گیاری کے شہدا کو سلام

 سلام گیاری کے شہدا کے لئے
جنرل کیانی جاتے جاتے قوم کو رلا کیوں رہے ہیں
ہم تو گیاری کے سانحے کو بھول گئے تھے
نہیں ہم رو نہیں رہے، ہمارا تو سینہ فخر سے تن گیا ہے
ہماری آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہمارے چوڑے چکلے سینوں پر موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہیں، شجاعت کے تمغوں کی طرح دمک رہے ہیں۔
جنرل کیانی نے جاتے جاتے قوم کی جھولی اس احساس تفاخر سے بھر دی ہے
گیاری کے شہدا کا نغمہ ہمارے قلب و ذہن کو نئے جذبوں سے معمور کر رہا ہے
ہم سردہوا کے باسی ہیں
 ہم شہید بھی ہیں ، غازی بھی ہیں
ہم چھوڑ گئے ، دم توڑ گئے
ہم برف کی چادر اوڑھ گئے
ہم بیٹے ،باپ اور بھائی بھی
منا، انکل ، ماہی بھی
ہم کرنل ، کیپٹن ، میجر بھی
حوالدار، نائک، سپاہی بھی
بابا کی آنکھ کے تارے بھی
ہم ماں کے راج دلارے بھی
جب برف سے اٹھائے جائیں گے
ہم جلد ہی ملنے آئیں گے
یہ جذبات ہیں ننھی مریم تنویر کے جن کے عظیم والد لیفٹننٹ کرنل تنویر الحسن گیاری سیکٹر میں نمبر چھ لائٹ انفنٹری بٹالین کی قیادت کرتے ہوئے 140 جانبازوں کے ساتھ سات اپریل دو ہزار بارہ کو ایک مہیب برفانی تودے تلے دب کر شہادت سے سرفراز ہو گئے تھے۔
شہادتوں کا سفر بدر کے پتھریلے میدان سے شروع ہواا ور کربلا کی پیاسی زمین سے ہوتا ہوایہ تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع گیاری میں ابھی تمام نہیں ہوا۔
سال سوا سال قبل یہ سانحہ رونما ہوا تو کسی کو امید نہ تھی کہ ان شہدا کے جسد خاکی کی تلاش کا خیال انسانی ذہن میں بھی آ سکتا ہے، گلیشیئر ایک میل چوڑا اور کئی سو فٹ گہرا تھا اور سفاک تریں ہوائیںکسی کا قدم ٹکنے نہیں دیتی تھیں ، پہلا بلڈوزر وہاں پہنچا تو برفانی تودے کے سامنے اس کی مثال ماچس کی ڈبیا کی سی تھی، دنیا بھرکے ماہرین نے مایوسی کاا ظہار کیا مگر جس باپ کے بچے ہزاروں ٹن وزنی برفانی پتھر کے نیچے دبے ہوں ، اس کو کسی پل چین نہیں آ رہا تھا۔ یہ غم زدہ باپ جنرل کیانی تھا جس کا چہرہ بظاہر کسی احساس سے عاری دکھائی دیتا ہے اور جس کی آواز انسانی گلے سے نکلنے کے بجائے کسی روبوٹ کی مشینی آواز سے مشابہت رکھتی ہے، مگر وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا ، بکھر چکا تھا، اسے اپنے فوجی کیریر کا مشکل تریں چیلنج درپیش تھا، میدان جنگ میں شہید کے جسد خاکی کو واپس لانے کے لئے کئی جانیں قربان کر دی جاتی ہیں، جنرل کیانی نے بظاہر ایک ناممکن العمل عزم کا اظہار کیا کہ ہر شہید کو تلاش کریں گے، اسے احترام اور وقار کے ساتھ اس کے عزیزوں کی آنکھوں کے سامنے سپر د خاک کریں گے، اس میں وقت لگے گا، مگر ہم یہ کام مکمل کر کے چھوڑیں گے، گزشتہ روز انہوں نے ایک پروقار تقریب میں اعلان کیا کہ اب تک 133جانبازوں کو تلاش کیا جا چکا ہے، صرف سات شہید باقی ہیں اور ان کی تلاش تک پاک فوج چین سے نہیں بیٹھے گی۔
گیاری سیکٹر سیاچین کا ایک محاذ ہے جہاں 1984 کے موسم بہار میں بھارتی فوج نے جارحیت کر کے چوروں کی طرح قبضہ جما لیا تھا۔پاک فوج ہر سال کی طرح اس بار بھی برفباری کے طوفانی موسم میں نیچے اتر آئی تھی اور بھارت نے اس خلا کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ عوامی تنقید سے بچنے کے لئے اس وقت جنرل ضیا الحق نے کہا تھا کہ سیاچین میں تو گھاس تک نہیں اگتی۔بھارت سیاچین میں کیوں آیا، اس سوال کا جواب اسی سے پوچھا جانا چاہئے، مجھے ایک مرتبہ جنرل بختیاررانا نے بتایاتھا کہ بھارت وہاں سے شاہراہ ریشم کو کنٹرول کرناچاہتا ہے، کسی کا کہنا ہے کہ وہ ان بلندیوں پر حاوی ہو کر گلگت بلتستان کو ہتھیانا چاہتا ہے، کوئی کہتا کہ بھارت آگے بڑھ کر چین اور پاکستان کا زمینی راستہ منقطع کرنا چاہتا ہے، موجودہ وزیر اعظم خواب دیکھ رہے ہیں کہ وہ شاہراہ ریشم کو ایک وسیع تجارتی راہداری میں بدل دیں گے لیکن سیاچین پر بیٹھا ہوا بھارت انہیں اس امر کی ا جازت دے گا، اس کا جواب کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، بھار ت کے اب تک کے طرز عمل کے پیش نظر اس کی عداوت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ برس گیاری کا سانحہ رونما ہوا تو میاںنواز شریف نے کہا تھاکہ اس بلند و بالا مقام پر فوجیں بٹھانے کی کیا ضرورت ہے، پاکستان کو اپنی فوج یک طرفہ طور پر واپس بلا لینی چاہئے، اس سے قبل کہ حکومت یا فوج کی طرف سے کوئی رد عمل آتا ، بھارتی فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اپنی فوج ہٹا بھی لے تو بھارت وہیں موجود رہے گا۔آج میاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم اور سپریم کمانڈر کا درجہ رکھتے ہیں ، وہ سیاچین کا جو بھی فیصلہ کریں ، انہیں اس وقت تک کا انتظار کرنا چاہئے جب تک گیاری سے باقی سات شہدا کے جسد خاکی تلاش کر کے ان کے ورثا کے سپرد نہیں کر دیئے جاتے، وزیر اعظم کسی عجلت کا مظاہرہ نہ کریں اور سات شہیدوں کو بھارت کے سامنے سرینڈرنہ کریں۔
جنرل کیانی نے ڈبڈبائی آنکھوں اور گلو گیرلہجے میں یاددلایا ہے کہ جو قومیں اپنے شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں،وہی ہمیشہ زندہ وتوانا رہتی ہیں۔