پاک چین دوستی کا سنگ میل

کالم نگار  |  نعیم احمد
پاک چین دوستی کا سنگ میل

عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اس سے بہتر الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا کہ یہ ہمالیہ سے بلند تر‘ سمندر سے زیادہ گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ چین ہمارا مخلص اور قابل اعتبار دوست ہے جو ہر آزمائش میں ہمارے شانہ بشانہ ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب چینیوں کو ایک گراں خواب قوم تصور کیا جاتا تھا مگر جہد مسلسل کی بدولت آج وہ دنیا کی ایک عظیم اقتصادی اور عسکری طاقت بن چکے ہیں۔ ان کی ترقی میں ہمارے لیے یہ سبق پنہاں ہے کہ جو قوم اپنے نصب العین کی صداقت پر یقین اور دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرتی ہے‘ اسے تھرڈ ورلڈ سے فرسٹ ورلڈ میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی چین کے ساتھ دوستی کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ موجودہ عالمی حالات میں چین کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ چین کے ساتھ ہماری دوستی بڑی ٹھوس بنیادوں پر استوار‘ شرائط سے مبرا اور حکومتی شخصیات سے بالا تر ہے۔ چین کے صدر ذی وقار شی چن پنگ کا حالیہ دورۂ پاکستان انتہائی دور رس اثرات کا حامل اور وطن عزیز میں ایک برق رفتار معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ اس تاریخ ساز دورے کے حوالے سے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جس کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ سابق صدر مملکت اور ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے کی جبکہ وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے قومی امور اور ممتار دانشور محترم عرفان صدیقی مہمان مقرر تھے۔ محترم محمد رفیق تارڑ نے اپنے صدارتی کلمات میں پاکستان کی اقتصادی ترقی اور دفاع کے شعبے میں خود کفالت کے ضمن میں عوامی جمہوریہ چین کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے بھارت کو استعمال کرنے کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جس طرح چین ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے‘ اسی طرح پاکستان کو بھی ایک سچے دوست کی طرح چین کے خلاف امریکہ اور بھارت کے مذموم عزائم کا موثر انداز میں تدارک کرنا چاہئے۔ نشست کے کلیدی مقرر محترم عرفان صدیقی خیالات و تاثرات کو الفاظ کا من چاہا جامہ پہنانے پر بڑی قدرت رکھتے ہیں۔ مشکل موضوعات کو عام فہم انداز میں بیان کرنے میں مہارت تامہ کے حامل ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے ان کے کالم ’’نقش خیال‘‘ کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالموں میں ہوتا تھا تاہم جب سے انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی امور کا منصب سنبھالا ہے‘ تب سے کالم نگاری کو موخر کر رکھا ہے‘ لہٰذا قارئین ان کی خیال آفرینیوں سے فی الحال محروم ہیں۔ جب محترم محمد رفیق تارڑ صدر مملکت کے منصب جلیلہ پر متمکن تھے‘ ان دنوں محترم عرفان صدیقی بھی ایوان صدر میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے ایک منتخب آئینی حکومت کو بندوق کے زور پر رخصت کیا تو محترم عرفان صدیقی نے تمام تر ترغیبات اور دبائو کے باوجود غیر آئینی جرنیلی اقتدار کے خلاف بھرپور قلمی جہاد جاری رکھا اور ان کے پائے استقامت میں سرمو لغزش نہ آئی۔ وہ ایک طویل عرصہ نوائے وقت سے وابستہ رہے اور امام صحافت محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی شفقتوں سے فیض یاب ہوئے۔ نشست میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اپنے ممدوحِ مکرم کی قومی‘ ملی اور صحافتی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑی دردمندی‘ اولوالعزمی اور والہانہ عقیدت کے ساتھ اس مملکت خداداد میں قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کا پرچم سربلند کیے رکھا اور روزنامہ نوائے وقت کے ذریعے پاکستان کے اساسی نظریے کی پوری قوت سے آبیاری کرتے رہے۔ انہوں نے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے منتظمین کو اس امر پر مبارکباد پیش کی کہ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کے وصال کے بعد انہوں نے اس ادارے کی تقدیس و تحریم کو برقرار رکھا ہوا ہے اور نظریۂ پاکستان یا دو قومی نظریے کی ترویج و اشاعت کو حرز جاں بنایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت قوم ہم نامور زندہ شخصیات کے اعتراف خدمت میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کا اشارہ محترم محمد رفیق تارڑ کی جانب تھا۔ اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جائے جس میں محترم محمد رفیق تارڑ اپنے عہد صدارت کی یادوں کو تازہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ نشست میں خود بھی شریک ہوں گے اور تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر محترم محمد رفیق تارڑ کے دور صدارت کے حوالے سے متعدد ایسے واقعات بیان کریں گے جن کے وہ عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ چار سال انہیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کا دور حب الوطنی‘ ملکی مفادات کے تحفظ اور آئین کی پاسداری کے حوالے سے نہایت شاندار تھا۔ محترم عرفان صدیقی نے فکری نشست کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین کے صدر کے حالیہ درۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے 46 ارب ڈالر کے معاہدات کے اقتصادی امکانات اسقدر وسیع ہیں کہ فی الوقت ہم ان کا پوری طرح احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے ایک قابل رشک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ آج کل ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 17ارب ڈالر جبکہ 30سال قبل چین کے صرف12ارب ڈالر کے قریب تھے تاہم چینی قیادت کے عزم راسخ اور مسلسل جدوجہد کے طفیل وہاں تیز ترین اقتصادی ترقی وقوع پذیر ہوئی اور آج وہاں زرمبادلہ کے ذخائر چار ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ تاریخ عالم میں چینی قوم جیسے نظم و ضبط اور عزم و استقلال کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہمارے اس آزمودہ دوست کی قیادت بڑی دُور اندیش ہے۔ وہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور پر طویل عرصہ سے سوچ بچار کررہی تھی تاہم اسے پاکستان میں ایسی توانا قیادت کے برسر اقتدار آنے کا انتظار تھا جس کی صلاحیتوں پر وہ بھرپور اعتماد کرسکیں اور جو خلوص نیت اور جذبۂ صادق سے ان منصوبوں کو آگے بڑھا سکے۔ درحقیقت یہ معاملات ملک و قوم کی تقدیر بدلنے والے(Fate Changers)ہیں۔ صرف میاں محمد نواز شریف کو نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کو ان معاہدات کی اونرشپ لینا ہوگی تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ان کے ثمرات سے متمیز ہوسکیں۔ پاکستان کے بدخواہوں کی طرف سے انہیں متنازع بنانے کی کوششوں کے برخلاف ہمیں ان کے متعلق ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا اور پرانے تعصبات کو ترک کرکے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ نشست کی نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے بڑی عمدگی سے نبھائے اور محترم عرفان صدیقی کو یقین دلایا کہ وہ مستقبل قریب میں محترم محمد رفیق تارڑ کے اعزاز میں مجوزہ نشست کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔نشست کے اختتام پر محترم محمد رفیق تارڑ نے محترم عرفان صدیقی کو ٹرسٹ کی یادگاری شیلڈ جبکہ وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے ٹرسٹ کی مطبوعات پیش کیں۔