صحت مند و توانا آئین؟

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

کہاں سود ہے؟ سب زیاں‘ ہو رہا ہے
غم زندگی جاوداں ہو رہا ہے
وہ کہتے ہیں بانٹیں گے لوگوں میں خوشیاں
ابھی صبر کا امتحاں ہو رہا ہے
کہیں منزلوں کا نشاں تک نہیں ہے
مسلسل سفر‘ رائیگاں ہو رہا ہے
قلعہ بند و محفوظ ہیں سب محافظ
ہر اک راستہ بے اماں ہو رہا ہے
کھڑے ہیں پریشاں وہاں رہنما سب
جہاں منتشر کارواں ہو رہا ہے
جو منشور تھا روٹی کپڑے مکاں کا
وہ بھولی ہوئی داستاں ہو رہا ہے
جو آئین تھا گمشدہ وہ ملے گا
ابھی اس کا حلیہ بےاں ہو رہا ہے
کہاں جائے گی قوت حکمرانی
کہ بے دست و پا حکمراں ہو رہا ہے
کوئی تیسری بار آئے نہ آئے
جو پنہاں تھا مقصد عیاں ہو رہا ہے
ابھی ٹھہرے پانی میں ناو نہ ڈالو
کہ پربت سے دریا رواں ہو رہا ہے
بہاریں کہیں دور سہمی کھڑی ہیں
گلستاں میں رقص خزاں ہو رہا ہے
کبھی عدل ہوتا نظر آسکے گا
ابھی سے نہ پوچھو کہاں ہو رہا ہے
جلا لو نئی ایک شمع جلا لو
کہ پہلی کا شعلہ دھواں ہو رہا ہے
ہماری زمیں ہم پہ کیوں تنگ ہو گی
کہ نزدیک تر آسماں ہو رہا ہے
وڈیرے سے نپٹے گا دہقاں کا بیٹا
جو بھوکا پیاسا جواں ہو رہا ہے