انسانیت آپریشن تھیٹر میں

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ترناب فارم پشاور کا ڈائریکٹر ڈاکٹر قریشی گھر سے پشاور کے لئے روانہ ہوا ائرپورٹ سے پہلے گاڑی کو حادثہ پیش آ گیا شدید زخمی ڈاکٹر قریشی کو جنرل ہسپتال لے جایا گیا جس کا سربراہ ملک کا ہی نہیں بیرون ملک کا بھی ایک شہرت یافتہ ڈاکٹر ہوتا تھا ڈاکٹر قریشی معالج ڈاکٹر کی شہرت کی تاب نہ لا سکا اور اس جہاں سے رخصت ہو گیا اس کی بیوی نے ڈاکٹروں کی غفلت کا معاملہ اٹھایا اور عدالت سے رجوع کر لیا گورنر پنجاب جنرل سوار خاں نے آرمی میڈیکل کور کے ماہرین کو تحقیق کے لئے بلا لیا انہوں نے Criminal Negligence کی رپورٹ دی۔ ڈاکٹر قریشی شوگر کا مریض تھا، ماہرین نے نہ پوچھا نہ چیک کیا کرایا اور ایسے ٹیکے لگائے دوائیاں دیں جو شوگر کے مریض کو قبر پہنچانے کا سبب بن گئیں میں نے خبر دیدی بہت شور مچا کہ اتنا بڑا ڈاکٹر ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ دھمکیاں بھی آئیں، اعلیٰ قسم کی دھمکیاں۔ اصول یہ ہے کہ ایسے معاملے میں ثبوت محفوظ رکھو ۔ہم نے آرمی میڈیکل کور کی رپورٹ کی مزید تفصیلات کا حوالہ دے دیا عدالت میں مقدمہ چلا۔ نامی ڈاکٹر کو بہت ہی بھاری رقم ادا کرنی پڑی تھی مرحوم کی بیوی کو۔ اگر کوئی عام بندہ غریب غرباءہوتا تو کر سکتا تھا اتنے شہرت پرست اور اس کے پروانوں کا مقابلہ ؟ مرحوم کا بھائی احسن جو بعد میں پاکستان بنکنگ کونسل کا سربراہ بنا تھا اس وقت لاہور میں اعلیٰ عہدے پر تھا اور کیس کی پیروی کرتا رہا تھا۔ بیڈن روڈ کے ایک مشہور دکاندار نے شہر کے سب سے مشہور زنانہ ہسپتال کی ملک کی بہت ہی مشہور گائنی ڈاکٹر کے خلاف کیس کر دیا کہ اس کی غفلت اور بروقت آپریشن نہ کرنے کی وجہ سے اس کی بیٹی معذور پیدا ہوئی ہے وہ بھی مقدمہ جیت گیا تھا لیکن اس بچی کی معذوری تو دور نہیں ہو سکی تھی۔ 19 فروری 1991ءکو میری بائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا تھا جس کمرے میں آپریشن کے بعد مجھے رکھا گیا اس سے ملحق کمرے میں ایک خوبصورت لڑکا کئی سال سے بیہوش پڑا تھا اس کی بوڑھی والدہ صبح آ جاتی تھی دن بھر بے ہوش بیٹے کے پاس بیٹھی رہتی تھی اس کے چہرے کی طرف دیکھتی اور اپنی آنکھیں پونچھتی رہتی۔ گوجرانوالہ سے روزانہ آ نہیں سکتی تھی لاہور میں کہیں کرائے کی کٹیا کے اور رہائش کے اخراجات ادا کرتی فاقہ کش ماں۔ ہسپتال سے آ جانے کے بعد میں کبھی کبھی اس بیہوش لڑکے کو دیکھنے اور اس کی والدہ سے ملنے جایا کرتا تھا آخری بار ہسپتال گیا تو معلوم ہوا کہ پورے گیارہ سال بیہوش رہنے اور اپنی والدہ سے کوئی بات کئے بغیر وہ نوجوان اپنے خالق مالک حقیقی کے پاس پہنچ گیا تھا وہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا طالب علم تھا یونیورسٹی جاتے ہوئے موٹر سائیکل کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کرنے کے لئے بیہوش کیا اور وہ پھر کبھی بھی ہوش میں نہیں آ سکا تھا۔ انستھیزیا بہت زیادہ دیدیا گیا تھا اس بے چارے کو۔ ایک بہت ہی مشہور شخصیت کا بائی پاس آپریشن ہوا بہت ہی بڑے ہسپتال میں۔ واپس آئے تو میں ان کے گھر گیا انہوں نے بتایا کہ دل کا معاملہ تو ٹھیک جا رہا ہے لیکن دل کو سینے کے لئے ان کی ٹانگ سے جہاں سے کوئی چیز نکالی گئی تھی ماہرین وہ زخم سینا بھول گئے تھے اور وہ سیپٹک ہو گیا ہے۔ بلوچستان سے سینٹ کے رکن سرمد ڈوگر کا لاہور کے کارڈیالوجی ہسپتال میں بائی پاس آپریشن ہوا۔ سردار یعقوب ناصر بلوچستان سے آئے ڈاکٹروں نے ملنے نہ دیا اگلے روز اتوار تھا میں انہیں ملانے لے گیا تو ڈیوٹی پر نوجوان ڈاکٹر نے کہا ”ڈوگر صاحب کسی کو نہ بتانا آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے دل کے آپریشن سے پہلے جو چیزیں چیک کی جانا لازم ہیں ان میں گردن کی وہ نالیاں چیک کرنا بھی شامل ہے جو دماغ کو خون پہنچاتی ہیں کہ ان میں کوئی رکاوٹ تو نہیں پیدا ہو رہی ماہرین نے وہ نالیاں چیک نہیں کی تھیں۔ نالیوں میں خرابی کی وجہ سے آپریشن کے بعد سے دماغ کو خون کی سپلائی بند ہے مریض نے بچنا نہیں“ سرمد انیس دن بیہوش رہنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگیا تھا میں ذاتی مصائب اور مسائل کے ذکر سے ہمیشہ پرہیز کرتا ہوں لیکن ایک حوالہ اس لئے کہ شاید کسی کے کام آ جائے میرے دفتر میں ایک لڑکے کی صحت کمزور ہوتی جارہی تھی چہرہ پیلا پڑ گیا تھا اپنی عادت سے مجبور میں اسے یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ تم اپنا ہیپاٹائٹس کا چیک کراو ایک دن میں نے اپنے دو عزیز نوجوان وکیلوں کو بلوایا انہیں بھی نہیں بتایا کہ معاملہ کیا ہے ”چلو اپنا ٹیسٹ کرائیں ہیپاٹائٹس عام ہو رہا ہے“۔ مسجد شہدا کے پاس شوکت خانم ہسپتال کا خون لینے کا اڈہ تھا ہم چاروں نے خون دیا باقی تینوں کی رپورٹ تھی کہ تم بالکل ٹھیک اور میری رپورٹ میں لکھا تھا کہ تم ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہو چکے ہو میں نے علاج کے لئے ڈاکٹر شفیق سے رجوع کیا اس نے کہا مزید ٹیسٹ ضروری ہے آغا خان ہسپتال خون بھجوا دیا آٹھ روز میں رپورٹ آنا تھا ایک روز پہلے رات کو آغا خان ہسپتال سے ٹیلی فون آیا کہ ہمیں تو ہیپاٹائٹس سی کی کوئی علامت نہیں مل رہی تمہارے خون میں مزید ٹیسٹوں کے لئے مزید وقت چاہئے۔ رپورٹ آئی تو اللہ کے کرم سے بالکل Clear تھی یہ دس گیارہ سال پہلے کا حادثہ ہے ایسے تجربات لکھوں تو ایسی ایسی چیزیں سامنے آئیں گی کہ انسانیت کے آپریشن تھیٹر میں دم توڑ دینے پر یقین کرنا ہی پڑے گا۔ خود ڈاکٹروں کو بھی۔ کافی پہلے ہم نے اسی سلسلے میں نوائے وقت میں ”پڑھئیے گر بیمار“ کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ ڈیوٹی میری تھی وہ رپورٹیں فائلوں میں محفوظ ہیں بہت ہی پریشان کرنے والی صورت احوال کی رپورٹیں۔ اگر کہیں کوئی بندہ قتل ہو جائے تو جس بھی کسی پر قتل کا الزام ہو وہ چاہے گا کہ میڈیا والے موقع واردات پر آجائیں؟ خادم اعلیٰ پنجاب کو تو خود اس خدمت بزنس کے سب رازوں کا علم ہے کہ وہ خود اس ہسپتال کو کاروباری بنیادوں پر چلاتے رہے ہیں جس کا افتتاح انہوں نے باوردی آمر محمد ضیاءالحق سے کروایا تھا ہم تو نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے اپنی کاروباری برادری کا ساتھ دیا ہے مگر ان میڈیا والوں کا قصور کیا تھا جنہیں مارا گیا تھا جناح ہسپتال میں ؟ کالم لمبا ہوگیا ہے اور باتیں بہت ہیں شریفین کی جمہوریت اور انصاف پسندی کی لمبی داستان کی مانند۔