میرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا---؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

سب سے پہلے تو میں نوائے وقت اور مجید نظامی صاحب کا شکریہ ادا کرونگی کہ انہوں نے ایڈیٹوریل میں میرے م¶قف کی تائید کی جو میں نے اطلاعات و نشریات کی کمیٹی میں اٹھایا تھا اور جس کی پوری کمیٹی نے بھی بھرپور انداز میں تائید کی تھی۔ اس روز پاکستان پریس کونسل کے افسران کو کمیٹی میں بلایا گیا تھا اور ان کے فرائض اور کارکردگی پر مفصل تبصرہ کیا گیا تھا۔ ایک بات جو مدت سے میرے جیسے سب لوگوں کو کٹھک رہی ہے اور تکلیف دہ صورت میں بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ میڈیا پر مسلسل دو قومی نظریہ کی نفی یا تضحیک کرنے کا رواج چل پڑا ہے۔ یہ عجیب ملک ہے جس کا دل چاہتا ہے وہ کسی چینل پر آ کر قائداعظمؒ کے بارے میں متنازعہ اور منفی خیالات کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ کسی کے دل میں علامہ اقبال کے نام سے مروڑ اٹھنے لگتے ہیں۔ گویا اس ملک میں ایک لابی پیدا کر دی گئی ہے جس کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ تحریک پاکستان کے تمام مشاہیر کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے یا ان کی کردار کشی کی جائے اور ان کے مقابلے میں گمنامی کی زمین میں دفن مولانا ابوالکلام آزاد جیسے لوگوں کی تقاریر اور بیانات کو نکال کر لایا جائے۔ جنہوں نے صریحاً تمام پاکستان کی اور جناب محمد علی جناحؒ کی مخالفت کی تھی۔ بتاﺅ تو سہی یہ کہ کونسا موسم ہے۔ اچانک اور 23 مارچ کے روز مرحوم مولانا کو یاد کرنے کا ان کی تقریروں کے اقتباسات سنوانے کا ان کی تصویریں اور تراشے دکھانے کا....
کیا دنیا کے کسی اور الیکٹرانک میڈیا پر اپنے ملک دشمنوں کی (جو مر کھپ گئے) اس طرح پبلسٹی کی جاتی ہے.... کیا کسی اور ملک میں ایسے بدبخت لوگ ہیں جو سرعام کہتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ سینکڑوں ملکوں میں متعدد ریاستیں اور بے شمار صوبے ہیں۔ ان ملکوں میں بھی لسانی اور عقائدی تنازعے ہیں مگر کوئی شخص ٹیلی ویژن پر آ کر ریاست کے ٹوٹنے کی بات نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں کو صرف پاکستان میں چھوٹ دی گئی ہے یا پلانٹ کیا گیا ہے۔ ہماری نوجوان نسل پاکستان دشمن لوگوں کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہے۔ انڈیا نے اپنی ساری تاریخ بدل کے رکھ دی ہے۔ جب جغرافیہ بدلتا ہے تو تاریخ پر ضرور اثر پڑتا ہے لیکن اس عمل میں تاریخی حقائق کو مسخ کر کے نہیں پیش کیا جاتا۔ انڈین نصاب سے انہوں نے تمام مسلمان بادشاہوں اور مشاہیر نکال دیئے ہیں۔ کچھ لوگ یہاں انہیں زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہی حال یہ لوگ دو قومی نظریہ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکی ہوں۔ جب کعبة اللہ کے اندر منہ کے بل گر کے بتوں نے ھواللہ احد کہا تھا۔ اسی وقت دو قومی نظریہ وجود میں آ گیا تھا.... علامہ اقبال نے کئی مقامات پر حرم کی پاسبانی کےلئے تمام عالم اسلام کو متحد ہونے کی دعوت دی تھی اس مختصر کالم میں، میں جناب خلد نشیں حضرت قائداعظمؒ کی تقاریر کے جستہ جستہ جملے تحریر کرونگی کیونکہ تقاریر زیادہ جگہ مانگتی ہیں:
-1 پاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مسلم مملکت ہو گی۔ یہ پاپائی ریاست نہیں ہو گی۔
-2 پاکستان اسلامی ممالک کی طویل صف میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔
-3 ہم ایک ایسی مملکت تعمیر کر رہے ہیں جو پوری اسلامی دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
-4 ہمارے الگ تشخص کی پہچان مذہب، ثقافت،زبان، ادب، موسیقی، تاریخ و روایات‘ فن تعمیر، نام ونسب.... مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے علی ھذا القیاس
اگر ہماری پہچان مذہب ہے تو یقیناً ہم الگ قوم ہیں۔ ہم دوسرے مذاہب کو برا نہیں کہتے کیونکہ دوسرے کے دین کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ اپنے مذہب کو گالی دینے لگیں۔ ہماری اپنی ثقافت ہے کیونکہ ماں ثقافت کی علمبردار ہوتی ہے۔ جس طرح کی تعمیر کردار و نفس کر کے بھیجتی ہے۔ ثقافت بنتی جاتی ہے۔ ہماری اپنی زبان ہے۔ ایک دن میں اردوزبان نہیں بن گئی.... اس کے وجود میں آنے میں صدیاں لگی ہیں۔ اس میں وسعت ہے۔ یہ دنیا کی چھٹی بڑی زبان بن چکی ہے۔ ہماری اپنی موسیقی ہے۔ دور قدیم میں عرب قوموں میں رزمیہ موسیقی ہوتی تھی اور نظمیہ موسیقی ہوتی تھی۔ مسلمان بادشاہوں نے موسیقی کو رواج دیا اور دربار شاہی سے موسیقاروں کو وظیفہ خوار بنا کے رکھا۔ ہماری تاریخ چودہ سوسال پرانی ہے۔ عرب سے عجم، عجم سے ایشیا تک پھیلی ہوئی۔ انڈیا میں آج جتنے بھی ملبوسات کے فیشن صورت بدل بدل کر آتے ہیں۔ میک اپ کا سامان اور طعام کے ذائقے سب مغل دور سے آئے تھے یہ اور بات ہے کہ ہر دور کے حکمرانوں کی وجہ سے ان میں ترامیم یا اضافے ہوتے رہے۔ اگر آپ کو کبھی ترکیہ جا کر عثمانیہ دور سلطنت کے محلات دیکھنے کا اتفاق ہو تو آپ کو پتہ چلے گا کہ گھروں کی تعمیر، ڈرائنگ روموں میں صریری پردے اور صوفے حتیٰ کہ غسل خانوں میں فلش سسٹم ان کا ایجاد کیا ہوا ہے۔ جسے یورپ اور امریکہ نے جدید ترین سہولیات میں ڈھالا ہے۔ باقی رہی روایات.... تو ان کا ذکر ہی کیا آپ ملک کی بات کرتے ہیں میں کہتی ہوں ہر خاندان کی بھی اپنی روایات ہوتی ہیں۔ ہر گاﺅں اور شہر کی بھی اپنی روایات ہوتی ہیں۔ ان میں بھی ترمیم اور تحریف ہوتی رہتی ہے(جس پر تفصیلی بات پھر کبھی ہو گی)
مگر یکایک یہ کیسے ہو گیا کہ بہت سے اینکرز نے اندرا گاندھی کا فقرہ پکڑ لیا کہ دو قومی نظریہ کو ہم نے بحیرہ عرب میں پھینک دیا ہے۔ بعض چینلز پر کھلے عام انڈین ثقافت کی چھماچھم ہونے لگی کہ سپریم کورٹ کو بھی از خود نوٹس لینا پڑا۔ ہمارے بچوں کی زبان بگڑنے لگی حالانکہ انڈین فلم انڈسٹری اردو کے بغیر چل نہیں سکتی پہلے ہی وہ اسے ہندی کہتی ہے.... ماشاءاللہ‘ سبحان اللہ، الحمد للہ سرفروش، گوش گذار، فنا، دلبری، ماہتاب، عشق و عاشقی اور ایسے ہزاروں لفظ کونسی ہندی میں ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات رکھنا اولین شق ہے مگر ہمسایہ ملکوں کے تسلط یا زیر نگیں آ جانا خود کفالت اور خود مختاری کی.... توہین ہے۔
چونکہ کسی بڑے کو مالی فائدہ پہنچتا تھا۔ اس نے دوستی کے نام پر فلمیں منگا لیں۔ اور اپنی فلم انڈسٹری کا بیڑہ غرق کر دیا۔
میری طرح اٹھارہ کروڑ پاکستانی اور خصوصیت سے نوجوان نسل بہت اذیت میں ہیں۔ مجھے اکثر ان کے پیغامات آتے رہتے ہیں۔ آج انڈیا ہمارے ساتھ تجارت کرنا چاہتا ہے مگر برابری کی سطح پر نہیں ۔ اس سودے میں جن لوگوں کو مال ملے گا وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں....
 اسے پنجابی میں کہتے ہیں”اسبغول تے کچھ نہ پھول“۔
اس لئے اب ہمارے ہاں بعض مسائل پر قانون سازی ہونی چاہئے اس میں سب سے پہلے دو قومی نظریہ آتا ہے۔ جو پاکستان کی اساس ہے جب غیر منقسم انڈیا کے لوگوں نے فرنگیوں سے آزادی حاصل کی تھی۔ اسی وقت طے ہو گیا تھا۔ مسلمان اور ہنود علیحدہ رہیں گے اور اس قومی نظریہ کے تحت پاکستان وجود میں آ گیا تھا۔ جب منتخب ارکان وزیر، وزیراعظم یا صدر حلف اٹھاتے ہیں تو اس پرچے پر لکھا ہوتا ہے۔ میں نظریہ پاکستان پر پابند اور قائم رہوں گا۔ دو قومی نظریہ ہی اصل میں نظریہ پاکستان ہے۔
ہماری اطلاعات و نشریات کی کمیٹی نے ایک سب کمیٹی میرے سپرد کر دی ہے کہ استحکام پاکستان کو گزند پہنچانے والے معاملات پر ارو مشاہیر کی کردار کشی کرنے والی واردات کی بیخ کنی کےلئے قانون سازی کی جائے۔
 میں اپنے تمام محترم قارئین سے اس ضمن میں مشورہ چاہوں گی وہ مجھے بتائیں اور کونسے معاملات ہیں جو قانون سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔
پیمرا کیا جتن کرے گی کیونکہ بڑے آدمیوں کے بعض بڑے چینل پیمرا کو گردانتے ہیں۔ اسی لئے جب عدالت نے جواب مانگا توپیمرا گونگی ہو گئی۔
لوگو! یہ تم جان لو! یقیناً وہ نسل جس نے پاکستان بنایا تھا۔ بہت کم رہ گئی ہے۔ مگر اس نے تین نسلیں پروان چڑھا دی ہیں جو پاکستان کی وارث ہیں اور انشاءاللہ وہ اپنا فریضہ بہتر طور پر انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ پاکستان پائندہ باد!