خادم اعلیٰ کے سر پہ ایک اور کلغی

خادم اعلیٰ کے سر پہ ایک اور کلغی

کسی کی تعریف کرنی ہو اور تنگدستی بھی دکھانی ہو، تنگ نظری کا بھی مظاہرہ کرنا ہو اور یہ بھی نہ پتہ چلنے دینا ہو کہ آپ اپنے ممدوح کے ساتھ ہیں یا اس کے دشمنوں کے ساتھ تو یہ کام سرکاری قصیدہ نگار بہتر طور پر انجام دے رہے ہیں، وہ ساتھ ساتھ مینگینیاں بھی ڈالتے جاتے ہیں، اس طرح وہ اپنی رائے کو متوازن اور منصفانہ بنانے کی ناکام کوشش فرماتے ہیں۔
میں اول اول تو شریف برادران پر رشک کیا کرتا تھا، مگر اب وہ باہمی تعاون کی ساری حدیں پھلانگ گئے ہیں اور ہر چند روز بعد کسی ایسی مہم میں سر ڈال دیتے ہیں جس پر میں ان کی ستائش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں، اب جن لوگوں نے ان کے بارے میں میرے آتشیں کالم پڑھ رکھے ہیں، وہ تو یہی کہیں گے کہ میںبے پیندے کا لوٹا ہوں،یا میرا کوئی سیاسی دین ایمان ہی نہیں جب پنڈی اسلام آباد میٹرو منصوبہ زبانی اعلانات اورفائلوں اور میٹنگوں کے مباحث سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار لے تو کیا میرے قلم کواندھا ،گونگا ،بہرہ ہو جانا چاہئے، نہیں، یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا، اس عظیم الشان منصوبے کے چالو ہو جانے پر کٹھور دل بھی موم ہو جاتا ہے اور میں کسی طور پر کٹھور دل نہیں ہوں۔شریف برادران سے ایک زمانے میں میرا ذاتی تعلق تھا،، میں نے ان سے قطع تعلق نہیں کیا ، بس دوستی کا زاویہ بدل لیا، میں دوست کے بجائے ان کاخیر خواہ بن گیا۔ ان پر تنقید کرتا تھا تو مقصد اصلاح تھی اور مجھے خوشی ہے کہ حالات انہیں اسی ڈگر پر لے آئے جو میں ان کے لئے پسند کرتا تھا۔میرا کبھی کوئی سیاسی مفاد نہیں رہا، میرا کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں رہا۔
آج میرا دل باغ باغ ہو رہا ہے، پنجاب کے صوبے نے اپنی حدوں سے باہر بھی خدمت عامہ کاایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، دنیا میں عام طور پر وفاقی حکومتیں اپنی اکائیوں کی مدد کرتی ہیں مگر یہاں ایک وفاقی اکائی نے ملکی دارالحکومت کی بہتری میں کرادر ادا کیا ہے، پنڈی سے چلنے والی میٹرو اسلام آباد کے شہریوں کے لئے بھی باعث سکون ہو گی۔اور اگر صرف پنڈی کی بات کی جائے تو شہباز شریف نے اس الزام کا داغ بھی دھو دیا ہے کہ وہ صرف لاہور شہر کے چیف منسٹر ہیں، باقی صوبے سے انہیں کوئی غرض نہیں، پنڈی کا شہر لاہور سے کوئی ساڑھے تین سو میل کی مسافت پر ہے، شاید دہلی سے دور۔مگر لاہور کا چیف منسٹر ہونے کا طعنہ سننے والے خادم اعلی نے اس تین سو میل دور شہر کی قسمت بھی آن واحد میں بدل دی ہے، مجھے کہنے دیجئے کہ پنڈی پر شیخ رشید کی بلا شرکت غیرے حکومت رہی ہے مگر وہ ایک نالہ لئی کی طغیانی اور ہر سال اس کی طغیانی کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں کو نہیں سنبھال سکے، اس فرزند پنڈی کویہ خطاب مبارک۔ مگر شہباز شریف نے اپنے لئے خادم اعلی کا خطاب پسند کیا اور اس پر پوراتر کر بھی دکھا دیا۔
پنڈی اور اسلام آباد جڑواں شہر ہیں۔جب تک کراچی ملک کا دارالحکومت بنا رہا، پنڈی محض ایک قصبہ تھا مگر اسلام آباد کی تعمیر کے ساتھ یہ ملک کے نقشے پر اہمیت اختیار کر گیا اور عالمی نظروں میں بھی یہ شہر ایک نگینے کی طرح جگمگا اٹھا مگر اس شہر کی بدقسمتی کا خاتمہ نہ ہوا، اس حال بھی نہ ہوا کہ دنیا کی سب سے مضبوط، طاقتور،اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی مالک فوج کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں واقع تھا۔ اس فوج نے جدید سے جدید تر اسلحہ بنایا، محیرالعقول خدمات انجام دیں لیکن اس کے پروں کے نیچے یہ شہر کراہتا رہا، محرومیوں کا آسیب بنا رہا۔اسی جی ایچ کیو میں بیٹھے چار جرنیلوں نے مارشل لا بھی لگایا مگر وہ اپنی ناک کے نیچے دیکھنے سے قاصر رہے، ایک جرنیل توجھنڈا چیچی کے پلوں کے نیچے پھٹنے والے بموں کا نشانہ بنتے بنتے بچ گئے۔
اوراس شہر کی قسمت بدلنے کا اعزاز لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک منتخب وزیر اعلی کے حصے میں آیا، یہ رتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا ۔
شہباز شریف کو اس دور کا شیر شاہ سوری بھی کہا جاتا ہے اور یہ خطاب نواز شریف کے لئے بھی استعمال ہوا، انہوں نے پنڈی لاہو موٹر وے کے خواب کو عملی تعبیر بخشی تھی، ان کا منصوبہ تو اسے کراچی سے طورخم اور سرحد پار افغانستان سے ہوتے ہوئے خطے کو وسط ایشیا سے مربوط کرنے کا تھا مگر قسمت نے یاوری نہ کی، اب وہ اس سے بھی بڑے منصوبے کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں، اور یہ ہے پاک چین اقتصادی راہداری، یہ تو ایشیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گا۔ایک دنیا اس خیال ہی سے ورطہ حیرت میں ڈوبی ہوئی ہے۔
مجھے یہاں بر صغیر کے ایک اور شیر شاہ سوری کا ذکر کرنا ہے، یہ کرنل ہڈسن تھا جس نے 80کلو میٹر طویل لاہور فیروزپور روڈ تین ماہ اور اکیس روز میں مکمل کر دکھائی۔ مگر میں اس ہیرو پر فخر نہیں کر سکتا کیونکہ یہ وہی بد بخت ہے جس نے ہڈسن ہارس کھڑی کی اور اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں اس ہڈسن ہارس نے تخت دہلی کو پامال کیا، بہادر شاہ ظفر کو ہتھکڑیاں لگائیں اور اس کی اولاد کو گولیوں سے بھون کر ان کی لاشیں دھوپ میں گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیں۔کہا جاتا ہے کہ لاہور چھاﺅنی میں ہڈسن ہارس کی کوئی نشانی موجود ہے، بہتر ہو گا اس پر کالک پھیر دی جائے یا اس کی بنیادیں کھود دی جائیں۔میرا گاﺅں اسی فیروز پور روڈ کے آخری سرے پر پاکستان میں واقع ہے،اورمیرے لئے اطمینان اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اب اس سڑک کی تعمیر نو کا منصوبہ خادم اعلیٰ کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچا۔ہڈسن کی سڑک کو مکمل طور پر ادھیڑ کر رکھ دیا گیا اور ایک دو رویہ نئی ایکسپریس وے ، اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے دیہات کو نئی دنیاﺅں سے جوڑتی ہے۔
شہباز شریف اور نواز شریف خوش قسمت ہیں، دنیا میں بھائیوں کی کوئی اور جوڑی اس قدرخوش قسمت ثابت نہیں ہوئی، زمانے کے تھپیڑوں نے ان میں کوئی تفریق پیدا نہیں کی، دونوں ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں۔وہ کسی مسابقت کے جذبے سے نہیں، باہمی تعاون کے نشے سے سرشار ہیں۔ان کے اسی باہمی تعاون کا ایک پھل پنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کے نصیب میں آیا ہے۔
صوبے میں متوازن ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے، پنڈی کے بعد ملتان میٹرو کا منصبوبہ زیر تکمیل ہے اور پھر لاہور کراچی موٹر وے، نیت نیک ہو توکامیابیاں آگے بڑھ کر آپ کے قدم چوم لیتی ہیں۔
پنڈی اسلام آباد میٹرو منصوبے کی مبارکباد کس شہر کو دی جائے، یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے اس منصوبے کی تکمیل کی داد شہبازشریف یا نواز شریف میں سے کس کو دی جائے، مجھے اجازت دیجئے کہ میں محرومیوں کے مارے پنڈی شہر اورخدمت کے جذبے سے سرشار شہباز شریف کو اس کی مبارکباد دوں، گر قبول افتد زہے عزو شرف !