’’دھرنا‘‘ اور’’ لانگ مارچ‘‘ کے سیاست پر منفی اثرات

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
’’دھرنا‘‘ اور’’ لانگ مارچ‘‘ کے سیاست پر منفی اثرات

21 روزہ دھرنا کا ڈراپ سین ہونے بعد میں نے اپنے دوست سیاست دان کو ملکی صورت حال کے بارے میں انتہائی مایوس دیکھا یہ سیاست دان ہم جیسے صحافیوں کا حوصلہ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے لیکن ’’دھرنا‘‘ میں جو کچھ ہوا وہ اس سے اس حد تک مایوس ہوا ہے یا کہ ملک چھوڑ دینے کی باتیں کرنے لگا ہے اور کہا ہے کہ’’ اگر دھرنوں کی سیاست سے جمہوری حکومتوں کی اس طرح تذلیل کی جانی ہے تو پوری پارلیمنٹ کو ایک جہاز میں بیٹھ کر بیرون ملک چلے جانا چاہیے ، ملک دھرنا دینے اور دلوانے والوں کے حوالے کردینا چاہیے۔ 2007ء میں ’’نیوز ویک ‘‘ کی ٹائٹل سٹوری کا عنوان تھا ’’ عراق نہیں پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے ‘‘۔ دہشت گردی نے تو پاکستان کی کمرتوڑی ہی تھی رہی سہی کسر آئے روز کے دھرنوں نے نکال دی ہے ۔ دھرنے کی سیاست نے پاکستان کا چہرہ مسخ کر دیا ہے دھرنا دینے والے دھرنے کی ابجد سے بھی آشنا نہیں ۔ جب برصغیر پاک و ہند میں دھرنے کا ’’رواج ‘‘ شروع ہو ا تو دھرنا دینے والوں نے کبھی کسی کا راستہ روکا اور نہ ہی اسلحہ لیس ہو کر حکومت پر حملہ آور ہوئے بلکہ اپنے مطالبات منوانے کے لئے ایک مخصوص جگہ میں بیٹھ جاتے تھے اس سے حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا ہوتا اور نہ ہی عوام کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی ۔ لیکن پاکستان میں ’’نادیدہ قوتوں ‘‘ نے دھرنے کی ایسی سیاست متعارف کرائی ہے جو اب حکومتیں گرانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے اسی طرح کچھ لوگ اپنے سیاسی مطالبات منظور کرانے کے لئے ’’لانگ مارچ‘‘ کی ٹرم استعمال کرتے ہیں لیکن وہ ان مقاصد سے ہی نا آشنا ہیں جن کے حصول کے لئے مائوزے تنگ نے سالہا سال تک جدو جہد کی لاکھوں چینیوں نے اس جدوجہد میںجانوں کے نذرانے پیش کئے پھر اس جدو جہد کو ’’لانگ مارچ ‘‘ کا نام دیا گیا۔ جب کہ آج کل لاہور سے اسلام آباد تک گاڑیوں میں سفر کو’’ لانگ مارچ‘‘ کا نام دے کر ’’لانگ مارچ ‘‘ کا مذاق اڑایا جا تا ہے ۔نواز شریف حکومت ختم کرنے کی کوششیں 14اگست 2014ء سے شروع ہو گئی تھیں لیکن چوہدری نثار علی خان جیسا سخت جان وزیر داخلہ ’’کپتان‘‘ اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے سامنے آگیا تو دونوں کو بے نیل و مرام واپس جانا پڑا ۔ جب کہ میاں نواز شریف ماڈل ٹائون کے سانحہ کے پیش نظر نرمی کا برتائو کرنا چاہتے تھے جب 30اور31اگست 2014ء کی درمیانی شب کو وزیر اعظم ہائوس کی طرف بڑھنے سے روک دیا گیا اور ’’بلوائیوں ‘‘ کو مار بھگایا گیا یہ چوہدری نثار علی خان ہیلمنٹ پہن کر اسلام آباد پولیس کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔ دوسری بار عمران خان نے 2نومبر2016ء کو خیبر پی کے کی پوری حکومت کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے تو یہ چوہدری نثار علی خان ہی تھے جنہوں نے پشاور سے آنے والے ’’حملہ آوروں‘‘ کو جی ٹی روڈ پر ما ربھگایا ۔ لیکن اب کی بار ختم نبوت کے مسئلہ پر دھرنا دینے والوں نے حکومت کو ناکوں چنے چبوادئیے ۔
جب عمران خان اور طاہر القادری نے دھرنے دئیے تو اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ براہ راست وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ماتحت تھی لیکن تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کے وقت صورت حال مختلف تھی اسلام آباد پولیس تھی تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے ماتحت لیکن اسے اسلام آباد ہائی کورٹ سے دھرنا دینے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم مل رہا تھا جب کہ احسن اقبال نے نرم روی کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی اور وہ آپریشن کی راہ میں مزاحم تھے اسلام آباد کی حد تک منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن اسلام آباد کو راولپنڈی کی طرف سے جو سپورٹ ملنا تھی وہ نہیں مل پائی اسلام آباد کی طرف دبائو بڑھنے سے سار ا ہجوم مری روڈ پر آگیا ۔ اگر روالپنڈی میں پولیس براہ راست کسی سیاسی شخصیت کی کمان میں ہوتی تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ، سانحہ راجہ بازار ہوا تو پنجاب کے وزیر محنت راجہ اشفاق سرور کی خدمات حاصل کی گئیں انہوں نے دن رات محنت کر کے راولپنڈی میں امن بحال کرا لیا لیکن اب کی بار دھرنے کے موقع پر ان کو راولپنڈی پولیس کی کمان دینا تو دور کی بات ہے ،مشاورت تک نہیں کی گئی وفاقی حکومت کو فیض آباد دھرنا جہاں 25کروڑ روپے میں پڑا ہے وہاں 7 افراد کی جان لینے کا باعث بنا ہے ان 7افراد کی ہلاکت چوہدری نثار علی خان کی رہائش گاہ کے قریب نہیں ہوئی بلکہ مری روڈ پر مختلف جگہوں پر پر اسرار طور ہلاکت ہوئی ہے جتنے فاصلے سے ان کو گولیاں ماری گئیں وہ’’ ٹارگٹ کلنگ ‘‘کے زمرے میں آتا ہے ان لوگوں نے حکومت کی ’’نرم روی ‘‘ کو اس کی کمزوری سمجھ کر21روز تک دھرنا دئیے رکھا وہ حکومت کی بار بار کی درخواستوں کے با وجود دھرنا ختم کرنے کیلئے تیار نہیں ہو رہے تھے لیکن فوج کے آنے کے بعد فوری طور اپنا بوریا بستر باندھ کر چلتے بنے دھرنا دے کر ایسی روایات قائم کر گئے جو مستقبل میں دھرنا دینے والوں کیلئے ایک نظیر بن گئی ہے سب کو اندازہ ہو گیا ہے ریڈ زون میں دھرنا سے صرف حکومت پریشانی ہو تی ہے جب کہ فیض آباد میں دھرنا دینے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان قریبی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے ۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں تحریک لبیک یا رسول اللہ کا 21روز سے جاری دھرنا فوج کی مداخلت سے ختم ہو ا ہے لیکن یہ دھرنا اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے ۔ دھرنا دینے والوں کے کیا سیاسی مقاصد تھے ؟ کیا یہ دھرنا نواز شریف کی مقبولیت سے خوف زدہ قوتوں نے دیا ہے ؟ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ مختلف اطراف سے دبائو کے باوجود نواز شریف کا ووٹ بینک بدستور قائم ہے سر دست اسے تقسیم نہیں کیا جاسکا ، اس لئے اب ان کے مد مقابل ایک مذہبی قوت کھڑی کر دی گئی ہے تحریک لبیک یا رسول اللہ ابتدا میں ہی دو گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے تحریک لبیک یا رسول اللہ وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کا استعفیٰ لینے میں کامیاب ہو گئی جب کہ دوسرا گروپ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے استعفے کے درپے ہے اور ان کا معاملہ خواجہ محمد حمید الدین سیالوی کی ’’عدالت ‘‘میں پیش کر دیا ہے زاہد حامد مسلم لیگ (ن) کا ’’قانونی دماغ ‘‘ ہیں پچھلے ساڑھے چار سال سے وہی قانونی مسئلوں کو سلجھا رہے ہیں زاہد حامد کی کمزور لابی ہونے سے انہیں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے میاں نواز شریف کا اپنی پارٹی کے رہنمائوں سے یہ پوچھنا بجا ہے دھرنے کے شرکاء کو کہاں سے ’’سپورٹ‘‘ مل رہی تھی اور معاہدے کے نکات کس نے طے کئے؟ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے میاں نواز شریف کو ’’ون آن ون‘‘ ملاقات میں تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔ جب حکومت کا دھرنا دینے والوں سے معاہدہ ہوااس وقت تک ’’پلوں ‘‘ کے نیچے بہت پانی بہہ چکا تھا مری روڈ پرکھیلے جانے والے ’’آگ و خون‘‘ کھیل کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دی احسن اقبال کا موقف تھاکہ تحریک یا رسول اللہ کا سیاسی ایجنڈا ہے اور وہ دھرنے سے کچھ لاشیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے دھرنے کے خلاف آپریشن میں 7لاشیں گر گئیں اب کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں دھرنا آپریشن کو ’’ناکام آپریشن ‘‘ قرار دیا جارہا ہے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کئے بغیر ایک ٹیلیفون کال پر ادھورا چھوڑ دیا گیا ۔ ماضی میں چوہدری نثار علی خان ’غیر مسلح پولیس فورس ‘‘کے ذریعے عمران خان کے دھرنا کے شرکاء کو وزیر اعظم ہائوس کی طرف بڑھنے سے روکنے کا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں لیکن غیر مسلح پولیس سے ختم نبوت کے نام پر مر مٹنے کا عہد کرکے آنے والے لوگوں کو منتشر کرنا خاصا مشکل کام تھا غالباً اسلام آباد اور پنجاب پولیس میں اس قدر کوارڈی نیشن بھی نہیں تھی جو اس آپریشن کی کامیابی کیلئے ضروری تھی سب سے بڑی غلطی حکومت پنجاب کی تھی جس نے احتجاج کر کے واپس آجانے کا ’’وعدہ‘‘ کرنے والوں کو دھرنا دینے کیلئے اسلام آباد بھجوا کر وفاق کیلئے مسائل پیدا کر دئیے ۔ یہ بات حیران کن ہے دھرنا دینے والے حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود فیض آباد کا مورچہ چھوڑنے کے تیار نہیں تھے وہ آرمی چیف جنرل قمر جاید باجوہ کی مداخلت سے فوری طور پر دھرنا ختم کرنے پر آمادہ ہو گئے شنید ہے جنرل باجوہ نے بھی کچھ دیر کیلئے خود بھی لبیک یا رسول اللہ کی قیادت سے مذاکرات کئے بعد ازاں حساس اداروں کے نمائندوں نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مطالبات کو پیش نظر رکھ کر معاہدے کو حتمی شکل دی۔ فیض آباد کے دھرنے میں جہاں وفاقی حکومت کو تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مطالبات کو تسلیم کر کے سیاسی لحاظ سے ہزیمت اٹھانی پڑی وہاں مستقبل قریب میں مسلم لیگ(ن) کیلئے مسائل کی بنیاد رکھ دی ہے تحریک لبیک یارسول اللہ آئندہ انتخابات میں ہر حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے مقابل کھڑی ہو گی۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ملک میں کوئی نشست جیتنے کی پوزیشن میں ہو گی یا نہیں ہو گی لیکن اس کا ووٹ بینک کسی جماعت کی کامیابی یا شکست میں ضرور کردار ادا کر سکے گا ۔تحریک لبیک یا رسول اللہ کا ووٹ بینک مسلم لیگ (ن) کا ہی ووٹ بینک تصور کیا جاتا ہے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں جن حلقوں میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی رہی ہے ان میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے فرق میں کمی آسکتی ہے اسی طرح جن حلقوں میں مسلم لیگ (ن) معمولی اکثریت سے جیتی ہے وہاں تحریک لبیک یا رسول اللہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی شکست کا باعث بن سکتی ہے میاں نواز شریف کی مقبولیت سے خوفزدہ دکھائی دینے والی قوتوں نے مسلم لیگ (ن) کا راستہ روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے ان میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کو لانچ کرنا بھی ہے آئندہ الیکشن میں فیض آباد سے اٹھائی جانے والی 7لاشیں مسلم لیگ(ن) کا تعاقب کریں گی؟ ختم نبوت کے مسئلہ پر راجہ محمد ظفر الحق کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہفتہ عشرہ میں رپورٹ کو حتمی شکل دے دی جائے گی تحریک لبیک نے تحریری طور اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ زاہد حامد کے خلاف کسی قسم کا کوئی فتوی جاری نہیں کرے گی۔ زاہد حامد نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتے ہیں تاہم ایک بات واضح ہے کہ راجہ محمد ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کمیٹی ختم نبوت کے مسئلہ پر کوتاہی کے مرتکب افراد کا تعین کرنے میں کسی سے کوئی رو رعایت نہیں برتے گی ۔