میڈیا کی کالی سانولی بھیڑیں اور چوہدری نثار

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

 چوہدری نثار کو یہ حق نہیں کہ وہ میڈیا کے لئے اس طرح بات کریں۔ سارے میڈیا کو کرپٹ سمجھ لیا جائے۔ ان میں یہ جرا¿ت تو ہے نہیں کہ وہ کسی کا نام لیں۔ صحافت کو بھی سیاست کی طرح کرپٹ کہا جا رہا ہے۔ میڈیا کرپٹ ہے تو صحافیوں کو کرپٹ کرنے والے سیاستدان ہی ہیں۔ جس طرح پولیس میں آنے والے افسران کے لئے بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ وہ رشوت ضرور لے گا اسی طرح سیاستدان کرپٹ ہیں اور میڈیا کے لوگوں کے لئے بھی یہی بات ہو رہی ہے۔
جب سے ملک ریاض میدان میں آئے ہیں تو عدلیہ کے لوگوں کو کرپٹ مشہور کرنے کے علاوہ کچھ اینکر پرسن، کالم نگار اور صحافی بھی کرپٹ ہونے کے الزام کی زد میں آ رہے ہیں۔ صدر زرداری نے اپنے آپ کو کرپٹ کہنے والے ہر ادارے اور ہر فرد سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ہے، کام شروع ہو گیا ہے۔ ساری پاکستانی قوم دنیا والوں کے سامنے کرپٹ ہے۔ اس بات میں بہت حد تک سچ بھی ہے مگر سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بھی ضروری ہے۔ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا تو ٹھیک بات نہیں اور یہ بات بھی ٹھیک نہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ لاٹھی تو اب سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں اور صحافیوں کے پاس ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ایک ہی لاٹھی ہے اور بھینس بے چارے عام ورکر، ملازمین اور دیانتدار لوگ ہیں وہ کدھر جائیں لاٹھیاں کھا کھا کے ان کا بُرا حال ہے، ہر طرف لاٹھی چارج ہو رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں اینکر پرسن کے علاوہ بھی ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں کالم نگاروں کے علاوہ بھی صحافی ہیں تو اس طرح عمومی انداز میں بات کرنا بہت زیادتی ہے۔
قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ چوہدری نثار نے صحافی برادری کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ چودھری نثار جانتے ہیں کہ بدنام تو سیاستدان ہیں ہی، صحافیوں کو بھی بدنام کرو۔ اس کے لئے ملک ریاض کو میدان میں لایا گیا ہے اُس کا بس ججوں پر نہ چلا تو صحافیوں کو رگڑا دیا، اس میں کچھ اینکر پرسن کو واضح طور پر سامنے لایا گیا ہے وہ منہ چھپاتے پھرتے ہیں، عدالت کا رُخ بھی کرنے کو تیار ہیں مگر انہی لوگوں کو ٹاک شو میں بلایا جاتا ہے اور وہ اپنی شفافیت کے لئے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہیں۔ سیاستدانوں نے ٹی وی پروگراموں میں کسی سیاستدان کو نہیں چھوڑا، سب نے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگائے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ سیاستدان بالعموم جھوٹ بولتے ہیں مگر اُن کی یہ بات سچی ہے کہ ایک دوسرے کی کرپشن ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی اور دیگر اعضا کا زور لگا دیتے ہیں۔
کائرہ صاحب کبھی ان پروگراموں میں صحافیوں کو کھری کھری سُناتے ہیں مگر وہ بھی کوئی واضح بات نہیں کرتے اور کسی کو نامزد نہیں کرتے۔ وہ چوہدری نثار پر دو الزام لگاتے ہیں یہ الزام ان پر بھی لگ سکتا ہے۔ کائرہ صاحب ایک مہذب آدمی ہیں انہیں بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے مگر ان کے سامنے بیٹھے صحافی ایک دوسرے سے آنکھیں چُراتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ باتیں کسی اور صحافی کے لئے کی جا رہی ہیں۔
چوہدری نثار آج جو باتیں کر رہے ہیں یہ سراسر زیادتی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ لفافہ جرنلزم کس نے شروع کی، پیسے کی سیاست کا آغاز کس نے کیا ہے تو اب انجام سے کیوں ڈرتے ہیں۔ حسین حقانی سے پہلے پہل کس نے کام لیا تھا۔ پھر اسے انہی لوگوں نے گلے سے لگایا جن کے خلاف اس نے اخباری مہم کی شرمساری کی انتہا کر دی تھی، اس سے پھر ابتدا کرائی گئی اور اس نے ابتدا میں انتہا ڈھونڈھ کر دکھا دی۔ آج ایسے صحافیوں کی تعداد کم نہیں ہے جو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم فلاں پارٹی اور فلاں سیاستدان کے کالم نگار ہیں، اینکر پرسن ہیں، فلاں ایجنسی سے ہمارا تعلق ہے یہ بڑے شرم کا مقام ہے۔ میڈیا کے لئے بھی واضح طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ صرف طلعت حسین کا پروگرام ایسا تھا کہ جس میں جرا¿ت، دیانت کی بات ہوئی اور کئی دوسرے اینکر پرسن اس سے لڑ پڑے، ورنہ یہاں تو ایسے اینکر پرسن (خاتون و حضرت) ہیں کہ جو اپنے تقریباً آدھے پروگرام امریکہ سے ریکارڈ کراتے ہیں اور اس کے واضح اظہار سے بھی نہیں گھبراتے۔ پاکستان کے لئے پروگرام امریکہ سے کئے جا رہے ہیں۔ کائرہ صاحب کے ساتھ صدر پی ایف یو جے پرویز شوکت نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ کالی بھیڑوں کو سامنے لایا جائے، اور اپنے بارے میں کہا ہے کہ اچھی طرح دیکھ لیں میں تو سفید بھیڑ ہوں۔ ایسے سیاستدان اور صحافی سامنے لائے بھی گئے ہیں تو بھی کھل کر بات سامنے نہیں آئی۔ کالی بھیڑیں اگر بھیڑئیے بن گئے ہیں تو بھی کچھ نہیں ہوا۔ کالی بھیڑوں اور بھیڑیوں میں فرق نہیں رہا۔ سفید اور کالی بھیڑوں کے علاوہ اب کچھ سانولی بھیڑیں بھی پیدا ہو گئی ہیں۔ اب چوہدری نثار کیا کہتے ہیں اور کائرہ صاحب کا کیا خیال ہے؟