”ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان“

کالم نگار  |  جاوید صدیق
”ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان“

سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لئے لندن سے اسلام آباد پہنچے تو انہوںنے پنجاب ہا¶س میں اپنے مسلم لیگی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔“ ان کے اس بیان سے 1993ءکے وہ دن یاد آ گئے جب اپریل 1993ءمیں میاں نواز شریف کی پہلی حکومت کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل (2) 58 بی کے تحت برطرف کر دیا تھا۔ سردار بلخ شیر مزاری کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔ نواز شریف نے حکومت برطرف کرنے اور اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بنچ نے حکومت اور اسمبلیوں کی بحالی کیلئے نواز شریف کی پٹیشن کی سماعت کی تھی۔ راقم نے سپریم کورٹ کی کارروائی نوائے وقت کے لئے کور کی تھی۔ اس وقت سپریم کورٹ کا نظریہ یہ تھا کہ آرٹیکل (2) 58 بی کے تحت حکومتوں کو بار بار برطرف کرنے اور اسمبلیوں کو تحلیل کرنے سے جمہوری نظام مستحکم نہیں ہو پا رہا۔ صدرغلام اسحاق نے آرٹیکل (2) 58 بی جسے جنرل ضیاءالحق نے 1985ءمیں اس وقت آئین میں شامل کرایا تھا جب 1985ءکی غیر جماعتی بنیاد پر منتخب ہونے والی اسمبلی کے ارکان ملک سے مارشل لاءاٹھانے اور جمہوریت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جنرل ضیاءالحق نے اس شرط پر مارشل لاءاٹھانے کی حامی بھری تھی کہ پارلیمنٹ آرٹیکل (2) 58 بی کو آئین کا حصہ بنائے۔ اس آرٹیکل کے تحت صدر کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جب وہ سمجھے کہ حکومت آئین کے تحت نہیں چلائی جا رہی تو وہ حکومت کو ڈس مس کر کے اسمبلیاں تحلیل کر سکتا ہے اور نوے دن کے اندر نئے انتخابات کرا سکتا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت اگست 1990ءمیں صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر کے نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ 1990ءمیں ہونے والے نئے انتخابات میں نواز شریف پہلی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے تھے۔ نواز شریف حکومت نے ابھی تین سال بھی پورے نہیں کئے تھے کہ اسے بھی گھر بھیج دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے نواز شریف حکومت کو برطرف ہونے کے چند ہفتوں کے اندر بحال کر دیا تھا۔ بحالی پر مٹھائیاں بانٹی گئیں‘ لیکن نواز شریف کی اپوزیشن جس کی قیادت بینظیر بھٹو کر رہی تھیں اور اسٹیبلشمنٹ سپریم کورٹ کی بحالی کے فیصلے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ اپوزیشن نے نواز شریف کی بحال ہونے والی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا اور اس لانگ مارچ میں پنجاب اور اس وقت کی صوبہ سرحد کی حکومتیں بھی شامل تھیں۔ نواز شریف کی پہلی حکومت کی برطرفی کے پیچھے بڑا فیکٹر اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی تھا۔ ان کی اس وقت کی سیاسی حریف بینظیر بھٹو نے نواز شریف کیخلاف کوآپریٹیوز سکینڈل کا کارڈ بھی استعمال کیا تھا۔ 1992ءمیں پنجاب میں کوآپریٹیو سوسائٹیوں کا سکینڈل سامنے آیا تھا‘ جس میں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے سات ارب روپے سے زیادہ ہڑپ کر لئے گئے تھے۔ اس سکینڈل کا الزام نواز شریف اور چودھری شجاعت حسین اور ان کے خاندان والوں پر لگا تھا۔ جب بینظیر بھٹو نوابزادہ نصراﷲ خان اور اپوزیشن کے دوسرے لیڈروں نے نواز شریف کی سپریم کورٹ سے بحال ہونے والی حکومت کیخلاف اسلام آباد تک لانگ مارچ کی کال دی تو فوج نے مداخلت کی۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے بینظیر کو راولپنڈی میں ملاقات کی دعوت دی اور ملک میں اکتوبر 1993ءمیں نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ جنرل وحید کاکڑ اور اس وقت کے دسویں کور کے کمانڈر جنرل غلام احمد ملک نے ایوان صدر میں صدر غلام اسحاق خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بعد میں بحال شدہ وزیراعظم نواز شریف بھی شریک ہوئے۔ فوج نے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں سے استعفیٰ لے لیا اور نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ جب صدر غلام اسحاق خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نواز شریف سے کشمکش چل رہی تھی تو نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ ڈکٹیشن لیں گے۔ حالات نے انہیں مجبور کیا کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔
اس وقت بھی جو کشمکش چل رہی ہے وہ بھی مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے مطابق حکومت کیخلاف ایک سازش ہے۔ وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ انہوں نے کوئی کرپشن کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے بعض رہنما نواز شریف کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ محاذ آرائی سے گریز کریں۔ پارٹی کی قیادت اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے حوالے کر دیں۔ خود پارٹی کے ایک سرپرست اور بانی قائد کی حیثیت سے کام کریں لیکن سابق وزیراعظم نے اس سوچ کو مسترد کر کے اب عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کے دوران وہ یقیناً عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں ایک سازش کے تحت نکالا گیا ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ساتھ مزید کشیدہ ہونے کے امکانات ہیں۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ 1993ءمیں بھی انہوںنے یہی کہا تھا لیکن انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اب 2017ءمیں بھی نواز شریف کو کم و بیش اسی صورتحال کا سامنا ہے۔
اس مرتبہ عدلیہ بھی نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ ان کی موجودہ پالیسی کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔
٭٭٭٭٭