جمہوریت کے متبادلات

کالم نگار  |  سعید آسی

یقیناً کوئی نظام بذاتِ خود برا نہیں ہوتا۔ یہ تو نظام کو چلانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اسے عوام کیلئے قابل قبول بناتے ہیں یا راندہ¿ درگاہ۔ مجھے کچھ عرصہ قبل مالدیب‘ برونائی جانے کا اتفاق ہوا‘ ان دونوں مسلم ممالک میں رائج نظام عرفِ عام والے جمہوری نظام کے کھاتے میں نہیں آتا۔ ایک قسم کی شخصی حکمرانی ہے۔ مالدیب میں تو عملاً صدارتی نظام ہے جبکہ برونائی کے نظام کو ”منارکی“ کا نام دیا گیا ہے اور یہ بادشاہت جمہوری نظام سے کوسوں دور ہے مگر ان دونوں ممالک کے حکمرانوں نے اپنی طرز کے سسٹم کو اپنے اپنے عوام کیلئے اتنا قابل قبول بنایا ہوا ہے کہ اس سے ہٹ کر کسی دوسرے سسٹم کی کوشش شاید تحقیر کے ساتھ ان کے عوام کی جانب سے مسترد ہو جائے۔
اگر مطلق العنان حکمران عوام کو مثالی فلاحی معاشرہ دے رہے ہوں جس میں ان کیلئے روٹی روزگار کا کوئی مسئلہ ہی پیدا نہ ہو۔ اقتصادی ناہمواری کا کوئی تصور ہی نہ ہو اور میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام ہی نہ ہو رہا ہو تو اپنی خوشی اور خوشحالی پر مبنی ایسے معاشرے میں عوام اپنی شخصی آزادیوں پر حکمرانوں کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں بھی قبول کر لیتے ہیں۔ مطلق العنانیت پر مبنی ایسے معاشروں میں پریس اور میڈیا کی آزادی حکمرانوں کی مرضی کے تابع ہوتی ہے مگر عوام کو میڈیا کی آزادی کی اسلئے فکر لاحق نہیں ہوتی کہ انہیں میڈیا کے ذریعے اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس جمہوری حکمرانی والے معاشرے میں اگر جمہور کے نام پر آئے حکمران خود سلطان بن بیٹھیں اور جمہور مقہور ہو جائے‘ اسے اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے بھی زندگی کو روگ لگانا پڑیں‘ سر پھٹول کرنا پڑے اور انصاف و دادرسی کے ہر فورم پر ذلیل و رسوا ہونا پڑے اور سلطانی¿ جمہور کو عوام کیلئے آسیب بنا دیا جائے‘ تو بے شک جمہوری نظام اپنے تئیں کتنا بھی خوب سے خوب تر کیوں نہ ہو‘ اپنی زندگی کی آسودگی کیلئے سسکتے‘ رگڑے کھاتے‘ زندہ درگور ہوتے‘ عوام اس نظام سے متنفر ہو جائیں گے چنانچہ کسی نظام سے عوام کی محبت یا نفرت اس نظام سے وابستہ حکمرانوں کی ہی ودیعت کردہ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے کسی بھی نظام کو عوام میں قابل قبول بنانا حکمرانوں کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ وہ چاہیں تو شخصی حکمرانی قائم کر کے اس کے ماتحت فلاحی انسانی معاشرے کو پروان چڑھاتے ہوئے عوام میں اس کی قبولیت اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیں اور چاہیں تو عوام کی حکمرانی کے نام پر لائے گئے جمہوری نظام کو عوام کیلئے عذاب بنا کر اس سے عوام کو اتنا متنفر کر دیں کہ انہیں حکمرانوں کے بجائے نظام میں ہی خرابیاں نظر آنے لگیں۔
ہماری موجودہ سلطانی¿ جمہور نے جمہوری نظام کا عوام کے ہاتھوں مردہ خراب کرانے کیلئے یہی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ چنانچہ آج سلطانی¿ جمہور کی فیوض و برکات سے، وسائل سے مالامال ہونے والے حکمرانوں کے سامنے عوام مجبور و مقہور ٹھہرے، اس لئے عوام جمہوریت کو کوسنے دیتے ہوئے جرنیلی آمریت والے عذاب کو بھی پھر قبول کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کے باعث کچھ طبقات ملک کی سلامتی کی فکرمندی کے تحت اور کچھ طبقات اپنے ذاتی مفادات کی بنیاد پر کسی ایسے عبوری نظام کے تانے بانے بنتے نظر آتے ہیں جس میں حکمران طبقات کی ذاتی لوٹ مار کا راستہ بند ہو جائے اور ان طبقات کے ہاتھوں تباہ حال ہونے والے عوام کی آسودگی، امن و سکون اور ملک کی بہتری کا کوئی راستہ نکل آئے۔ یہ سارے تانے بانے درحقیقت جمہوری نظام کی ناکامی کا تصور کر کے بنے جا رہے ہیں اور جس ممکنہ نظام کے تصورات سامنے آ رہے ہیں وہ عوام کے لئے قابل قبول جمہوری نظام کے متبادل کے طور پر ہی سامنے آئے گا۔
گزشتہ دنوں تحریک منہاج القرآن کے بانی ڈاکٹر طاہر القادری ، جو جمہوری نظام کی قباحتوں سے متنفر ہو کر اسمبلی سے باہر آنے کے بعد مستقل طور پر کینیڈا جا آباد ہوئے اور ایک دینی سکالر اور مبلغ کی حیثیت سے مسلم دنیا سے باہر بھی اپنا نام مقام بنایا، پاکستان کے جمہوری نظام میں عوام کی درگت بنتے دیکھ کر مضطرب نظر آئے چنانچہ لندن سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دانشوروں، قلمکاروں کے ساتھ ایک مشاورتی نشست کا اہتمام کر کے ممکنہ متبادل نظام کے خدوخال اجاگر کرتے اور ادھیڑتے رہے۔ ان کے خیال میں جمہوری نظام اب متروک ہو چکا ہے جو کسی بھی انسانی معاشرے کے مسائل کے حل میں ممد و معاون نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے تجویز کردہ متبادل نظام کے اسلام کے شورائی نظام کے قریب تر ہونے کے باوجود اس پر شورائی نظام کا ٹھپہ نہیں لگوانا چاہتے۔ ان کی رائے میں موجودہ جمہوریت کو اس سے وابستہ حکمرانوں سمیت چلتا کرنا چاہئے اور چار سال کے لئے ایک ایسا عبوری نظام لایا جائے جس میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والوں کی کوئی پخ نہ لگی ہوئی ہو۔ ان کے خیال میں اب معاشرے کے دیانتدار طبقات میں سے ہر شعبے کے ٹیکنو کریٹ حضرات بشمول ججوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، صحافیوں، دانشوروں، علماءکرام، بیورو کریٹس وغیرہ وغیرہ کو اب چار سال کے لئے زمام اقتدار سنبھال لینی چاہئے، جو اس عرصہ میں انقلابی اصلاحی اقدامات کر کے جمہوریت کو عوام کے لئے قابل قبول بنائیں اور پھر اس جمہوریت کو نئے انتخابات کی صورت میں عوام کے پاس لے جائیں۔ اگر جمہوریت یہی ہے کہ ایک پارٹی کی حکومت سے عاجز آئے عوام نے اس بنیاد پر پھر اسی پارٹی کی حکمرانی کی راہ ہموار کرنی ہے کہ ان کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب کی رائے میں اس جمہوریت اور عوام کے مابین وسیع خلیج حائل ہو جانی چاہئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملتان کے ضمنی انتخاب کے نتائج اس جمہوریت کی بدترین مثال ہیں۔ جبکہ ایسی بدترین جمہوریت سے نجات کے لئے ڈاکٹر صاحب پاکستان کے عوام کو اتنا اہل بھی نہیں سمجھتے کہ وہ تیونس، مصر، لیبیا جیسا انقلاب برپا کر سکیں۔
قطع نظر اس کے کہ گذشتہ کم و بیش دس سال سے ملک سے باہر بیٹھے ڈاکٹر طاہرالقادری کے دل میں پاکستان کے لئے کسی متبادل نظام کی سوچ عین اس موقع پر کیوں پیدا ہوئی جب پہلے ہی یہاں مختلف حلقوں کی جانب سے کسی متبادل نظام کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، ایک بات تو طے شدہ ہے کہ ہمارے موجودہ منتخب جمہوری حکمرانوں نے اپنی بے ضابطگیوں، من مانیوں، اللے تللوں اور آئین و قانون اور انصاف سے سرکشی کی روش اختیار کر کے عوام کو جتنا زچ کیا ہے اور اقوام عالم میں وطن عزیز کی جو درگت بنائی ہے، انہوں نے عوام کی اپنی لائی گئی جمہوریت کو خود ہی اتنا آلودہ کر دیا ہے کہ عوام میں اب اس جمہوریت کا کوئی نام لیوا نظر نہیں آتا۔ اب کسی متبادل نظام کے قیافوں کی کھچڑی میں سے ڈھکن کھلنے پر کیا ”ہواڑ“ نکلتی ہے اس کا نتیجہ سامنے آنے میں یقیناً عوام کو اپنے اذیت کے لمحات میں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ لاوا پھٹنے کے قریب پہنچ چکا ہے تو اس لاوے کا باعث بننے والوں کی سزا محض اقتدار سے محرومی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر متبادل سوچنے اور ڈھونڈنے والوں کو بھی اب کڑی آزمائش سے گزرنا ہو گا، کوئی متبادل بھی ناکام ہو گیا تو پھر یہاں جمہوریت کے نام پر فرعونیت ہو گی اور اس کے ہاتھ روکنے والا بھی کیونکہ کوئی نہیں ہو گا، پھر بس رہے نام اللہ کا۔