صدرزرداری کو ” امن کی آشا“

کالم نگار  |  اثر چوہان

غیر وابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے صدر زرداری‘ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ‘تہران ساتھ لے گئے۔ بلاول بھٹو 21 ستمبر کو 24 سال کے ہو جائیں گے۔ مجھے یاد آیاکہ جب ‘ چیئرمین بھٹو‘ صدرِ پاکستان کی حیثیت سے جولائی 1972 ءمیں ‘ وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ سمجھوتہ کرنے کے لئے بھارت گئے تھے‘ تو بے نظیر بھٹو کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔اُس وقت محترمہ کی عمر 19 سال تھی۔ یاد رہے کہ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو‘ پیپلز پارٹی کی بانی ارکان نہیں تھیں۔
پاکستان کمزور پوزیشن میں تھا۔ ہمارے 90 ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے۔ بھٹو صاحب اُنہیں چُھڑالائے‘ لیکن مسلہ¿ کشمیر الفاظ کا گورکھ دھندا بن گیا۔ صدر جنرل ضیاءالحق نے ” کرکٹ ڈپلومیسی “ کے ذریعے بھارت سے تعلقات بنانے کی کوشش کی ‘ لیکن مسلہ¿ کشمیر ‘ مسئلہ ہی رہا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ” گڈ مارننگ امریکہ“ کہہ کر اقتدار توحاصل کر لیا تھا لیکن مسلہ¿ کشمیر اُن کی ترجِیحات میں نہیں تھا۔ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے ‘ بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری وجپائی کو ” جی آیاں نوں “کہالیکن وجپائی جی اپنے موقف پر ” اٹل“ رہے‘ پھرمسئلہ کشمیر بھی ٹل گیا۔ اُن دنوں میرا کالم ” نوائے وقت“ میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا ” تماشا دِکھا کر بہاری گیا“۔صدر جنرل پرویز مشرف کی بازی گری بھی کام نہ آئی۔ جولائی 2001 ءمیں نئی دہلی اور آگرہ گئے۔ نئی دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا ؒ کے دربار میں حاضری دی اور آگرہ کے تاج محل میں‘ خاتونِ اوّل پاکستان کے ساتھ چہل قدمی کی اور تصویریں کھِنچوا کر واپس آ گئے۔
پھر صدر زردای نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو آگے کر دیا۔ گیلانی جی اوربھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ جی نے کئی بار ایک دوسرے سے مصافہ اور معانقہ کِیااور مسکرائٹوں کا تبادلہ بھی۔ دونوں کی ذاتی دوستی بھی ہو گئی۔ مسلئہ کشمیر حل نہ ہوا۔ اکتوبر 2010 ءمیں بھوٹان کے دارالحکومت ” تِھمپو“ میں 16 ویں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر تقریر کرتے ہونے ‘من موہن سنگھ جی نے کہا ” امرتسر میں ” ہرمندر“ ) گولڈن ٹمپل( کا سنگِ بنیاد‘ گیلانی جی پُوروجوں ) بزرگوں( نے رکھا تھا“۔ گیلانی صاحب ٹی وی کیمروں کے سامنے ‘ مسکرائٹیں بکھیرتے ہوئے ‘ داد وصول کرتے رہے۔ یہ خبر عالمی پرنٹ اور الیکڑانک کی زینت بنی۔ میں نے کالم لِکھا کہ بھارت کے وزیرِ اعظم کو‘ سِکھوں کی تاریخ کا عِلم نہیں اور وزیرِ اعظم گیلانی بھی اپنے بزرگوں کی تاریخ سے بے بہرہ ہیں۔ میں نے لِکھا کہ ----- سِکھوں کے پانچویں گُرو‘ گُرو ارجن دیو جی ) 1563 ءتا 1606 ء( کی دعوت پر ‘ جِس مسلمان ولی حضرت میاں مِیر لاہوری ؒ ) 1550 ءتا 1635 ء( نے 1588 ءمیں ” ہرمندر“ کا سنگِ بنیاد رکھا تھا‘ وہ گیلانی سیّد نہیں تھے بلکہ فاروقی ) حضرت عمر فاروق ؓکی اولاد میں سے ( تھے۔ جنابِ گیلانی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ بھلا وہ اپنی کم عِلمی کا اعتراف کیوں کرتے؟ ابھی تک خاموش ہیں۔
آصف زرداری جیل کاٹ رہے تھے تو‘ جنابِ مجید نظامی نے‘ اُنہیں ” مردِ حُر“ کا خطاب دیا ۔ ” حُر“ ۔ آزاد یا برگیزدہ شخص کو کہا جاتا ہے۔ جب زرداری صاحب صدر بن کر ” برگزیدہ “ ہو گئے تو اُنہوں نے فرمایا کہ ” مسئلہ کشمیر کو 30 سال کے لئے مُنجمد کر دیا جائے“ پورے مُلک میں اُن کی مذمت ہوئی تو درباریوں نے قوم کو ‘ چونکہ‘ چنانچہ‘ اگرچہ‘ مگرچہ قسم کا وضاحتی راگ سُنا دیا۔ اب ”مردِ حُر“ نظامی صاحب کی یہ آواز سنائی نہیں دیتی کہ ” مسلہ ¿ کشمیر کو حل کئے بغیر بھارت سے تجارت سمیت ‘ کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں جائیں اور بھارت سے سرمایہ کاری کا ” پنگا“ نہ لیا جائے۔” دراصل اِس ” پنگے“ میں اکیلے زرداری صاحب نہیں ہے۔ کچھ بے پردہ اور پردہ نشِین بھی شامل ہیں۔” ایہہ کلّے بندے دا کم نہیں“ محترم مجید نظامی ‘ پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں‘ جب کوئی حکمران یا اپوزیشن لیڈر ‘ بھارت سے دوستی کا‘ ” پنگا“ لینے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ) نظامی صاحب( بزرگانہ ڈانت ڈپٹ ضرور کرتے ہیں‘ لیکن جن لوگوں کا ماٹو۔
” ہم کو تو بس پنگا لینا چنگا لگتا ہے“
ہو تو ‘نظامی صاحب کیا کریں گے؟ ایک بھارت نواز نیوز چینل ” اکھنڈ بھارت“ کے علمبرداروں کی طرف سے ” مسلسل یہ راگ الاپ رہا کہ ----
” نظر میں رہتے ہو ‘ جب تُم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تُم اِدھر نہیں آتے“
سوال یہ ہے کہ اگر متحدہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان‘ ایک ہی سُر میں گاتے تو الگ کیوں ہوتے؟۔ بھارت اور پاکستان کی بنیاد دو مختلف سُروں پر رکھی گئی ہے۔ وہ اُدھر ہیں اور ہم اِدھر۔ اِدھر کی دُنیا اُدھر ہو جائے ‘دونوں مُلکوں میں خون سے کھینچی ہوئی لِکیر مٹائی نہیں جا سکتی۔ میں نے اپنے پنجابی ماہنامہ ” چانن“ کے لئے نومبر 2011 ءمیں محترم مجید نظامی کا انٹرویو شائع کیا۔ کسی پنجابی جریدے یا اخبار کے لئے جنابِ نظامی کا یہ پہلا انٹرویو ہے۔ میرے اِس سوال کے جواب میں کہ پاک پنجاب کا ایک طبقہ چاہتا ہے کہ ”پنجابی زبان کی ترقی کے لئے بھارتی اور پاکستانی پنجاب کی سرحدی لِکیر مٹا دی جائے“؟تو محترم مجید نظامی نے کہا کہ ” میں ایسے لوگوں سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ‘یہ لِکیرپار کر کے یہاں سے دفع ہو جائیں‘ پھر دیکھو! وہاں تمہارا کیا حشر ہوتا ہے ؟ “ 3 ماہ بعد میں نے ‘درگاہ چورہ شریف سجادہ نشین‘ پیر سیّد محمدکبیر علی شاہ کا انٹرویو کیا تو اُنہوں نے کہا کہ--- ” محترم مجید نظامی نے پاک بھارت سرحدی لِکیر مٹانے کی سازش کرنے والوں سے نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ میںاعلان کرتا ہوں کہ ہم سب مِل کر‘ پاک بھارت سرحدی لِکیر مٹانے والوں کو ‘ ٹُھڈّے مار کر سرحد کے پار دھکیل دیں گے“ محترم مجید نظامی اور اُن کے دوست پِیر سیّد محمد کبیر شاہ گیلانی صِرف دو اصحاب ہی نہیں‘ پاکستان کا ہر محبِ وطن شہری‘ اِسی سُر میں بات کرتا ہے۔ہندی لفظ ” آشا“ کا مطلب ہے امید۔غالب نے کہا تھا کہ----
” ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمّید
جو نہیں جانتے‘ وفا کیا ہے؟“
بھارت تو اب بھی یہی کہتا ہے کہ وہ ” پاکستانی مقبوضہ کشمیر“ ) آزاد کشمیر( پر قبضہ کر کے رہے گا“ پھر ”امن کی آشا“ کیوں اور کیسے؟ یہ تو بھارتی گلوکارہ آشا بھونسلے بھی نہیں جانتی‘ جِس نے پاکستانی گلوکار مہدی حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” شری مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں“شری مہد ی حسن تو ” بھگوان“ کے پاس چلے گئے ‘لیکن بھارت جانے والے پاکستانی گلو کاروں کی قطار لگی ہو ئی ہے اور اب تاجروں اور سرمایہ کاروں کی قطار۔ چلوہمارے بعض لوگوں کو قطار بندی توآ گئی ! صدر زرداری ‘ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو دوبارہ دورہ¿ پاکستان کی دعوت دے چُکے ہیں ”مگر وہ اِدھر نہیں آتے“ پھر ” امن کی آشا“ کب تک ؟کب تک بتیّ بال کر بنیرے اُتےّ رکھیں گے؟