے وہ ان معاملات میں دخل تک نہیں دے سکتے۔گورنر ہاﺅس میں بیٹھنا تھا، ٹوہر ٹپا چاہئے تھا، مل گیا، عطا قاسمی ان سے بہتر محفلیں سجاتے، محمد سرور کے مقابلے میں انکے ارد گرد جو منڈلی ہوتی ، اس میں کوئی پڑھا لکھا بھی ہوتا، برکت مارکیٹ کا منیاری والااور ڈیوس روڈ کا ٹریول ایجنٹ تو نہ ہوتا۔
 میں جانتا ہوں کہ نقار خانے میں طوطی کی کوئی نہیںسنتااور وہ بھی اس وقت جب ممنون حسین یہ کہہ رہے ہوں کہ وزیر اعظم کو اختیار حاصل ہے کہ کسی جونئیر تریں جنرل کو بھی آرمی چیف بنا دیں ، محترمہ بے نظیر نے بھی کہا تھا کہ وہ چاہیں تو جہانگیر بدر کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کردیں۔ انہوں نے ایک ریٹائرڈ جرنیل کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنانے کا شوق پورا کر دکھایا تھا۔تو کیا میاں نواز شریف کے پاس اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ عطا کو اس کی وفاﺅں کا صلہ دے سکیں۔
ویسے ممنون حسین یہ تو بتا دیں کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائر منٹ کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کسے بنائیں گے۔ کیایہاں بھی جونئیر ترین کا فارمولہ لاگو کر سکیں گے۔