اوڑھا گھونگھٹ تیرے نام کا....؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

دیکھ رہا ہے ان کو جنہوں نے تیرے نام کا گھونگھٹ اوڑھا.... دنیا سے وقتی طور پر منہ موڑا اور مساجد میں معتکف ہو گئے.... تیرے نام پر‘ تیری خوشنودی کے لئے تیرے حوالے سے‘ تیرے وعدے کا اجر کثیر لوٹنے کے لئے.... تو نے بھی تو ثواب دارین کی لُوٹ سیل رمضان مبارک ہی میں لگا رکھی ہے.... اور فلاح کے اک اک قدم کے ساتھ.... اور عبادت کے اک اک سانس کے ساتھ ثوابوں کے تھیلیاں بھر بھر کے لٹا رہا ہے....
تیری خدائی ہے اور بھرے خزانے لٹانے کا تیرا اپنا انداز ہے۔
تو نے کلام پاک میں بار بار کہا۔ مجھے قرض حسنہ.... میں اسے چوگنا‘ دس گنا کرکے لوٹا¶ں گا۔ بھلا کون دے سکا ہے.... تجھے قرضہ‘ کس میں اتنی مجال‘ جو تیری نعمتوں اور راحتوں کے ڈھیر لیکر پیدا ہوا اور لمحے لمحے کا مقروض رہا۔ پھربھی تونے ان سے کہہ دیا۔ قرض حسنہ دو.... تو میں سود در سود لوٹا¶ں گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی....
مگر تو نے دیکھا یہ کون تھے۔ جنہوں نے خوب مال بنایا۔ ملکی خزانے کو زقند لگائی۔ بیت المال کے مال کو غبن کیا۔ ریلوے کا پہیہ چل رہا تھا۔ اس کو زنگ آلود کر دیا ان میں سے بہت سے ایسے تھے جو قرض حسنہ دینے کے قائل تو تھے۔ پر ناجائز منافع خوری کی طرف بھی مائل تھے۔ سڑکیں بنائیں۔ پل بنائے‘ عمارات کھڑی کیں۔ حتیٰ کہ بچوں کے لئے سکول بھی بنائے تو ان کے اندر ناقص مٹیریل ڈال دیا۔ کیونکہ ان کا ارادہ تجھے قرض حسنہ دینے کا تھا۔
انہوں نے غیر ملکی معاہدوں میں کمیشن بنائے۔ انہوں نے ملکی وقار کو ٹھیس پہنچائی۔ کچھ ایسے بھی تھے جو غبن کرکے ملک سے فرار ہوئے لیکن معیشت کو تباہ کر گئے۔ پھر بھی ان کا ارادہ تجھے قرض حسنہ ہی دینے کا تھا۔ جب وہ ایسی اور ویسی فیشن ایبل چوریاں کرکے تجوریاں بھر رہے ہوتے ہیں تو خود ہنس رہے ہوتے ہیں کہتے ہیں ہمیں کون دیکھتا ہے.... ہماری چالاکی کون پکڑ سکتا ہے۔ ہم سے پہلے جو پکڑے گئے وہ احمق تھے.... ہمارا بندوبست ان سے بھی مضبوط ہے....
وہ کہتے ہیں ہم ماہ صیام میں قرض حسنہ دیں گے۔ وہ بھی اس لئے کہ تو خود کہتا ہے کہ میں اسے کئی گنا بڑھا کے لوٹا¶ں گا....
پر مالک انہوں نے حساب کتاب تو صاف کیا نہیں.... تو نے تو ہی کہا تھا کہ میرے نام کا گھونگھٹ اوڑھنے سے پہلے دنیا کے ساتھ اپنے معاملات صاف کرکے آنا....
کچھ ایسے بھی ہیں ان میں جنہوں نے اشیائے خوردنی میں جی بھر کے ملاوٹ کی ہے کیونکہ ماہ صیام میں مانگ بڑھ جاتی ہے۔ رسد میں برکت ڈالنی چاہئے۔ چاہے وہ لکڑی کا برادہ ہو۔ چنے کے کالے چھلکے ہوں۔ بجری کے ذرے ہوں۔ یا مردار جانوروں کی چربی....
توربا! جنہوں نے ماہ صیام میں ناجائز منافع کمانے کے لئے تیرے اصولوں کی نفی کی اور تیرے ساتھ کئے ہوئے وعدوں سے انحراف کیا.... تو رباّ: جب ایسے لوگ بھی تیرے نام کا گھونگٹ اوڑھ کر مساجد میں جا بیٹھے تو ان کا بھی قرض حسنہ اور گر یہ شبینہ قبول ہو جائے گا؟
کچھ تیرے بندے ایسے بھی ہیں کہ صورت تو بالکل متشرع بنا رکھی ہے۔ دکانوں پر احادیث مبارکہ بمع ترجمے کے فریم کرا کے لگا رکھی ہیں مگر تول مول میں جھوک دیتے ہیں۔
تو جب کلام پاک کے اندر اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے تو تیرے بھیجے ہوئے لفظ خود بولنے لگتے ہیں۔ تو نے کہا کہ ڈنڈی مارنے والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ وہ خود تو ناپ تول کر پورا کر لیتے ہیں۔ جب دوسروں کو ناپ کر اور تول کر دیتے ہیں۔ تو گھٹا دیتے ہیں اور ان کے یہ اعمالنامے ان کی کتابوں میں برابر لکھے جا رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اس سے بے خبر ہیں کہ یہ کتاب ایک بڑے دن کے لئے تیار کی جا رہی ہے.... لیکن ان کے لئے تو بڑا دن وہی ہوتا ہے جس دن ناقص سودا بھی بک جاتا ہے۔ اور رات کو منافع سامنے آجاتا ہے.... گلے سڑے پھل پر چمکدار سٹکر لگا دیتے ہیں۔
اعمالنامہ ہوتا کیا ہے۔ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا یا پشت کے پیچھے سے
جب حشر کا وقت آئے گا اس وقت دیکھا جائے گا
پھر تُو نے بار بار اپنی کتاب میں کہا حرمت والے مہینوں میں دنگا فساد نہ کرنا.... ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا۔ شہر حرام یعنی ماہ رمضان میں انسانیت سوز فعل سرزد نہ کرنا.... مگر یہ کون ہیں تیرے بندے صورتیں بھی شرعی بنا رکھی ہیں۔ سروں پر دستاریں بھی ہیں۔ ماتھے پر کلمے کی پٹی بھی جما رکھی ہے مگر روزہ داروں پر بم برسا رہے ہیں۔ خود کش حملے کروا رہے ہیں۔ گھروں کے چراغ بجھا رہے ہیں.... تو کیا تیرے نام کا گھونگھٹ اوڑھ کر یہ بھی مساجد میں جا بیٹھیں گے.... اور کیا تو ان کے اعمالنامے صاف کر دے گا۔ جو سارے بازاروں میں بیٹھے ہیں۔ کاروباروں میں بیٹھے ہیں۔ یہ سارے حلالاً طیباً کے معنی جانتے ہیں ہیں۔ تو نے ان سے پوچھا کبھی؟
اچھا یہ تو بتا¶ قرض حسنہ کس کمائی میں سے قبول کرے گا۔ ان کی کمائی میں سے جنہوں نے زمینوں پر ناجائز قبضے کرکے مہنگے پلاٹ فروخت کئے اور پھر مسجد بھی بنا دی۔
یا ان کی کمائی میں سے جن کے کارخانوں میں باقاعدہ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ ظالم لوگ بچوں کے بسکٹوں میں‘ بچوں کی چاکلیٹ میں‘ بچوں کے دودھ میں بھی ملاوٹ کرتے ہیں۔ مگر کسی یتیم خانے کو چندہ دے دیتے ہیں کسی مسجد میں افطاریاں کرا دیتے ہیں۔
وہ اپنے تئیں تیرا گھونگھٹ اوڑھ کے تیرے ساتھ سارا حساب صاف کر لیتے ہیں۔ وہ مکر کرتے ہیں اور تجھے نہیں جانتے....
اسی ملک میں کئی ایسے بھی ہوں گے جن کے پاس سحری کے وقت کھانے کو کچھ نہ ہو گا۔ افطاری کے وقت پینے کو کچھ نہ ہو گا۔ اور غیرت وفا ہاتھ پھیلانے کو روکتی ہو گی اور کہاں سے آئے گا کوئی عمر خطاب جیسا تیرا بندہ جو راتوں کو بھیس بدل کے کوچہ کوچہ لوگوں کا احوال معلوم کرنے نکلے گا....
یہاں تو جنہوں نے بھیس بدل رکھا ہے۔ وہی نقب لگا رہے ہیں۔ وہی آواز لگا رہے ہیں۔ وہی نقارہ بجا رہے ہیں۔
گیارہ مہینے کی بُری عادتیں‘ بری خصلتیں‘ اخلاقی قباحتیں‘ بھلا تیرا بندہ ایک مہینے میں چھوڑ سکتا ہے ایک مہینہ جو چشم زدن میں گزر جاتا ہے۔
تو نے تو سمجھا تھا کہ یہ اپنے دل کا فرش چمکائیں گے۔ معدے کے در و دیوار پر سے پرانا پلستر اتاریں گے۔ نفس کے جالے اتاریں گے۔ زبان کی ناپاکیاں رزق حلال سے پاک کریں گے۔ تن کی سیاہی دھوئیں گے۔ من کے داغ اجالیں گے.... دونوں ہاتھوں سے آسمان کے کناروں سے لپٹنے کی کوشش میں توبہ کا شعار اختیار کریں گے۔
پھر بھی تیرے بندوں نے تیرے نام کا گھونگھٹ کاڑھا ہے.... ان کے دل میں چھپے چور پر نہ جا.... بس ذرا کی ذرا یہ ہیرا پھیری سے باز آیا ہے.... .... اور تو بھی کہتا رہتا ہے باز آ باز آ‘ ہر آنچہ مستی باز آ....
اور ہمارے میٹھے بابا جی کہتے ہیں
جاگ فریدا ستیا وے تو جھاڑو لا مسیت
تو ستا رب جاگدا وے تیری ڈاڈھڈے نال پریت