جنابِ کائرہ کی۔ ”گائیکی!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

لاہور سے پنجابی اور اردو کی شاعرہ/ادیبہ، محترمہ امینہ عنبریں لِکھتی ہیں۔ ۔۔” اثر چوہان صاحب! ۔ آپ نے یکم اگست کے کالم میں، سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات ،قمر زمان کائرہ کی گائیکی کا، تذکرہ کِیا ۔مَیں نے"Face Book" ۔ پر وہ ویڈیو فلم، دیکھی ہے ۔ جنابِ کائرہ ۔ حضرت میاں محمد بخشؒ کے عظیم شاہکار۔”سَیف اُلملُوک“۔کا شعر گا کر، اہلِ محفل سے داد وصول کررہے تھے۔ گُمان نہیں ہُوا کہ وہ ۔”عطائی“۔ ہیں۔آپ نے وہ شعر ، اپنے کالم میںدرج نہیں کِیا۔ شعر تھا۔۔
”مَیں کوہجی، میرا دِلبر سوہنا،
اَیویں، صاحب نُوں، وڈّیایاں
مَیں گلِیاں دا، رُوڑا کُوڑا،
تے محل چڑھایا ، سائِیاں
آپ شعر کا ترجمہ خُود کریں اور اُس پر تبصرہ بھی کہ، جنابِ کائرہ نے، صِرف یہی ایک خاص شعر کیوں گایا؟“۔
خیر اندیش۔امینہ عنبریں۔ لاہور
0300-4680766
 امینہ عنبریں صاحبہ! عرض یہ ہے کہ، فارسی، ہندی، اردو اور پنجابی کے کئی صوفی شاعروں نے ،خالق اور مالک کے علاوہ رسول، اوتار اور مُرشد(گرُو) کو مرد اور خود کو عورت قرار دے کر ،مخاطب کِیا ہے۔شعر کا ترجمہ ہے۔۔۔”مَیں بد صورت ہوں،لیکن میرا محبوب خوبصورت ۔ یہ صاحب(پروردِگار) کی عظمت ہے، ورنہ مَیں تو گلیوں کے کچرے کی طرح تھی۔ میرے مُرشدوں نے مجھے،محلوں میں رہنے کے قابل بنا دیا“۔ اردو میں کہتے ہیں۔ ”جسے پِیا چاہے وہی سُہاگن“۔ اور انگریزی میں ۔ "Ladie's Luck"۔ایران کی ایک عام لڑکی سے، سابق شہنشاہ ایران، محمدرضاشاہ پہلوی نے، شادی کر لی تو وہ، ملکہ فرح دِیبا کہلائی۔ سیاست میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو، صدر سکندر مرزا اقتدار میں لائے اور جنرل ایوب خان نے، انہیں پروان چڑھایا۔ پھر بھٹو صاحب خُود ۔پارس ۔بن گئے اور جو کوئی اُن سے ، چھُوگیا۔ سونا بن گیا۔ میاں نواز شریف ، جنرل غلام جیلانی کی دریافت تھے ۔ جنرل ضیاءالحق نے اُنہیں کُندن بنا یا۔ میاں صاحب نے، بھی کئی سیاسی کارکنوں کو۔"Super Stars"۔ بنا دیا۔ میرا ایک شعر ہے۔۔
 ” ہمارے حُسنِ نظر کی، کرشمہ سازی ہے
 کہ جِس کو، پیار سے دیکھا، وہ بے مِثال ہُوا“
بھٹو صاحب نے، پیپلز پارٹی بنائی تو، ایک غیر مُلکی صحافی نے، پوچھا۔”آپ کی پارٹی میں آپ کے سِوا کوئی، اہم سیاستدان نہیں ہے؟“۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ۔”مَیں سب کو اہم سیاستدان بنا دُوں گا“۔بھٹو صاحب ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور پھر ،صدر زرداری نے ،بہت سے لوگوں کو ۔”اہم سیاستدان“۔ بنا دیا ۔جناب قمر زمان کائرہ کو بھی۔ کائرہ صاحب۔ ”گُجر“۔ ہیں۔گُجربرادری۔ اپنا تعلق۔ وِشنو دیوتا کے اَوتار۔ شری کِرشن جی کے قبیلے سے ،بیان کرتی ہے ۔ شری کرشن جی کا ایک صفاتی نام ہے۔ ” مُرلی دَھر“۔ ( بانسری والا) ۔ شری کرشن جی۔” برِندر ابن“۔ میں ،بانسری بجاتے اور گاتے تھے اور اُن کے ساتھ گوپیاںناچتی تھیں۔ لہٰذا اگر کوئی گُجر۔ سُر ۔میں ہو تو،حیرت کی بات نہیں۔
 عرصہ ہُوا ،نیشنل عوامی پارٹی سرگودھا کے صدر ،چودھری غلام نبی گام ( گُجر) ۔ہِیر وارث شاہ اور۔” سَیف اُلملُوک“۔ ترنم سے پڑھتے تھے ۔مَیں اور میرے مرحوم دوست ۔تاج اُلدّین حقیقت۔ اُن کی محفل میں ،کافی عرصہ جاتے رہے۔شکر گڑھ کے نامور۔ گُجر۔ سابق وفاقی وزیر چودھری انور عزیز (بلدیاتی نظام کے چیمپئن دانیال عزیز کے والد) سے میری دوستی رہی ہے۔چودھری صاحب، مہمان نوازی میں بے مِثال ہیں ۔ ( مَیں اسلام آباد میں کولھو کا بَیل بن کر،اُن سے دُور ہو گیا )۔ چودھری انور عزیز کو ،فارسی، اردو ، پنجابی اور انگریزی کے ہزاروں شعر یاد ہیں اور وہ ،اُن کا بر محل استعمال بھی جانتے ہیں۔( صِرف دوستوں کے سامنے )۔ پنجابی صوفی شُعراکا کلام گاتے بھی رہے۔  بھٹو دَور میں ،ایک دِن ،بحث کے دوران ،چودھری صاحب، مجھ سے ناراض ہو گئے تو، انہوں نے ، سَیف الملُوک گانا شروع کر دی۔ چودھری انور عزیزکے والد۔ڈاکٹر عبدالعزیز چودھری ۔سِول ہسپتال سرگودھا کے M.S تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ،اُنہوں نے ،سرگودھا ہی میں کلینک کھول لِیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالعزیز ،صحافیوں کا مُفت علاج کِیاکرتے تھے۔اُن کا نظریہ تھا کہ۔”پرتھوی راج چوہان۔گُجر۔ تھا“۔تحریکِ پاکستان کے سکالر، ایک اور ، گُجر دوست(وزیرِ اعظم نواز شریف کے اُستاد) ڈاکٹر صفدر محمود ۔سَیف اُلملُوک گاتے ہیں یا نہیں؟۔یہ اِک راز ہے، لیکن اُن کا بھی اصرار ہے کہ۔پرتھوی راج چوہان ۔ گُجر۔ تھا۔ لیکن میری تحقیق کے مطابق۔پرتھوی راج چوہان ۔” اگنی کُل راجپوت“۔ تھا ،البتہ اُس کی ماں۔گُجر ۔ تھی۔”پاکستان“۔ کا نام تجویز کرنے والے۔چودھری رحمت علی۔بھی ۔گُجر۔ تھے اور ۔”سَیف اُ لملُوک“۔ کے خالق ، حضرت میاں محمد بخش (1831ء۔ 1907ئ) بھی۔ گُجر۔ تھے۔ میاں صاحبؒ کا مزار ۔”کھڑی شریف “۔آزاد کشمیر میں ہے۔ فروری 1978ءمیں ،سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب ،محمد حنیف رامے(مر حوم) کی قیادت میں ،مجھے وہاں حاضری کا ،شرف حاصل ہُوا۔
مَیں دسمبر2009ءمیں۔ حضرت خواجہ معین الدّین چشتی کی بارگاہ میں، حاضری کے لئے اجمیر شریف گیا۔پھر دہلی میں ،22خواجگان کے درباروں میں حاضری دی۔ دہلی میں۔A.P.P کے بیورو چیف، نعیم چودھری، مجھے،شری کرشن جی کے قبیلے۔ (یادَو)۔کے وزیر ریلوے۔لالو پرساد یادَو ۔کے گھر لے گئے۔لالو جی، بہت اچھا گاتے اورجی بھر کر، مخالف سیاست دانوں کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو۔گُجر۔ نہیں تھے۔ راجپوت تھے،پھر بھی ،وہ مخالف سیاستدانوں کا کھُل کر مذاق اُڑاتے تھے۔ ایک جلسے میں، اُنہوں نے، شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کا کلام بھی گایا تھا۔ جنابِ کائرہ نے، ٹی ۔وی ۔پر، علّامہ طاہر اُلقادری کی نقلیں اُتاریں پھر ایک۔” بھرپور جپھّی“۔ ڈال کر اُنہیں منا لِیا۔مَیں کائرہ صاحب سے ،کبھی نہیں مِلا ،لیکن چاہتا ہُوں کہ۔کوئی، اُن سے، میری دوستی کرا دے ، بشرطِ کہ جنابِ کائرہ جِس محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں، مجھے بھی ساتھ لے جایا کریں۔مَیں ثابت کر دُوں گا کہ، مَیں بہت ہی۔با ذوق۔”داددہِندہ“۔ ہُوں۔