پنجاب اور پنجاب یونیورسٹی کا مستقبل

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

برادرم شعیب بن عزیز نے بتایا ہے کہ ترک صدر عبداللہ گل کے دورہ لاہور کے د وران شہباز شریف نے اردو میں خطاب کیا۔ میں نے لکھا تھا کہ ترک صدر ترکی میں تقریر کرتے ہیں مگر پاکستان کے حکمران انگریزی میں۔ شہباز شریف پنجابی اور انگریزی کے علاوہ بھی کئی زبانیں جانتے ہیں۔ وہ ترکی کے ساتھ ایک تعلق خاطر ذاتی طور پر محسوس کرتے ہیں۔ ترک صدر نے جاتے ہوئے ان کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں لاہور نہ آتا تو میرا دورہ پاکستان مکمل نہ ہوتا۔ انہوں نے توانائی کی مشکلات میں پاکستان کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی اس سے پہلے ایران سے بھی ایسی ہی پیشکش پر پاکستان بے بس ہے۔ وہ امریکہ کی اجازت کے بغیر کسی سے امداد بھی نہیں لے سکتا۔ اور امریکی امداد نے پاکستان کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ ترک صدر کے دورہ لاہور کے موقع پر انتظامیہ نے شہر کا جو حشر نشر کیا اس سے شہباز شریف آگاہ ہوں گے۔ اس پر کئی دوستوں نے کالم لکھے ہیں۔ کیا اس بارے میں انہوں نے لوگوں کی تکلیف کے لئے افسران بالا سے پوچھا ہے۔ افسران بالا اصل میں افسران تہہ و بالا ہیں۔ اس ملک کی بیوروکریسی دنیا کی بہترین بیورو کریسی ہے۔ وہ چاہے تو اس ملک کا مقدر بدل سکتا ہے اب ناظم کی بجائے ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ایڈمنسٹریٹر بیورو کریٹ ہیں تو پھر یہ کیا ایڈمنسٹریشن ہے؟ اختیارات اور فنڈز کی فراوانی کے باوجود کیوں کچھ نہیں کیا جاتا۔ شاید سیاستدان اس بارے میں نہیں جانتے یا وہ جاننا نہیں چاہتے۔ شہباز شریف کے لئے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بیورو کریسی سے کام لے سکتے ہیں تو پھر یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں یہ بات دردمندی سے کر رہا ہوں کہ شہباز شریف وہ نہیں ہے جو پچھلے دور میں تھا۔ یہ بات شاید شہباز شریف کو کسی نے نہیں بتائی۔ یہ بات انہیں کوئی نہیں بتا سکے گا۔ اس لئے وہ خود اپنے آپ کو بتا دیں۔ پنجاب کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔
شعیب بن عزیز ایک اہل اور اہل دل سیکرٹری اطلاعات ہے۔ اس کا کام خبریں دینا ہے۔ خوشخبری دینا جن افسروں کا کام ہے انہیں شہباز شریف جانتے ہیں۔ چینی آٹا کے بحران میں انہوں نے کیا معرکہ مارا ہے۔ بجلی تو وفاقی بیورو کریسی کا کام ہے مگر یہ اوپر نیچے ایک ہیں۔ افسر کو بہرحال کمٹڈ ہونا چاہئے۔ وہ ڈی جی پی آر کے طور پر ہر دور میں بہترین تھا۔ وہ ادبی شخصیت کا مالک ہے۔ ایک انوکھا شاعر ہے۔ اپنی بہترین شاعری کو بچا بچا کے اور چھپا چھپا کے رکھنا اس کا ذوق و شوق ہے۔ کبھی کبھی اپنے شعر سنا کے خود زیادہ مزا لیتا ہے۔ چند مہینوں میں وہ ریٹائر ہو رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ اسے ایکسٹنشن نہ مل جائے!۔ یہ واقعہ ہوا تو یہ ایک سانحہ ہو گا اس کی ضرورت ہمیں اب زیادہ ہے۔ ڈی جی پی آر کے طور پر روف حسن آجکل صحافیوں کے ساتھ دوستوں کی طرح معاملات چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ وہی افسر اطلاعات گزارا کر سکتا ہے جو افسر نہ ہو۔ محی الدین وانی بھی اچھا تھا لگتا افسر کی طرح تھا مگر افسر نہ تھا۔ کبھی وہاں طاہر جمیل بھی تھا کچھ تو ہے کہ ایک معروف صحافی کے بیٹے دانشور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے اسے پنجاب یونیورسٹی کے لئے منتخب کیا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آجکل لوگ پنجاب یونیورسٹی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی خواہش کرنے لگے ہیں۔ پچھلے دنوں وہاں مجید نظامی نظریہ پاکستان کی خوشبو لے کے گئے تھے۔ اب خود ڈاکٹر مجاہد کامران نے مجید نظامی سے بات کی وہاں ایک طلبہ تنظیم کے لڑکوں نے ایک پروفیسر کو زدوکوب کیا ہے۔ ڈاکٹر افتخار بلوچ‘ مخدوم گیلانی کے ہوسٹل فیلو ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے اسلامی کے طلبہ نے اپنے پانچ ساتھیوں کو یونیورسٹی سے نکالے جانے کا غصہ اپنے استاد پر نکالا۔ انہوں نے وی سی کے دفتر کے شیشے توڑ دئیے۔ عام لوگوں اور طالب علموں کے طرز احتجاج میں فرق ہونا چاہئے۔ عمران خان ذاتی طور پر افسوس کیلئے پروفیسر بلوچ سے ملا ہے۔
کسی زمانے میں پنجاب یونیورسٹی پر اسلامی جمعیت طلبہ کی حکومت تھی۔ سٹوڈنٹس یونین پر پابندی ہے۔ کچھ سکون ہوا ہے۔ ورنہ متبادل انتظامیہ نے بدنظمی کی حد کر دی تھی۔ طلبہ تنظیموں پر پابندی سے مزید سکون آ جائے گا۔ میںاس پابندی کے اتنا حق میں نہیں ہوں مگر مخالف بنانے میں خود ان کا حصہ زیادہ ہے۔ کراچی یونیورسٹی پر جمعیت کی بجائے اب مہاجر یا متحدہ سٹوڈنٹس موومنٹ کا راج ہے۔ مہاجر ہوں یا متحدہ ہوں۔ ایم کیو ایم ہی رہیں گے۔ اس وقت ایم کیو ایم کی ساری قیادت یہیں سے گئی ہے۔ الطاف حسین نے یہاں ماریں کھائیں اب اس صبر کا پھل کھا رہے ہیں۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن علامہ اقبال کی ہدایت پر حمید نظامی نے امجد حسین کے ساتھ مل کر بنائی تھی۔ پہلے سٹوڈنٹس صدر حمید نظامی تھے یہ کون بتائے گا کہ انہیں استعفیٰ کیوں دینا پڑا تھا۔ بہرحال ایم ایس ایف کی کوششیں قیام پاکستان میں نمایاں ہیں۔ قائد اعظم نے ان طلبہ کو پسند کیا اور ان کے لئے تعلیم کی لگن کو زیادہ پسند کیا۔ پاکستان بننے کے بعد ایم ایس ایف نے بھی غنڈہ گردی کی انتہا کر دی۔ ایم اے او کالج ان کی راجدھانی تھا۔ آج بھی نعرے مارنے اور کسی کو جوتیاں مروانے کا کام انہی سے لیا جاتا ہے۔
بھٹو کی محبوبیت کے بعد پیپلز پارٹی والوں کو پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی سٹوڈنٹس کی کئی تنظیمیں وجود میں آئیں اور ان میں سٹوڈنٹس کے علاوہ بھی لوگ تھے جو پندرہ پندرہ سالوں سے سٹوڈنٹس تھے۔ اس میں کاروبار اور کرپشن کو فروغ ملا۔ ان تنظیموں کی اہمیت سے انکار نہیں مگر ان کو اپنے ہونے کا جواز مثبت طریقے سے ثابت کرنا چاہئے۔ اس وقت جماعت اسلامی کی ساری قیادت اسلامی جمعیت طلبہ کی مرہون منت ہے۔ قاضی حسین احمد کے علاوہ منور حسن‘ لیاقت بلوچ‘ فرید پراچہ‘ حافظ ادریس‘ امیر العظیم اور جاوید ہاشمی۔ احسن اقبال نے مسلم لیگ کو جماعت اسلامی سمجھ لیا ہے۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے سرتاج عزیز‘ شیخ رشید اور خواجہ سعد رفیق کے علاوہ فوجی قیادت میں مرزا اسلم بیگ‘ ناصر اقبال خان، جوانوں کے گروپ میں اور صبا صادق عورتوں کے ونگ میں ہیں۔ مولانا عبدالستار خان نیازی بھی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں قائداعظمؒ کے سپاہی تھے۔ پھر اپنی جماعت بنائی وہ مسلم لیگ میں رہتے تو اچھا ہوتا۔ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے پرویز رشید اور راجہ انور نمایاں ہوئے لیکن پھر شریف برادران کے سائے میں آ گئے۔ رضا ربانی‘ جہانگیر بدر‘ حاجی چن‘ عبدالقادر شاہین‘ رانا آفتاب کے علاوہ بھی کچھ لوگ ہیں مگر بھٹو صاحب کہاں سے آئے تھے۔ اب طلبہ تنظیمیں سیاستدانوں کی اکیڈمی نہیں‘ غیر سیاسی مورچہ ہیں‘ تعلیمی اداروں سے سیاست کا گند ہٹا دینا چاہئے۔ ذہن میں رہے کہ ہمارا مستقبل جوانوں کے ہاتھ میں ہے۔!