خان صاحب جان دیو،کے پی کے ول دھیان دیو!

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ

جاوید ہاشمی کہتے ہیں کہ عمران خان کا عدالت سے معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔ ہاشمی صاحب نے میاں نواز شریف کو اپنا لیڈر کہا تو تحریک انصاف میں ”کھپ “پڑ گئی۔ عمران خان نے ان بزرگ رہنماءکی عمر اور تجربہ کا بھی احترام نہ کیا اور انہیں معافی پر مجبور کیا انہیںمیڈیا کے سامنے اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ہاشمی صاحب سے ایسا کیا ”شرمناک“ جرم سر زد ہو گیا تھاکہ انہیں ”نوجوانوں“ سے معافی مانگنا پڑی۔ ہاشمی صاحب نے بے بسی میں جب یہ کہا کہ میاں نواز شریف کو لیڈر کہنے پر ان کے اپنے گھر والے بھی ان سے ناراض ہیں تو یقین جانئے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔اور دوسری طرف عمران خان ہیں کہ عدلیہ کو ”شرمناک“ کردار کی گالی دی مگر معافی نہ مانگنے پر بضد ہیںاور سادہ لوح بزرگ جاوید ہاشمی ان کے موقف کا دفاع کر رہے ہیں ۔تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ خان کسی کے سامنے نہیں جھکتا ،ہمارا لیڈراکڑ کر عدالت میں گیا اور جان کیری کے سامنے بھی اکڑ کر بیٹھا ۔ اس سے ہمیں پچاسی سالہ ریٹائرڈ کرنل صاحب کا واقعہ یاد آگیا ۔مرحوم کرنل صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دینی جماعت سے منسلک ہو گئے، بڑھاپے میں بھی دونوں ہاتھ پشت کے پیچھے باند کر اکڑ اکڑ کر چلا کرتے تھے۔ایک بار کسی گستاخ نے کہہ دیا کہ کرنل صاحب ہمیں تو عجزو انکساری کے وعظ دیتے ہیں اور خود اس بڑھاپے میں بھی اکڑ کر چلتے ہیں جبکہ اللہ کی زمین پر اکڑ کر چلنے والے کو متکبر کہاگیاہے۔ہم نے یہ بات قبلہ کرنل مرحوم تک پہنچادی تو بولے ’میری ریڑھ کی ہڈی کا اپریشن ہوا ہے،کمر میں بہت درد رہتا ہے ،اس لئے چلنے میں تکلیف ہوتی ہے لہذا دونوں ہاتھوں سے پشت کو سہارا دے کر سیدھا چلنے کی کوشش کرتا ہوں“۔جبکہ عمران خان چلتے ہی اکڑ کر ہیں مگر آجکل کمر کی تکلیف کی وجہ سے مزید اکڑکر چلنا ان کی مجبوری ہے۔ امریکی سینیٹر جان کیری کے سامنے صوفے پر بھی اکڑ کر بیٹھنا ان کی مجبوری تھی ورنہ خان صاحب ”متکبر“ نہیں،یہ تو ان کے پارٹی ”لفٹر“ نے انہیں حادثاتی متکبر بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کا ”لفٹر“ اورڈاکٹر طاہرالقادری کا ”کنٹینر“ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ، ان کا ذکر کئے بغیر 2013کے انتخابات کا تذکرہ ادھورا ہے۔عمران خان کے ساتھ عدلیہ کی ناراضی کی وجہ خان صاحب سے عدلیہ کی محبت ہے۔اعتزاز احسن اور علی احمد کرد بھی عدلیہ مخالف بیانات دیتے ہیںمگر عدلیہ ان کا نوٹس نہیں لیتی مگر عمران خان کے ریمارکس سے عدلیہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس کا چیف جسٹس نے برملا اظہار بھی کیاہے کہ عدلیہ کے نزدیک عمران خان کا ایک خاص مقام ہے لہذا ان کی زبان سے شرمناک الفاظ زیب نہیں دیتے۔عمران خان کے مشیران اور منچلے انہیں سلطان راہی بنانے پر مصر ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ عمران خان کا وہ مطلب تھا جو وہ کہہ گئے اور نہ ہی عدلیہ اس بات کو لسی بنانا چاہتی ہے ۔ ہمارا بھی خان صاحب کو یہی مشورہ ہے کہ ”خان صاحب جان دیو،کے پی کے ول دھیان دیو‘۔ابھی کرنے کو بہت کام پڑا ہے،”ہن گَڈی اگے جان دیو “۔الیکشن ہو چکے ،اب آگے دیکھیں ۔دوران الیکشن جن چار جگہوں میں شبہ ہے ،وہاں دوبارہ حساب کتاب کر انے کا مطالبہ درست ہے البتہ عدلیہ کے ساتھ متھا لگانا درست نہیں ۔ عمران خان کو عدالت میں جا کر علم ہو اکہ ”شرمناک“ بھی کوئی گالی ہوتی ہے جبکہ تحریک انصاف کے منچلے عدلیہ اور ناقدین کے خلاف سوشل میڈیا پر جس قسم کی شرمناک زبان استعمال کرتے ہیں ،اس کے سامنے شرمناک لفظ واقعی گالی نہیں۔ عوام نے خان صاحب کو خیبر پی کے کی ذمہ داری سونپی ہے جبکہ دو ماہ کا عرصہ ہو چکا ، ان کی حکومت نے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ڈی آئی خان جیل کے ”شرمناک“ واقعہ نے پاکستان کو پوری دنیا میں شرمندہ کرا دیا ۔اس غفلت کا الزام بھی وفاق پر ڈال دیا گیا جس کے جواب میں رانا ثناءاللہ نے وزیر اعلی کے پی کے کو ”تیلی پہلوان“ کا خطاب دے کر اپنے مسخرہ پن کا ٹیلنٹ پیش کیا۔ الزامات اور شرمناک بیانات کا سلسلہ پہلی حکومتوں کا وطیرہ تھا،اگر موجودہ حکومت کا بھی یہی وطیرہ رہا تو ملکی بحرانوں پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔۔۔آخر میں ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر صاحب کا خط قارئین کی نذر ہے جو میرے گزشتہ کالم ”چیف جسٹس اور آرمی چیف کا انتخاب“ کے جواب میں بھیجا گیاہے۔
محترمہ طیبہ ضیاءچیمہ صاحبہ ! اسلام علیکم ! آپ نے اپنے کالم میںلکھا کہ” ماشا ءاللہ سابق جرنیل اپنی حکومتوں کے حق میں آستین کا سانپ ثابت ہوئے“۔یہ تجزیہ ہر لحاظ سے بے بنیاد ہے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد کے ادوار کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے بری فوج کے آخری کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل گُل حسن سامنے آتے ہیں ، جنہیں صدر ، وزیر اعظم اور سویلئن مارشل لاءایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے تعینات کیاتھا۔ کچھ عرصہ بعد بری فوج کے کمانڈر انچیف کو پر اسرار انداز میں ”اغوا “کیا گیا۔ سارا قصہ جنرل گل حسن کی کتاب میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔اندازہ کیجئے کہ وزیر ِ اعظم اپنے قابل ِ اعتماد ساتھیوں کی مدد سے کمانڈر انچیف کو اغوا کراتا تھا۔ جنرل گل حسن کی جگہ جنرل ٹکا خان کو تعینات کیا گیا۔ کم از کم وہ ” مار ِ آستین “ نہیں تھے ۔ ریٹائیرمنٹ کے بعد مشیر ِ دفاع ، گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی رہے ۔ اب جنرل محمد ضیا ءالحق کا دور آیا ۔ اُن کے مارشل لاءسے پہلے بھٹو صاحب نے بقلم خود کراچی اور لاہور میں مارشل لاءنافذ کیا۔ 1977 کے انتخابات کے بعد سیاسی تنازعات اس حد تک بڑھ گئے کہ 1970ءکے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کے مابین خونی کشمکش کی یاد تازہ ہو گئی ۔ تمام واقعات میں آرمی چیف کے کردار کا غیر جانبدارنہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیاستدانوں کی باہمی کشمکش کے نتیجے میں لاقانونیت ، گھیراﺅ ، جلاﺅ اور غیر یقینی کی سیاست کو فوج پر تھوپ دیا گیا۔جنرل ضیا ءالحق کے بعد جنرل اسلم بیگ ، جنرل آصف نواز ، جنرل عبدالوحید کاکڑ اور جنرل جہانگیر کرامت نے حتی الامکان خود کو سیاسی کشمکش سے دور رکھا۔ لیکن جب سر عام صدر ِ مملکت اور وزیر ِ اعظم تلوار سونت کر آمنے سامنے آجائیں تو آرمی چیف کب تک تماشائی رہ سکتا ہے؟ جنرل آصف نواز اور جنرل عبدالوحید کے پریس رابطہ آفیسر کی حیثیت سے مجھے بخوبی علم ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی حکومت پر ”قبضہ“ کرنے کے آرزومند نہیں تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت انتہائی شریف النفس تھے۔ اُنہیں جس انداز میں استعفی ٰ دینے پر مجبور کیا گیا وہ بھی ایک ایسی تاریخی اور ”جمہوری “ حقیقت ہے۔ جس کی کوئی محب الوطن تائید نہیں کر سکتا ہے، کیا وہ بھی مار ِ آستین تھے؟ اب آتے ہیں میاں نواز شریف صاحب کے” پسندیدہ“ جنرل پرویز مشرف کی جانب ! آپ جنرل (ر)پرویز مشرف کے کم از کم اس جراءت مندانہ اقدام کی داد دیں کہ وہ رضاکارانہ طور پر وطن واپس آئے اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آپ حکومت سے درخواست کریں کہ سابق آرمی چیف کے خلاف مقدمات کی کھلے عام سماعت کا اہتمام کرے تا کہ سیاسی ، عسکری ، قانونی ، اور تاریخی لحاظ سے کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ اور یہ حقیقت بھی واضح ہو جائے کہ آستین کا سانپ کون ہے ؟