مولانا عبدالستار خان نیازی

کالم نگار  |  اثر چوہان
مولانا عبدالستار خان نیازی

2 مئی کو تحریکِ پاکستان کے نامور کارکن مجاہدِ مِلّت مولانا عبداُلستّار خان نیازی کی 14 ویں برسی آئی اور گُزر گئی۔ مولانا مرحوم کے دوستوں اور عِقیدت مندوں نے اپنے اپنے مقام پر اور اپنے اپنے انداز میں مولانا نیازی کی یادوں کو تازہ کِیا۔ اُن کی قومی خِدمات کا تذکرہ کِیا اور اُن کے درجات کی بلندی کے لئے دُعائیں بھی مانگِیں۔
کئی برس ہوئے مولانا عبداُلستّار خان نیازی! جب بھی میانوالی سے لاہور اور لاہور سے میانوالی تشریف لَے جاتے تو سرگودھا میں اپنے دوست تحریکِ پاکستان کے کارکُن مسلم لیگ کے سابق ایم ایل اے قاضی مُرید احمد(مرحوم) کے گھر ٹھہرتے قاضی صاحب (مرحوم) نے ہی 1962ءمیں میرا تعارف مولانا عبداُلستّار خان نیازی سے کرایا تھا۔ قاضی صاحب عُمر میں میرے والد صاحب سے ایک سال بڑے تھے لیکن اُن کی نہ صِرف مجھ سے بلکہ تقریباً ہر عُمر کے صحافیوں سے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات تھے۔ مولانا عبداُلستّار خان نیازی میرے بچپن کے دوست اور گورنمنٹ کالج سرگودھا میں بی اے تک کلاس فیلو شُعلہ بیان وکیل میاں جمیل اختر (جو بعد میں بار ایسوسی ایشن سرگودھا کے دوبار صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نامور لیڈر رہے) کے اندازِ تقریر کو بہت پسند کرتے تھے۔ میاں جمیل اختر نے سرگودھا میں مولانا عبداُلستّار خان کی صدارت میں سیرة اُلنبی کے موضوع پر کئی جلسے منعقد کرائے۔
مَیں 1964ءمیں سرگودھا میں” نوائے وقت“ کا نامہ نگار تھا۔ مولانا عبداُلستّارخان نیازی اُس دور کے گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان کے بیٹے ملک مظفر خان کے مقابلے میں بی ڈی سسٹم کے تحت قومی اسمبلی کا انتخاب بہت ہی کم ووٹوں سے ہار کر سرگودھا تشریف لائے تو مَیں نے انہیں پریس کلب میں مدّعوُ کر لِیا۔ قاضی مُرید احمد اور دوسرے مسلم لیگی قائدِین بھی مدعو تھے۔ اگلی صبح پولیس مجھے گرفتار کرنے کے لئے میرے گھرآ گئی۔ مَیں ہمسائے کی دیوار پھاند کر کچہری بازار پہنچ گیا۔ قاضی مُرید احمد اور کچھ دوسرے بزرگ اور جواں سال دوست میرے ساتھ تھے۔ سُپرٹنڈنٹ آف پولیس، چودھری عبدالحمید باجوہ سے مِلے تو معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ اس کے بعد میری مولاناعبداُلستّار خان نیازی سے عِقیدت اور دوستی مزید بڑھتی رہی۔ جولائی 1973ءمیں مَیں نے لاہور سے اپنا روز نامہ ”سیاست“ جاری کِیا تو مولانا صاحب مبارکباد دینے کے لئے میرے دفترتشریف آئے، اس وقت میرے والد صاحب رانا فضل محمد چوہان بھی موجود تھے۔ مولانا صاحب نے اُن سے بغل گِیر ہو کر کہا کہ ”آپ کا بیٹا بہت بہادُر ہے“۔ انہوں نے کہا کہ ”اِس میں آپ جیسے مُجاہدوں کی سرپرستی اور شفقت کا بھی بہت زیادہ دخل ہے“۔ ( تحریک ِ پاکستان کے کارکُن کی حیثیت سے میرے والد صاحب کو مجاہد تحریکِ پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی (مرحوم) کی نگرانی میں چل رہے تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی طرف سے 18 دسمبر 2013ءکو گولڈ میڈل عطا کیا گیا)۔ اُس کے بعد مولانا عبداُلستّار خان نیازی نے مجھے ” تُم “سے ”آپ“ کہنا شروع کر دِیا۔ مَیں نے کئی بار کہا کہ ”حضرت آپ مجھے”تُم“ ہی کہا کریں تو مجھے بہت اچھا لگے گا“۔ انہوں نے کہا۔ ”اب تُم”آپ“ کہنے کے قابل ہو گئے ہو“۔
اُس کے بعد اسلام آباد اور لاہور میں مولانا صاحب سے میری بے شمار ملاقاتیں ہُوئیں۔ مَیں نے اُن کے کردار اور گفتار سے بہت کچھ سیِکھا۔ وہ مردانہ وجاہت کا بہترین نمونہ تھے۔ خُوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خُوب سِیرت بھی تھے۔ بہت غیّور اور اناءوالے لیکن مغرُور بالکل نہیں تھے اور نہ ہی وہ اپنے حسب و نسب اور عِلم و فضل پر ناز کرتے تھے۔ ساری زندگی علّامہ اقبال اور قائد ِ اعظم اور مادرِ مِلّت کے کارکُن عِقیدت مند اور مُبلّغ رہے۔ اُن کا طُرّہ کبھی کسی کے آگے نہیں جُھکا۔ مَیں نے اُن دِنوں مولانا صاحب کی عظمت بیان کرتے ہُوئے یہ شعر کہا تھا کہ
کجکُلا ہوں کے سامنے سَجدے
لوگ کرتے ہیں ہم نہیں کرتے
مَیں مولانا عبداُلستّار خان نیازیکی مثال مُغل بادشاہ اکبر کے دَور میں میواڑ کے باغی حکمران مہا رانا پرتاب سے دِیا کرتا ہوں جِس نے مرتے دم تک ”اکبر اعظم“ کی اطاعت قبول نہیں کی تھی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب بھی کسی سیاسی اور مذہبی لیڈر نے مولاناعبداُلستّار نیازی کے خلاف بد زبانی بد تحریری کی تو مَیں نے اپنے کالموں میں اُس کی خُوب خبر لی جب ”جمعیت عُلمائے پاکستان“ دو حِصّوں میں تقسیم ہوئی تو مولانا شاہ احمد نورانی (مرحوم) نے کہا ”مولانا عبداُلستّار خان نیازی اپنے گھر میں رہیں تو اب ہم اُن کو اپنے ساتھ مِلا کر مُنہ کالا کیوں کریں“۔ مَیں نے لِکھا کہ ”مولانا عبداُلستّار خان نیازی نے تو ابھی تک اپنا گھر بسایا ہی نہیں اور اگر وہ اپنے گھر میں خُوش نہ ہوتے تو کیا مولانا شاہ احمد نورانی اپنے پُرانے ساتھی کو”مُنہ کالا کرنے کے اپنے پروگرام“ میں شامل کر لیتے؟ اور یہ نُکتہ بھی وضاحت طلب ہے کہ مولانا نورانی کا کِس کا مُنہ کالا کرنے کا پروگرام ہے“ 1993ءکے انتخابات میں مولانا عبداُلستّار خان نیازی شیر کے انتخابی نشان پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر شیر افگن سے ہار گئے تھے۔ ڈاکٹر شیر افگن نے بڑھک ماری کہ ”میرا نام شیر افگن ہے یعنی شیر کو مارنے والا“ مَیں نے لِکھاکہ ”کیا 55 سال کی عُمر تک ڈاکٹر شیر افگن بغیر نام کے ہی زندگی گزارتے رہے۔ اصل شیر افگن تو ” مُغل بادشاہ جہانگیر کے دَور کا ایک سردار علی قُلی خان تھا، جب اُس نے حقیقی شیر مارا تو جہانگیر نے اُسے یہ خطاب دِیا۔ اور پھر اُسے مَروا کر اُس کی بیوہ مہر اُلنسا سے شادی کر لی اور اُسے ملکہ نورجہاں کا خطاب دِیا تھا “ مَیں نے لکِھاکہ ”تِیر“ کے انتخابی نشان پر انتخاب جیت کر ڈاکٹر شیر افگن مولانا عبداُلستّار خان نیازی پر تنقید کے تِیر بر سا رہے ہیں۔ اِس لئے اب اُن کا نام ”تِیر افگن“ ہونا چاہئے یعنی تِیر برسانے والا۔
مولاناعبداُلستّار خان نیازی وزیرِ اعظم نواز شریف کے پہلے دَور میں وفاقی وزیرِ مذہبی امور تھے۔ جب اُنہوں نے وزارت سے استعفیٰ دِیا تو صحافیوں نے اُن سے وجہ پوچھی تو ،مولاناصاحب نے انہیں ہندی زبان کا یہ شعر سُنایا۔
بھلا ہُوا موری گاگر ٹُوٹی
مَیں تو پَنِیاں بَھرن سے چُھوٹی
یعنی ”یہ اچھا ہُوا کہ میری گاگر ٹُوٹ گئی اور مَیں پنگھٹ سے کسی اور کے لئے پانی لانے کی خدمت سے چُھوٹ گئی“۔ مولانا صاحب کو فارسی، اُردو، ہندی اور پنجابی کے ہزاروں شعر یاد تھے جِن کا وہ موقع محل کے لحاظ سے استعمال بھی خُوب کرتے تھے۔ 30 اگست 1996 ءکو لاہور میں میری بڑی بیٹی مُنزّہ کی شادی ہُوئی۔ مولانا عبداُلستّار نیازی بھی تشریف لائے۔ میری درخواست پر انہوں نے بیٹی کو دُعائیں دِیں اور کہا کہ ”بیٹی! تُم اللہ کو یاد رکّھو گی تو اللہ بھی تمہیں یاد رکھے گا“ کَینیڈا میں کئی سالوں سے مُقیم میری یہ بیٹی بہت ہی خوشحال ہے۔ اُس نے اور اُس کے شوہر خلیل احمد خان نے تین حج اور کئی عُمرے کئے۔ ایک حج اور تین عُمرے اپنے دو بیٹوں عبدالاحد خان، محمد فہد خان اور بیٹی صدف خان کو ساتھ لَے کر 1962ءسے 2001ءتک (39 سال تک) مجھے اور میرے اہلِ خانہ کومولانا عبداُلستّار خان نیازی کی دُعائیں اورشفقتیں حاصل رہی ہیں۔ یہ ہم سب کی خوش بختی تھی ہے۔ فارسی کے شعر کا مفہوم ہے کہ ”اگر گِل (مِٹّی) کو ”گُل (پُھول) سے نِسبت ہو جائے تو اُس کی خُوش بختی میں کِسے کلام ہو سکتا ہے۔