حیرتوں کی منزل تھی!حسرتوں کا جادہ تھا!

کالم نگار  |  خالد احمد

 تہران میں منعقدہ دو روزہ ’نام سربراہ کانفرنس‘ کا مشترکہ اعلامیہ ایران کے پُرامن جوہری پروگرام اور فلسطینیوں کی آزادی کی حمایت ، دینِ اسلام کے خلاف مغربی ممالک کی طرف سے دیدئہ و دانستہ شروع کی گئی نفرت انگیز مہم ،بین الاقوامی سطح پر روا رکھے جانے والے نسلی امتیازی سلوک، ریاستی دہشت گردی اور مذاہب کے عدم احترام پر مبنی عام ہوتے ہوئے رویے کی مذمت اور شام میں غیرملکی مداخلت مسترد کرتا دیکھا اور سنا گیا!
پاکستان کے منتخب صدرِ مملکت عزت مآب ،جناب آصف علی زرداری ایران کے مذہبی قائد حضرتِ خامہ ای سے ملاقات کے بعد واپس وطن پہنچ گئے ہیں! جبکہ ’نام سربراہ کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے شرکا پر واضح کردیاکہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے لوگوں کے دل جیتنا پڑیں گے! کیونکہ طاقت کا بے جا استعمال خطے کے امن اور سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے!
جنابِ آصف علی زرداری نے فرمایا کہ ایران کے مسئلے کا حل سفارت کاری کے ذریعے ڈھونڈا جانا چاہیے!اور بتایا کہ پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے ہی پرامن طریقے سے حل کرنے کی تگ و دو میں لگاہے! انہوں نے فرمایا کہ غیروابستہ ممالک پر لازم ہو چکا ہے کہ وہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اتحاد اور ہم آہنگی کے مظاہرے پر متفق ہو جائیں!کیونکہ گھمبیر مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ہی نکالا جاسکتا ہے!
جمعتہ المبارک کے روز ایران میں جاری غیروابستہ ممالک کی تحریک کے 16ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنابِ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک پر مشتمل خطہ مستحکم طور پرامن اور خوشحالی کا مرقع دیکھنا چاہتا ہے! کیونکہ عالمی امن اور سلامتی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام سے ہی ممکن ہے! خطے میں کسی بھی طرف سے طاقت کا بے جا استعمال پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو گا! انہوں نے فرمایا کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد وںپر استوار مستحکم اور دیرپا امن کا متمنی ہے! انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان افغان قیادت کے درمیان جاری مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا رہے گا! جبکہ ایران میں منعقدہ’نام سربراہ کانفرنس‘ کے متفقہ مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان بھی اپنا بھرپور کردار ضرور ادا کرے گا! صدرِ مملکت نے فرمایا کہ پاکستان شام میں جاری خون خرابے کی شدید مذمت کرتا ہے! شام کی حکومت کو عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے! امید ہے کہ شام کا مسئلہ بھی بات چیت کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے گا! اور مزید فرمایا کہ بین الاقوامی سطح پر مذاکراتی عمل صحیح معنوں میں نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام’نام ممالک ‘کی طرف سے ایک متفقہ بھرپور کوششیں کا آغاز ہو جانا چاہیے! تاکہ ماضی کی مشکلات مدنظر رکھتے ہوئے باہمی تعاون کے ایک نئے دور میں قدم رکھ جا سکے ! پاکستان ’کثیر الجہات تعلقات‘ پر یقین رکھتا ہے ! اور ایران کے ساتھ گہری تاریخی اور ثقافتی قربتوں کا وارث ہے! صدرِ مملکت عزت مآب جناب آصف علی زرداری کا خطاب بھی ہر طرح ’کثیر الجہات‘ تھا! لہٰذا ایک طرفہ سکوت میں گونجتا چلا گیا!
صدرِ مملکت وطن واپس پہنچے،تو، اُنہیں مطلع کیا گیا کہ ابھی ابھی آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدرِ مملکت جناب پرویز مشرف نے فرمایا ہے کہ اگر آئندہ عام انتخابات فوج کی نگرانی میں نہ ہوئے، تو، اُن کاصاف اور شفاف ہونا غیر یقینی ہو جائے گا! اور اُنہیں یہ بھی بتایا گیا کہ جنابِ پرویز مشرف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ عوام نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ایک بار پھر آزما کر دیکھ لیا ہے! اور اب پاکستانی سیاست میں اِن دونوں سیاسی جماعتوںکے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے! ،تو، ایک غیرمصدقہ اطلاع کے مطابق اُنہوں نے اطلاع دہندہ سے پوچھا کہ وہ کہیں اُنہیں صاحب کا ذکر،تو، نہیں کر رہے ، جن کے بارے میں اُنہوں نے کچھ دن پیشتر کہا تھا کہ زمین پر خدا بن بیٹھنے والے آج زمین پر پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں،تو، اطلاع دہندہ اثبات میں سر ہلاکر رہ گئے!
جنابِ پرویز مشرف بار بار آنے بہانے خبروں میں زندہ رہنے کی کوئی نہ کوئی کوشش کرتے رہتے ہیں! مگر اس بار وہ ایک ایسے موقع پر رواں ہوئے ہیںجبکہ غیرملکی ایجنٹ تنظیموں نے پاکستانی فوج کے خلاف ایک انتہائی قابل مذمت قدم اُٹھاکر ’نام سربراہ کانفرنس‘ کے علاقائی شرکا تک انتہائی ہولناک پیغام روانہ کیا تھا! اور یہ دن عام انتخابات کے فوری انعقاد اور اُن کی نگرانی کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کے مطالبے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا! یہ دن ،تو، ’ماتم کا دن‘ تھا کہ ایک تحریک کے ساتھ پاکستان کا نام نتھی کرکے پاکستان کے خلاف 10برس کی نفرت انگیز کارروائیوں کے تسلسل پر نفرت انگیزترین کارروائی کی مہر ثبت کرکے دکھا دی گئی!کیونکہ جنابِ پرویز مشرف کی سیاست لاشوں پر چلتی رہی! اور اُن کا تازہ بیان بھی خون میں لت پت 3شہدا اور 12سربریدہ فوجی جوانوں کی لاشوں پر جاری ہوا ہے!اللہ تبارک و تعالیٰ جنابِ پرویز مشرف پر کرم فرمائے اور اُنہیں راہِ راست پر آ جانے کی توفیق عطا فرمائے!
حیرتوں کی منزل تھی ، حسرتوں کا جادہ تھا
غرقِ حیرت و حسرت ، ایک پا پیادہ تھا
حُسنِ کم نگاہی پر عمر بھر نہ کھل پایا
دل کی بند مٹھی میں ایک حرفِ سادہ تھا
پاکستانی قوم کے دِلوں کی بند مٹھی میں پاکستانی قوم کی سربلندی کی سادہ سی خواہش کے سوا کچھ اور نہیں! اور ہمارے حکمران طبقات ایک یہی سادہ سی بات کسی طور سمجھنے کے لیے تیار نہیں! کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُنہیں اتنی اچھی شکلیں دے رکھی ہیں کہ اُن کے ہر دیدار پر زبان پر یہی مصرع آ جاتا ہے:
خدا جب حسن دیتا ہے ، نزاکت آ ہی جاتی ہے