امریکی چڑیا کی بھارت دوستی ’’نجومیاں اور نجمیاں‘‘

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

لگتا ہے کہ آج کل نجم سیٹھی کی چڑیا ان سے روٹھ گئی ہے یا تھک گئی ہے، اب وہ ان کے آس پاس پھڑ پھڑاتی ہے اور کسی دوسرے اینکر کی طرف چلی جاتی ہے۔ آج کل امتیاز عالم بھی پی ٹی وی پر نجم سیٹھی  جیسا کام کر رہے ہیں۔ بہرحال وہ مجھے نجم صاحب سے بہتر لگتے ہیں۔ انہوں نے نجومی بننے کی کوشش نہیں کی۔ امتیاز اینکر پرسن بن کے بیٹھ گئے ہیں ورنہ میرا تو خیال تھا کہ نوازشریف انہیں بھارت میں پاکستان کا سفیر بنائیں گے۔  وہ بھارت دوستی کے لئے پاکستان میں بڑے سفیر ہیں۔  نجم صاحب تو امریکہ کے دوست ہیں، بھارت کو پسند کرتے ہیں کہ امریکہ بھارت کو پسند کرتا ہے ان کی چڑیا واشنگٹن سے اُڑ کر آتی ہے۔ نجم سیٹھی نے پاکستان میں اس کے لئے گھونسلہ تو بنایا ہے مگر اب وہ ان کے کندھے پر بیٹھنا نہیں چاہتی۔ یہ سازش ان کے خلاف کون کر رہا ہے وہ غور کریں ورنہ لوگ امتیاز عالم سے اس آدمی کا نام پوچھ لیں گے۔ نجم سیٹھی  نگران وزیراعلیٰ پنجاب بنائے گئے۔ اب انہیں کرکٹ بورڈ کا  چیئرمین نوازشریف نے بنایا ہے تو ثابت ہو گیا ہے کہ نگران انہیں  وزیراعلیٰ پنجاب  شہباز شریف نے بنایا تھا۔  وہ کرکٹ بورڈ کے نگران چیئرمین ہیں وہ شریک چیئرمین بنتے تو ہم سمجھتے کہ زرداری صاحب  کی مہربانیاں ان پر زیادہ ہیں، بہرحال نگران حکومت زرداری اور نوازشریف کی مفاہمت کا نتیجہ تھی۔  کسی دوسری پارٹی کے وزیراعظم نے کسی دوسری پارٹی کے صدر کو الوداعیہ بلکہ استقبالیہ دیا۔ دونوں نے  ایک دوسرے کی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تعریف کی؎
من ترا حاجی بگویم تو مرا مُلا بگو
میں تمہیں حاجی کہوں گا تو مجھے مُلا کہو… میں ابھی نہیں بتاؤں گا کہ دونوں میں حاجی کون ہے اور مُلا کون ہے۔  امتیاز عالم نے ایک ڈنر میں ’’صدر‘‘  زرداری کو بلایا تو انہوں نے کہا کہ نوازشریف جگنو محسن کو امریکہ میں سفیر لگا رہے ہیں ، تم کیوں اس کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہو۔ نوازشریف نے امریکہ میں پاکستانی سفیر کا معاملہ روکا ہوا ہے۔ اصل مخالف جگنو محسن کا امتیاز عالم نہیں ہے خود نجم سیٹھی ہیں۔ وہ پہلے ہی کرکٹ بورڈ کے نگران چیئرمین بن بیٹھے۔ اس میں اب حرج نہیں خاندانی حکومتوں میں میاں بیوی دونوں حکومت  میں ہو سکتے ہیں، نجم نے یہاں بھی وہی کارکردگی دکھائی ہے جو نگران وزیراعلیٰ کے طور پر دکھائی تھی۔ مجھے الیکشن سے پہلے والی رات کو ٹاؤن ہال لاہور سے کئی گھنٹوں سے انتخابی سازوسامان کی منتظر خواتین نے فون کئے۔  یہ کیا منصوبہ ہے؟  تو میں نے نجم سیٹھی کو فون کیا۔ انہوں نے بڑے اطیمنان سے بات ریٹرننگ  افسروں پر ڈال دی  عمران بھی ابھی بالغ نہیں ہوا کہ ریٹرننگ افسروں پر الزام لگائے جا رہا  ہے۔ زرداری صاحب کے لئے این آر او اور نوازشریف کے لئے آر او اس کی تشریح نجم سیٹھی کریں گے؟ہمارے ہاں کرکٹ تو کوڑا بن چکا ہے۔ نجم صاحب کو افسوس ہے کہ امریکی کرکٹ ٹیم نہیں ہے ورنہ انہیں کوئی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی اور فائدہ بھی ہوتا۔  مگر مجھے افسوسناک حیرت ہوئی کہ نجم سیٹھی  نے کہا بھارت خطے میں جنگ نہیں چاہتا جو کچھ اب تک ہو رہا ہے بھارت جنگ نہیں چاہتا تو کیا چاہتا ہے۔ نوازشریف بھارت دوستی کے جنون میں مبتلا ہیں مگر بھارت پاکستان دشمنی کے جنون میں مبتلا ہے بھارتی سرکار اور اپوزیشن کے سیاستدان پاکستان کے خلاف ہیں۔ وہ نوازشریف کے خلاف نہیں ہیں مگر کیا کریں کہ نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔  مگر وہ کبھی بھی نوازشریف کو بھارت کا وزیراعظم نہیں بنائیں گے نوازشریف کو غور کرنا چاہیے کہ وہ صرف پاکستان کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ وہ تین بار اس منصب پر فائز ہوئے ہیں میری خواہش ہے کہ من موہن سنگھ بھی تیسری بار وزیراعظم بنائے جائیں اس کے لئے ہمیں سونیا گاندھی کی منت کرنا پڑی تو بھی گریز نہیں کریں گے۔ سونیا گاندھی سے یہ بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے پیارے بیٹے راہول گاندھی کو سمجھائیں وہ اپنے وزیراعظم کی توہین نہ کریں۔ اب وہ خود بھارت کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں پہلے سونیا نے اسے اپنی گود میں چھپا لیا تھا پہلی بار من موہن سنگھ کو استعفیٰ دینے کے لئے سوچنا پڑا ہے۔ پہلے بھی وہ اس طرح کی سوچ میں پھنسائے گئے مگر کوئی سیاستدان اس معاملے میں من موہن سنگھ سے جیت نہیں سکا۔
نجم سیٹھی  کہتے ہیں کہ جتنے روپے پاکستان میں جنگوں پر خرچ ہوتے ہیں وہ تعلیم اور صحت کے لئے خرچ ہو سکتے تھے۔ نجم صاحب  جانتے ہیں کہ وہ خود حکمران رہ چکے ہیں پھر بھی پیسہ تعلیم اور صحت پر خرچ نہ ہوتا جو پیسہ تعلیم اور صحت کے لئے مخصوص کیا جاتا ہے وہ خرچ نہیں کیا جاتا۔ سال کے آخری دنوں میں بجٹ میں رکھا ہوا پیسہ جلدی جلدی  بلکہ ’’انھے وا‘‘ خرچ کیا جاتا ہے۔ تعلیم اور صحت کا پیسہ نکال  کر کسی اور پراجیکٹ میں لگایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات کچھ ’’اور‘‘  ہیں ۔ آپ کسی ہسپتال یا تعلیمی ادارے میں چلے جائیں۔ لاہور کے کسی سرکاری ادارے میں چلے جائیں آپ کو لگ پتہ جائے گا وہ ادارے جہاں کوئی بیورو کریٹ یعنی افسران بالا بیٹھا ہو وہ دفتر محل کی طرح  سجا بنا ہوگا۔  افسران بالا ہر وزیر شذیر کو بھی کچھ بہتر جگہ فراہم کر دیتے ہیں۔
نجم صاحب  کو پاکستان کے عوامی شعبوں کا  درد ہے۔ یہ شعبے بھارت میں بھی نظرانداز کئے جاتے ہیں۔ ان کا فوجی بجٹ ہم سے کئی گُنا زیادہ ہے اسے اور زیادہ کرنے کی خواہش  نجم سیٹھی کے دل میں ہوگی مگر پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے بھی ہاتھ میں  کچھ نہیں رکھنا چاہیے صرف ہاتھ باندھ کر بھارت کے سامنے اور دوزانو ہو کر امریکہ کے سامنے کھڑے رہنا چاہیے۔ بھارت  نے اپنے کسی ہمسائے کے ساتھ لڑائی نہیں کی  سوائے پاکستان کے۔ سب اس کے تھلے لگے ہوئے ہیں۔ بھارت  سے زیادہ نجم سیٹھی پاکستان کو بھارت کے تھلے لگانا چاہتے ہیں جو امریکہ جنگوں پر خرچ کر رہا ہے۔ نجم بھائی کے بقول  دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے  اور غریب کمزور مسلمان ملکوں بالخصوص پاکستان کے خطرے سے دنیا کو بچانے کے لئے کوشش کر رہا ہے۔
نجم سیٹھی کو افسوس ہے کہ ایک پروفیسر  حافظ سعید  ہی بھارت کے لئے کافی ہیں۔ حافظ صاحب  کو قتل کرانے کے لئے بھارت نے  کئی بار کوششیں کی ہیں مگر کبھی وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ زمانہ بھی یاد ہوگا نجم سیٹھی کو جب وزیراعظم نوازشریف نے انہیں گرفتار کیا تھا اگر امریکہ انہیں بچانے نہ آتا تو وہ اتنا گھبراتے کہ جلاوطن ہو کے چلے جاتے   جلدی میں جگنو محسن کو بھی ساتھ لے کے نہ جاتے ویسے معذرت کے ساتھ  عرض  ہے کہ جگنو  نے بھی نجی ٹی وی میں ’’گل بات‘‘ کا آغاز کیا تھا پھر خود نجم نے پروگرام بند کروا دیا کہ آپس کی بات سُننے والے ختم ہو جاتے۔ جگنو  محسن اچھی ہے اور نجم کی محسن ہے نجم بھی ذاتی طور پر اچھے آدمی ہیں یہ تربیت ماں کرتی ہے اور بچوں کی ماں کرتی ہے، من موہن نوازشریف ملاقات ناکام ہوئی ہے پھر بھی اسے ’’امن کی آشا‘‘ کی کامیابی کہا جا رہا ہے ۔ برادرم  اسد اللہ غالب نے امن کی آشا کو ’’امن کا لاشہ‘‘ کا نام دیا ہے ۔ نجانے یہ بات نجم سیٹھی کو کیسے لگی ہے کہ  اتنے ’’بڑے‘‘ ملک بھارت کا وزیراعظم من موہن سنگھ صدر اوبامہ سے پاکستان کی شکائتیں  لگاتا ہے۔