’’بھارت سے دوستی/ تجارت کا خواب؟

کالم نگار  |  اثر چوہان
’’بھارت سے دوستی/ تجارت کا خواب؟

کسی سیاسی جماعت کا سربراہ کہلانا بہت بڑی عیاشی ہے اور اگر وہ سربراہ کبھی اقتدار میں آ جائے تو ’’سونے پر سہاگا‘‘ یا ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا۔ 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل قومی سطح کی صرف 13 سیاسی جماعتیں تھیں لیکن الیکشن کمشن کو 250 سیاسی/ مذہبی جماعتوں کو رجسٹر کرنا پڑا۔ الیکشن کمیشن اور میڈیا کو کاغذی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی اُن کی مرضی کے مطابق پروٹوکول دینا پڑتا ہے۔
بھوک کا علاج بھی فوج کرے؟
عمران خان باقاعدہ اور سند یافتہ سیاستدان ہیں۔ 2013ء کے عام انتخابات میں اگر دھاندلی کے الزامات ثابت نہ بھی ہوں تو بھی پاکستان تحریک انصاف عوام سے ووٹ حاصل کرنے میں مسلم لیگ(ن) کے بعد دوسری بڑی جماعت تھی۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں؟ میرا مسئلہ نہیں اور نہ ہی میرا یہ مسئلہ ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کِس نے کرائی؟
میرا مسئلہ جنابِ عمران خان کا تازہ ترین بیان ہے کہ ’’اگر سیاسی جماعتیں مطالبہ کریں تو مَیں پاک فوج کی نگرانی میں خیبر پختونخوا میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار ہُوں‘‘۔ خان صاحب! اگر پاک فوج کی نگرانی میں خیبر پختونخوا میں دوبارہ انتخابات ہُوئے تو کیا اُس کے اخراجات پاکستان تحریکِ انصاف برداشت کرے گی یا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں؟ اِس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ دوبارہ کرائے گئے انتخابات میں قتل و غارت نہیں ہوگی‘‘۔
یہ پاک فوج بھی خوب قِسمت لے کر آئی ہے، پہلے زلزلہ اور سیلاب زدگان کی مدد کو آتی تھی، اب دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں، اغواء کاروں کا قلع قمع کرتی ہے۔ میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے لیکن مَیں سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان میں غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی بھوک کے علاج کی ذمہ داری بھی فوج کے سپرد کردی جائے تو کِتنا اچھا ہو؟
’’بھارت سے دوستی/ تجارت کا خواب؟
پاک فوج اور بھارت گزیدہ پاکستانی قوم کو بھارت سے کبھی بھی خیر کی امید نہیں تھی اور نہ اب ہے لیکن قائداعظم کی یادگار ’’مسلم لیگ‘‘ کی کُرسیٔ صدارت (دراصل قائداعظم کی کُرسی پر) رونق افروز وزیراعظم میاںنوازشریف کو پاکستان کے خلاف بھارت اُس کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی سازشوں کو سمجھنے میں پُورا ایک سال لگا۔ میاں نواز شریف (جِن کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ عوام نے بھارت سے دوستی اور تجارت کے لئے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دئیے تھے) 2 جون کو اے پی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے اور یہ اعلان کرتے ہُوئے واقعی بہت اچھے لگ رہے تھے کہ ’’بھارت کے عزائم کُھل کر سامنے آگئے اور ہم اپنے دشمن کو اقتصادی راہداری منصوبہ سبوتاژ کرنے نہیں دیں گے‘‘۔آل پارٹیز کانفرنش کا مشترکہ اعلامیہ بھی حوصلہ افزاء ہے جِس میں کہا گیا ہے کہ ’’سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیوں اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنا دِیا جائے گا‘‘۔
ڈاکٹر مجید نظامی حیات تھے، 18 مئی 2014ء کو اُن کی نگرانی میں ’’نوائے وقت‘‘ کے ایڈیٹوریل میں لِکھا گیا کہ ’’میاں نواز شریف کی طرف سے، مودی کو مبارک باد اور انہیں دورۂ پاکستان کی دعوت دیتے وقت پاکستان کے بارے میں خُبث باطن کو یاد رکھنا ہوگا اور پاکستان کی طرف سے بھارت سے تعلقات، دوستی اور تجارت کے فروغ میں زیادہ پھرتیاں دکھانے کی ضرورت نہیں‘‘ لیکن وزیراعظم نوازشریف نے پھرتیاں دکھائیں وہ وزارتِ عُظمیٰ کے لئے مودی جی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے 26 مئی 2014ء کو دِلّی میں موجود تھے ’’عِشق مودی‘‘ بازی لے گیا۔ اسلامیہ جمہوری پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے 26 مئی کی شب ’’شبِ معراجؐ‘‘ دِلّی میں گُزاری۔
فارسی کے نامور صوفی شاعر شیخ سعدی شیرازی کہتے ہیں…
نصیحت گوش کُن جاناں، کہ ازجاں، دوست تردارند
جوانانِ سعادت مند، پندِ پِیر دانا را!
یعنی ’’اے عزیز از جان! نصیحت سُن کیونکہ نیک بخت جوان، دانا بزرگوں کی نصیحت کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں‘‘۔ یوں تو ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے ’’عزیز از جان‘‘ وزیراعظم میاں نواز شریف کو بے شمار نصیحتیں فرمائی تھیں لیکن اپنی وفات 26جولائی 2014ء سے دو ماہ اور چار دِن قبل 20 مئی 2014ء کو ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ اور’’تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ‘‘ کے اشتراک سے منعقدہ تقریب میں صدارتی خطبہ دیتے ہُوئے ڈاکٹر مجید نظامی نے ’’ایٹمی اعلان یافتہ‘‘ وزیراعظم کو نصیحت کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’بھارت میں حکومت کسی مودی کی ہو یا کسی مُوذی کی، دونوں ہمارے ازلی دشمن ہیں۔ ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ ہمارے لئے کِتنا مُوذی ہے‘‘۔
20 مئی کی تقریب سے خطاب کرنے کے لئے ڈاکٹر مجید نظامی نے (پہلی مرتبہ) اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو لہرایا اور کہا کہ ’’مَیں نے یہ چھڑی بھارت کو سیدھا کرنے کے لئے اُٹھائی ہے‘‘۔
دِلّی میں 26 مئی 2014ء کو وزیراعظم مودی اور وزیراعظم نوازشریف کی 50 منٹ کی ’’خفیہ ملاقات‘‘ گویا مسئلہ کشمیر کو قتل کرنے کا دِن تھا۔ ملاقات کے بعد بھارت کی سیکرٹری وزارتِ خارجہ شریمتی سُجاتا سِنگھ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’’ملاقات میں وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف الزامات کی فہرست وزیراعظم نوازشریف کے ہاتھ میں تھما دی ہے‘‘۔ اُسی روز خبر آئی کہ ’’ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم نواز شریف کو "Man of the Peace" (مردِ امن) کا خطاب دِیا ہے‘‘۔ دشمن مُلک کے وزیراعظم نے وزیراعظم پاکستان کو ’’مردِ امن‘‘ کا خطاب اُن کی کِن کامیابیوں کے صِلے میں دِیا؟ ہمارے وزیراعظم کو بھارت کے قریب لے جانے والے اُن کے مشیرِ خارجہ یا معاونِ خصوصی نے عوام کو اُس کامیابی سے آگاہ نہیں کِیا۔
پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے ایک ماہ اور دو دِن بعد برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک دلچسپ رپورٹ نشر کی جِس میں کہا گیا تھا کہ ’’پاکستان اور بھارت میں ایک نئے موڑ کا آغاز ایک مصافحے سے ہُوا جِس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی والدہ صاحبہ کو شال کا تحفہ بھجوایا اور جواب میں جناب نواز شریف نے شری نریندر مودی کی ماتا جی کو ساڑھی کا تحفہ بھجوایا۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی طاقتور "Establishment" شری نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم نوازشریف کی شرکت کے خلاف تھی اور وہ اب تک بھارت کے بارے میں کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے‘‘۔
بی بی سی کی رپورٹ میں اُس کی ایک احمقانہ سوچ بھی خوب تھی جِس کے مطابق ’’دونوں ملکوں کے "Culture" میں ہم آہنگی ہے جو اِس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دونوں بھائی بھائی ہیں لیکن اِن دونوں بھائیوں میں دوستی دُور دُور تک دکھائی نہیں دیتی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر متحدہ ہندوستان کے ہندوئوں کے کلچر میں ہم آہنگی ہوتی تو پاکستان کیوں قائم ہوتا؟ وہ نسل ابھی زندہ ہے جِس کے بزرگوں نے قیام پاکستان کے لئے جانی قربانیاں دی ہیں اور جہاں تک "Establishment" کا تعلق ہے وہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے خلاف کوئی سازش کیوں کامیاب ہونے دے۔ ہر دَور کے حکمرانوں کو (خاص طور پر موجودہ حکمرانوں کو) بیرونی ملکوں کے سربراہوں سے ذاتی تعلقات قائم کرنے کی خواہشات پر قابو پا کر اپنے قومی اور ملکی مفادات کا خیال رکھنے کی پالیسی کو اپنانا ہو گا۔ بھارت سے دوستی/ تجارت کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔