دورہ نیویارک کی جھلکیاں۔۔۔!

نئی حکومت نے غیر ملکی دوروں میں صحافیوں کی برات کو سرکاری خرچے پر لے جانے سے ہاتھ کھینچا مگرمن پسند صحافیوں کاقیام و طعام اور پروٹوکول سرکاری تھا۔سرکاری مہمان صحافی نے منموہن سنگھ اور نواز شریف کی امن ملاقات کو سبو تاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔میاں نواز شریف پر الزام لگایا کہ انہوں نے آف دی ریکارڈ منموہن سنگھ کو لگائی بجھائی کرنے والی ’’دیہاتی عورت‘‘سے منسوب کیا جبکہ میاں صاحب نے لندن پہنچ کر اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ۔نیویارک کی سرکار نے وی آئی پی صحافی کو مہنگے علاقے کے مہنگے ہوٹل میں ٹھہرایا اور سرکاری گاڑی کی ڈرائیور سمیت سہولت مہیا کی۔امن کی آشا اور بھارتی میڈیا ایک جان دو قالب کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔بھارتی میڈیا کی ایک صحافی خاتون نے ’’دیہاتی عورت‘‘کے ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی سینئر صحافی سے ایسی ’’شرارت‘‘  کی توقع نہیں کی جاسکتی،اس نے برکھا دت کو بھی پھنسوا دیا ہے‘۔وزیر اعظم نواز شریف نے اگر ایسی کوئی بات کہی ہوتی تو وہاں موجود بھارتی صحافی برکھا دت  ’’تیلی‘‘ لگانے میں پہل کرتی کہ وزیر اعظم پاکستان کی یہ بات پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے اندر وزیر اعظم کا خطاب جاری تھا اور باہر مظاہرے ہو رہے تھے۔مسیحی برادری کی بڑی تعداد پشاور چرچ میں دھماکوں کے خلاف احتجاج کر رہی تھی جبکہ گنتی کے چند لوگ پرویز مشرف کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔پاکستانی میڈیا کاندھے پر کیمرے اٹھائے ،ہاتھ میں مائیک تھامے مظاہرین کے ہجوم میں پہنچا ۔ پاکستانی میڈیا دیکھتے ہی مظاہرین ان پر ٹوٹ پڑے ۔مشرف کے حامیان نے امن کی آشا کا مائیک دیکھا تو اینکر پر برس پڑے اور’ طالبان حمایتی‘ کے نعرے لگانے لگے۔ مشرف حامیان نے کہا آپ لال مسجد آپریشن پر جنرل مشرف  پر دبائو ڈالتے تھے،جب آپریشن ہو گیا تو آپ نے مشرف کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔اس الزام پر سنیئر صحافی مشتعل ہو گئے اور انہیں ہجوم سے جان بچا کر واپس جانا پڑا۔ جس طرح سیاستدان میڈیا کے سگے نہیں ہوتے اسی طرح میڈیا بھی کسی کا سگا نہیں ہوتا۔دونوں کو ایک دوسرے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ نیویارک اس وقت شروع ہوا جب پشاور میں چرچ پر دھماکوں میں نوے افراد مارے گئے ،پھر قصہ خوانی بازار میں دہشت گرد حملے میں پچاس افراد اور بلوچستان میں شدید زلزلے کے نتیجے میںچار سو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ۔دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں لوگ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔پشاور قصہ خوانی بازار میں ایک ہی خاندان کے اٹھارہ افراد اللہ کو پیارے ہو گئے،لواحقین نے کہاکہ ’’اللہ کی مرضی‘‘۔ایک خاندان کے تمام افراد مارے جائیں اور جو بچ جائے ،وہ کہے ’’اللہ کی مرضی‘‘۔ کس کے خلاف احتجاج کرے کہ خدا کے سوا اس کی کہیں شنوائی نہیں۔پاکستان کی اٹھانوے فیصد اکثریت یتیم ہو چکی ہے۔وہ بھی اسی آگ میں جھلس رہے ہیں جس آگ میں اقلیت جل رہی ہے  مگر ان کے سر پر امریکہ کا سایہ نہیں بلکہ انہیں مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔پاکستان میںشاید ہی کوئی گھر ایسا بچا ہو جن کا کوئی فرد،عزیز یا دوست دہشت گردی ،قتل یا اغواء کاشکار نہ ہو ا ہو اور ان واقعات میںپاکستان کے مسلمان بھی پِس رہے ہیں مگر،ان کی داد رسی کے لئے نہ اقوام متحدہ کے سامنے کوئی مظاہرہ ہوتا ہے ،نہ یہ لوگ اپنے پیاروں کے تابوت سامنے رکھ کر احتجاج کرتے ہیںاور نہ ہی انسانی حقوق کی کوئی تنظیم ان کی آواز بنتی ہے جبکہ اقلیتوں پر مظالم کے خلاف وائٹ ہاوس سے اقوام متحدہ تک احتجاج کئے جاتے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ کے دوران نیویارک کی پاکستانی مسیحی برادری نے اقلیتوں کے ساتھ غیر امتیازی سلوک کے خلاف بھر پور مظاہرہ کیا۔طالبان سے مراد مسلمان لیا جاتا ہے جبکہ دہشت گرد وں کے لئے طالبان کے لفظ کا استعمال اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔اگر طالبان دہشت گردی کے مرتکب ہیں تو وہ اسلام کے طالب ہر گز نہیں ہوسکتے ،درندوں کا یہ گروہ دشمنان پاکستان کا ہے ۔ وہ پاکستان جس میں مسلمان اور غیر مسلم مل جل کر پیار محبت سے رہتے تھے،وہ پاکستان آج یتیم ہو چکاہے۔پورا ملک دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہاہے مگر پاکستان کے مسلمان امریکہ میں مظاہرے نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ اس دہشت گردی میں ملوث خفیہ ہاتھوں کو پہچانتے ہیں ۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات میں انہیں پاکستان کے خدشات سے آگاہ کیااور بلوچستان کا مسئلہ اٹھایا۔ملک میں دہشتگردی کی سر پرستی باہر سے ہو رہی ہے ،اس کے پیچھے جو خفیہ ہاتھ ہیں ،انہیں بے نقاب کرنے کی کوشش کریں گے۔ وزیر اعظم نے بلوچستان کا مسئلہ اٹھایا اور خفیہ ہاتھ کی بات بھی کرتے ہیں ،تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ بلوچستان میں کون سے خفیہ ہاتھ ملوث ہیں اور بلوچستان کے مسلہ پر بھارتی وزیر اعظم سے بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ حکمران مرض سے آگاہ ہیں مگر مرض کے علاج سے گھبراتے ہیں۔