بیت المال کا نیا مینجنگ ڈائریکٹر کون ہو گا ؟

1991ءمیں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت پاکستان بیت المال کا خود مختار اداہ کا قیام عمل میں لایا گیا ابتداءمیں یہ ادارہ کابینہ کے تحت ہی کام کرتا رہا بعد ازاں یہ ادارہ وزارت ترقی خواتین کے تحت کر دیا گیا بیت المال بورڈ کے منظور کردہ معیار کے مطابق یہ ادارہ غریب ترین لوگوں کے لئے مختلف منصوبے شروع کرکے غربت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے بیت المال کے فنڈز سے بیواﺅں اور یتیم بچوں کی مالی امداد کی جاتی ہے اس کا مقصد معاشرے کے غریب طبقات کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے اس ادارہ کا ویژن یہ بھی ہے اس کے پروگراموں کے ذریعے لاکھوں غریب عوام کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا گیا اس کے تحت ٹرانسپرنسی اورغریب عوام تک پہنچنے کی حکمت عملی پر عملدرآمد اس کا سنگ میل ہے بیت المال کے فنڈز سے ضرورت مند یتیم بچوں کی تعلیمی امداد اور اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے غیر معمولی اہلیت کے حامل طلبہ کو وظائف دئیے جاتے ہیں اسی طرح اس پروگرام کے تحت ضرورت مند طلبہ کو رہائش اور دیگر سہولیات ،بیمار لوگوں کا مفت علاج معالجہ کیا جاتا ہے غریب لوگوں کے لئے ہسپتال اور بحالی کے مراکز قائم کئے جاتے ہیں خیراتی اداروں جن میں تعلیمی ادارے اور ووکیشنل انسٹی ٹیوشنزشامل ہیں کی امداد کی جاتی ہے جب کہ سیلف ایمپلائمنٹ سکیموں کی سپانسر بھی کی جاتی ہے کافی عر صہ تک بیورو کریٹس کو ہی بیت المال کا مینجنگ ڈائریکٹر تعینات کیا جاتا تھا بیورو کریٹس تک عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں تھی2008ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے اس فلاحی ادارہ کو چلانے کی ذمہ داری پارٹی کے سرکردہ رہنماءزمرد خان کے سپرد کردی جنہوں نے 2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک ابرار کے ہاتھوں شکست کھائی تھی بظاہر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے زمرد خان کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے یہ ذمہ داری سونپی ان کو 2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے این اے 54کا ٹکٹ طشتری میں پیش کیا تو انہوں نے اپنے ”سیاسی گرو“ چودھری اعتزاز احسن سے مشاورت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی ختم نہیں کی انہوں نے مینجنگ ڈائریکٹر بیت المال کی حیثیت سے اس ادارہ کو عوامی ادارہ بنا دیا انہوں نے بیت المال کے دروازے عام لوگوں کے لئے کھول دئیے وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے ملنے والے سالانہ 2.5بلین روپے کی گرانٹ کا زیادہ حصہ غریب اور مستحق افراد کی امداد کے لئے صرف کر دیا کروڑوں روپے امراض قلب اور ہپاٹائٹس کے مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے دیا اس ادارہ کی سربراہی کے دوران ان کا سب سے بڑا کارنامہ سویٹ ہومز کا قیام ہے اس وقت چاروں صوبوں ،آزاد جموں و کشمیراور گلگت میں 31 سویٹ ہومز میں 3100 یتیم بچے رہائش پذیر ہیں جن کو گھر سے بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں زمرد خان 11مئی 2013ءکے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے بیت المال پچھلے 5 ماہ سے مستقل مینجنگ ڈائریکٹر کے بغیر چل رہا ہے اس منصب پر کئی مسلم لیگی رہنماﺅں کی نظریں لگی ہیں اس ادارے کو چلانے کے لئے ایک ایسی شخصیت کی تعیناتی کی ضرورت ہے جس میں عوام کی خدمت کا جذبہ جنون کی حد تک ہو۔ شنید ہے حکومت سرکاری ادروں کے سربراہوں کی تقرری کے لئے مناسب شخصیات کو تلاش کر رہی ہے اور یہ بھی شنید ہے بیت المال کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کے لئے ڈاکٹر جمال ناصر کا نام زیر غور ہے ان کا خاندان گزشتہ 50 سال سے مسلم لیگ سے وابستہ ہے ان کے دادا مرحوم چودھری برکت علی نے تحریک خلافت کے دوران مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے ساتھ ایک سرگرم کارکن کے طور پر کام کیا جب کہ ان کے والد نثار احمد نثار نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا 1962ءمیں کونسل مسلم لیگ راولپنڈی میں خواجہ محمود احمد منٹو کی صدارت میں جنرل سیکرٹری رہے ڈاکٹر جمال ناصر کا شمار راولپنڈی و اسلام آباد کی ممتاز سماجی شخصیات میں ہوتا ہے میڈیا نے ان کی سماجی خدمات کے پیش نظر راولپنڈی کا عبدالستار ایدھی قرار دیا ہے وہ گزشتہ 19سال سے پاکستان ٹاسک فورس کے پلیٹ فارم پر سرگرم عمل ہیں اور اب تک 5 لاکھ سے زائد پودے جڑواں شہروں میں لگائے جا چکے ہیں پچھلے 23 سال سے پیر سوھاوہ کے مقام پر ہائیکنگ واک کا انتظام کرتے ہیں گرین ٹاسک فورس راولپنڈی اور اسلام آباد میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے سرگرم عمل ہے اسی ادارے کے زیر اہتمام گردن توڑ بخار خسرہ اور ہیپاٹائٹس بی سے بچاﺅ کی ویکسین کے میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں جب پنجاب کو ڈینگی وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا راولپنڈی اور اسلام آباد میں ڈاکٹر جمال ناصر نے سٹی گورنمنٹ کے تعاون سے 12 فری میڈیکل کیمپ لگائے جن میں 29 ہزار سے زائد افرادکو ڈینگی بخار کی تشخیص کے لئے ابتدائی ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جس پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے انہیں ”شاباش“ دی اسی طرح ان کے ادارے سٹی لیب سے سالانہ 40 ہزار کے مختلف ٹیسٹ بلامعاوضہ اور خصوصی رعایت کے ساتھ کئے جاتے ہیں 90ءکے عشرے میں بیت المال کے فنڈز کا استعمال سیاسی مقاصد کے لئے ہوتا رہا ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب لوگوں کی ماہانہ بنیاد پر امداد کی فراہمی کے کے لئے شروع کیا گیا لیکن اس پروگرام کے فارم ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کر دئیے گئے جن میں سے کچھ فارم غیر مستحق افراد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لہذا بیت المال میں زمرد خان نے جو اچھی روایات قائم کیں ان کو برقرار رکھنے کے لئے ڈاکٹر جمال ناصر جیسی شخصیت کی خدمات مستعار لی جانی چاہئیں اس ادارہ کے فنڈز پر پاکستان کے غریب عوام کا حق ہے وڈیروں کے ہاں کام کرنے والے افراد کی تنخواہوں کی ادائیگی اس فنڈ سے نہیں ہونی چاہئے ڈاکٹر جمال ناصر جیسی شخصیات غریب عوام کی بھرپور خدمت کر سکتی ہیں وزیراعظم نواز شریف کو اس منصب کے لئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔