چودھری سرور کا .... دورہ گلاسگو!

کالم نگار  |  اثر چوہان

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو کے EMIRATES ARENAکی پرشکوہ عمارت، کسی قدیم رومن سٹیڈیم کی طرز پر بنائی گئی ہے۔ جہاں 2اکتوبر کی شام، اہل گلاسگو نے پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور کے اعزاز میں جشن برپا کر کے، ان سے اپنی 35سالہ رفاقت کا حق ادا کر دیا۔ اہل گلاسگو خاص طور پر یہاں کے ”فرزندان پاکستان“ نے چودھری صاحب کے برطانوی شہریت چھوڑنے اور وطن واپس جا کر پنجاب کی گورنر شپ سنبھالنے کو ان کی ”رونمائی“ قرار نہیں دیا۔ جس طرح بارہ سال تک برندرا بن میں اپنے ساتھ ناچنے والے (ہندوﺅں کے اوتار) شری کرشن جی کو متھرا میں مستقل سکونت اختیار کرنے پر گوکل کے گوپوں (گوالوں) نے بے وفا نہیں کہا تھا۔ گلاسگو سے مسلسل بارہ سال تک اہل گلاسگو کی نمائندگی کرنے والے دارالعوام کے رکن چودھری محمد سرور کو بھی پاکستان کی خدمت کے لئے بخوشی رخصت کر دیا۔ شہری کرشن جی تو گوکل سے رخصت ہونے کے بعد دوبارہ واپس نہیں گئے تھے۔ لیکن چودھری سرور نے تو....
”آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ“
کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ میں اپنے 32 سال پرانے دوستوں ”بابائے امن“ ملک غلام ربانی اعوانی‘ شیخ محمد اشرف، شیخ طاہر انعام اور محترمہ راحت زاہد سے ملاقات کے لئے 4ستمبر کو بھی گلاسگو آیا تھا لیکن 12اکتوبر کی سہ پہر، چودھری محمد سرور کے اعزاز میں منعقدہ جشن میں شرکت کے لئے آیا۔ چودھری صاحب نے 5اگست کو پنجاب کے گورنر ہاﺅس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو وہاں گلاسگو سے ان کی اہلیہ بیگم پروین سرور، دارالعوام میں ان کا جانشین بیٹا چودھری انس سرور اور اس کے دوسرے بھائی بہن اور بہت سے ساتھی اور دوست موجود تھے اور 2اکتوبر کو پنجاب سے کئی احباب اپنے شاید اپنے نئے نویلے گورنر کو واپس لے جانے کے لئے آئے تھے۔ اپنی عادت کے مطابق ملک غلام ربانی اعوان مجھے اور میرے بیٹے سالیسٹر انتصار علی چوہان کو لینے گلاسگو ائر پورٹ پر موجود تھے۔ میں پہلی بار ستمبر 1981ءمیں برطانیہ کے ایک ماہ کے دورے پر سات دن کے لئے گلاسگو آیا تھا.... اس وقت ملک غلام ربانی ”بابائے گلاسگو“ کہلاتے تھے۔ 2005ءمیں انہیں برطانیہ (الزبتھ دوم) کی طرف سے بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے نمایاں خدمات انجام دینے پر MBE کا خطاب ملا تو ”بابائے امن“ کہلاتے ہیں۔
میں جب بھی گلاسگو آیا، میں نے گلاسگو اور اہل گلاسگو کو ”بابائے امن“ کے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں دیکھا۔ چودھری محمد سرور کو بھی چودھری صاحب اور ان کے اہل خانہ ”بابائے امن“ کو اپنا بزرگ مانتے ہیں۔ ”بابائے امن“ 2اکتوبر کی شام کو، گورنر پنجاب کے اعزاز میں جشن کو ”جشن بہاراں“ قرار دے رہے تھے ہوٹل میں سامان رکھنے سے لے کر ”جشن بہاراں“ کے اختتام تک ”بابائے امن“ ہمارے ساتھ تھے، گھمایا پھرایا اور کچھ نئے لوگوں سے بھی ملوایا، ہر کسی کو جشن میں شرکت کی تلقین کرتے ہوئے۔
”جشن بہاراں“ میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے لوگ آئے تھے۔ لیبر پارٹی کے قائدین اور کئی ملکوں کے سفارت کار بھی حتیٰ کہ جناب آصف زرداری کے ”مصاحب خاص“ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر جناب واجد شمس الحسن بھی سٹیج پرتشریف لائے تو چودھری محمد سرور کی شان میں نثری قصیدہ گوئی کی۔ 5اکتوبر کو میاں نواز شریف کو اقتدار سنبھالے چار مہینے ہو جائیں گے۔“ انہیں ابھی تک امریکہ اور برطانیہ میں سفارت کاری کے لئے کوئی ڈھنگ کا سفیر اور ہائی کمشنر ہی نہیں ملا۔ شاید
”اور بھی غم ہیں زمانے میں سفارت کے سوا“
چودھری محمد سرور نے اپنی تقریر میں گلاسگو اور اہل گلاسگو سے اپنی مستقل محبت کا اظہار کیا اور گلاسگو میں اپنے 35سال کے بھرپور دور کی یادوں کو بھی تازہ کیا لیکن ان کا فوکس پاکستان کے مسائل اور ان کے حل پر تھا۔ میں انہیں پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ”برطانیہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب کے روپ میں دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے 11اگست 1947ءکو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قائداعظمؒ کی تقریر کے حوالے سے پاکستان میں اقلیتوں کے لئے سارے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کی بات کی اور ان کے جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی بھی کرائی۔ برطانیہ اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات کو مثالی قرار دیا اور پاکستان میں برطانیہ کے تعاون سے مکمل کئے گئے اور زیر تکمیل منصوبوں کی بات کی۔ مزید تعاون کی درخواست بھی کی۔
ہمارے کچھ سیاستدان، دانشور، اینکر پرسن، صحافی اور تجزیہ کار اکثر اوقات اظہار خیال کرتے رہتے ہیں کہ ”چودھری محمد سرور محض آئینی گورنر ہیں۔ وہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ شریف برادران انہیں اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کر دیں گے۔“ لیکن میری مستقل رائے ہے کہ شریف برادران نے چودھری محمد سرور سے دوستی اور ان کی مادر وطن سے بے پایاں محبت کی وجہ سے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ نہ صرف برطانیہ بلکہ تمام یورپی ملکوں سے سرمایہ کاری، خاص طور پر اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بات گورنر کی آئینی حدود اور اختیارات کی نہیں ہے۔ وطن کی خدمت کے جذبے کی ہے اور شریف برادران کو اس حقیقت کا پورا ادراک ہے۔ چودھری محمد سرور نے میاں نواز شریف کو اپنا قائد تسلیم کر کے ہی برطانیہ کی شہریت چھوڑ کر پنجاب کی گورنر شپ قبول کی ہے۔ ان پر، پنجابی لوک گیت کے اس مصرعے کا اطلاق نہیں ہوتا کہ
”چرخے دی گھوک سن کے، جوگی اتر پہاڑوں آیا“
سٹیج کے اوپر، دائیں اور بائیں سکرینوں پر قائداعظم، میاں نواز شریف کی کلرڈ تصاویر اور قومی پرچم کے سائے میں چودھری محمد سرور نے پاکستان میں پینے کے صاف پانی، شعبہ تعلیم کی جدید طرز پر ترقی اور بے روزگاری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری اور سرمایہ کاروں کے مکمل تحفظ کا وعدہ کیا اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان میں کرپشن بہت ہے اور وہاں اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹوں، مکانوں، دکانوں اور دوسری جائیدادوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور جب وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرتے ہیں تو الٹا ان کے خلاف جھوٹے پرچے درج کر لئے جاتے ہیں، لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت وفاق، چاروں صوبوں اور آزادی کشمیر میں اب ایسا نہیں ہونے دے گی۔
ARENA ہر عمر کے مردوں اور عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ سکھ خواتین و حضرات بھی آل انڈیا کمیونسٹ پارٹی کے (آنجہانی) سیکرٹری جنرل سردار ہرکشن سنگھ سرجیت کے لے پاک بیٹے (مونا سکھ) سردار سوہن سنگھ بھی۔ سنگھ صاحب 5اگست کو گورنر ہاﺅس لاہور میں چودھری محمد سرور کی حلف برداری کی تقریب میں بھی موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اگر چودھری محمد سرور مجھے کہیں تو میں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوں“ چودھری محمد سرور کے سیاسی معاون ملک امیر علی اعوان نے میر بشیر احمد اور ملک ارشاد اعوان سمیت کئی دوسری بزرگ شخصیات سے میری ملاقات کرائی۔ ہر کوئی ”اپنے گورنر“ کی کامیابی کے لئے دعا گو۔ دارالعوام کے رکن چودھری انس سرور نے انگریزی میں اپنی تقریر میں اپنے والد محترم کی گلاسگو، برطانیہ اور پاکستان کے لئے خدمات اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے نیک ارادوں کا تذکر کیا۔ کارروائی شروع ہونے تک ایک گلوکار نے اپنے فن سے محفل کو گرمائے رکھا۔ چودھری محمد سرور پاکستانی شہری کے طور پر آئے تھے، گلاسگو کے دورے پر۔