ایک بہادر آدمی جاوید ہاشمی اور چودھری نثار

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ایک بہادر آدمی جاوید ہاشمی اور چودھری نثار

جاوید ہاشمی ن لیگ میں واپس آ گئے۔ کوئی بھی ن لیگ میں آئے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ایک معاصر بڑے اخبار نے لکھا ہے کہ ”جاوید اختر سے جاوید ہاشمی اور پھر مخدوم جاوید ہاشمی ن لیگ میں واپس آ گئے۔“ اسلامی جمعیت طلبہ میں تھے۔ صدر پنجاب یونیورسٹی میں تب اسلامی جمعیت کا راج تھا۔ ہمیشہ جمعیت کا امیدوار صدر یونین بنتا اور وہ وائس چانسلر سے کم نہ ہوتا تھا۔ جمعیت یونیورسٹی کی اصل انتظامیہ ہوتی تھی۔ تب کوئی دوسرا طالب علم جیتنے کا سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ ویسے اچھے امیدوار جمعیت کے ہی ہوتے تھے۔ ہم نے ووٹ پنجاب یونیورسٹی میں حافظ محمد ادریس کو دیا تھا۔ وہ جمعیت کے امیدوار تھے۔ حافظ صاحب نے جمعیت کے ساتھ اپنی وابستگی نہ چھوڑی اور اب جماعت اسلامی کے اچھے خاصے منصب پر ہیں۔ وہ میرے دوستوں میں سے ہیں۔ 

میں اگرچہ جمعیت میں نہ تھا مگر میں نے ووٹ جاوید ہاشمی کو دیا تھا۔ اس زمانے میں جاوید ہاشمی کی سرپرستی بہت ممتاز اور سینئر دانشور صحافی مجیب الرحمن شامی کرتے تھے۔ یہ بہت یادگار نعرہ بھی شامی صاحب کے دفتر میں بنایا گیا تھا۔
ایک بہادر آدمی۔ ہاشمی ہاشمی۔
ایک دوستی سی بھی جاوید ہاشمی کے ساتھ ہو گئی تھی۔وہ ن لیگ چھوڑنے لگے تو میں نے سختی سے منع کیا تھا اور پھر جب تحریک انصاف چھوڑنے لگے تو بھی منع کیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ایک جگہ مستحکم سیاست کریں۔ انہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ جیل بھی گئے۔ میں نے اور برادرم ناصر اقبال خان نے جیل میں ان کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ برادرم کبیر تاج کے ساتھ بھی انہیں ملنے گیا۔ کبیر تاج اندرون شہر کی بہت لذیذ اور قیمتی ”نان خطائیاں‘ بھی ساتھ لے کے جاتا تھا۔ کبیر تاج آج کل حمزہ شہباز کے ساتھ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ حمزہ کے لیے بہت ضروری آدمی ہے۔ میری گذارش کبیر تاج سے ہے کہ وہ اندرون شہر سے باقاعدہ الیکشن لڑے۔ شاید وہ الیکشن میں حصہ لے گا مگر حمزہ شہباز کے ساتھ اپنی وابستگی ہر صورت میں قائم رکھنا چاہتا ہے۔ وہ وفا حیا کا آدمی ہے۔ یہ بات خود کبیر تاج کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
نواز شریف نے ملتان کے دورے میں انہیں اپنے پاس بلایا اور یہ واقعہ ہو گیا کہ جاوید ہاشمی کی واپسی ہو گئی۔ اب یہ جاوید ہاشمی پر منحصر ہے کہ وہ اسے ٹارزن کی واپسی بنا لیں۔
ان کے ساتھ ایک تعلق ہے۔ فون پر بھی بات ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ اب آپ نے تحریک انصاف جائن کر لی ہے تو یہاں پکا رہنا۔
اب کچھ تو پتہ چلے کہ کوئی اہم اور بہادر آدمی ن لیگ میں آیا ہے۔ نواز شریف نااہل ہو کر بھی ن لیگ کے سربراہ ہیں۔
میں کبھی سوچتا ہوں کہ مسلم لیگ کے ساتھ ن کیوں لگایا گیا ہے۔ قائداعظم کی مسلم لیگ کے ساتھ تو کوئی اس طرح کا لاحقہ نہ تھا۔ اب لوگ اسے مسلم لیگ نہیں کہتے۔ صرف ن لیگ کہتے ہیں۔ اب اس مسلم لیگ کو مسلم لیگ ش کہنا چاہیے۔ کیونکہ نواز شریف کے بعد شہباز شریف کو ہی اس کا سربراہ ہونا چاہیے۔ نواز شریف نے پہلے کہا کہ صدر مسلم لیگ بھی اور وزیراعظم بھی شہباز شریف ہونگے۔ مگر بعد میں یہ فیصلہ کہیں گم ہوگیا۔
اب مریم نواز درمیان میں آگئی ہیں۔ کلثوم نواز کی انتخابی مہم مریم نواز نے چلائی۔ حمزہ شہباز تو بیرون ملک چلے گئے۔ مریم نواز لیڈر بن گئی ہیں جبکہ اس کے لئے سینئر اور محترم لیڈر چوہدری نثار ابھی تک انہیں ”بچی“ سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ تقریر اچھی کرلیتی ہیں اور اپنی ماں کی کامیاب انتخابی مہم میں کامیابی کو اپنا ٹارگٹ بنالیا۔
آجکل مریم کے شوہر کیپٹن صفدر بہت بڑے صوفی بن کر سیاسی منظر پر آرہے ہیں۔ یہ بات کوئی دل والا ہی حکومت میں ہوتے ہوئے کہہ سکتا ہے۔ ”میرا بس چلے تو میں فیض آباد میں دھرنے والوں کے ساتھ جاکے بیٹھ جاﺅں۔“
خاقان پاکستان کے وزیراعظم ہیں تو میرے بھی وزیراعظم ہیں مگر لوگ کہتے ہیں کے پاکستان میں کمزور حکومت ہے۔ تو نواز شریف کو کیا خوف ہے۔ وہ کیوں نہیں اپنی جماعت میں سے کسی اہل اور اہل دل، سچے نڈر اور بے لوث آدمی کو ذمہ داری دیتے۔ میرے دل میں ایک نام ہے مگر وہ نام ابھی کھلم کھلا نہیں لوں گا۔ وہ بے نیاز آدمی ہے۔ اس نے نئی کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔
٭٭٭٭٭