سعودی عرب کا 87واں قومی دن

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
سعودی عرب کا 87واں قومی دن

ہر سال سعودی عرب کا قومی دن 23ستمبرکو سعودی عرب ،پاکستان سمیت پوری دنیا میں جوش وخروش سے منایا جا تا ہے دنیا بھر میں سعودی سفارت خانوں میںقومی دن کی تقریبات شایان شان منعقد ہوتی ہیں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سعودی سفارت خانہ کے زیر اہتمام ہر سال منفرد تقریب ہوتی ہے جس میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے طبقات کی نمائندگی ہو تی ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں نمایاں شخصیات کی شرکت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے قومی دن کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں ، سعودی سفارت خانہ جہاں قومی دن کی تقریبات میں موقع محل کی مناسبت سے تبدیلی کر تا رہتا ہے وہاں اب اس نے بڑے پیمانے پر انتظامات کے پیش نظر قومی دن کی تقریب ’’فائیو سٹار‘‘ ہوٹل میں منعقد کرناشروع کر دی ہے ۔وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کی قومی دن کی تقریب سب سے بڑی سفارتی تقریب ہوتی ہے۔ سعودی سفارت خانہ کے وسیع وعریض لان میں ہونے والی تقریب اپنی نوعیت کی منفرد تقریب ہے جس میں پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے پاکستان کی ہر قابل ذکر سیاسی ودینی جماعت کی قیادت سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کو یقینی بناتی ہے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے کہ سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں خواتین کی ایک بڑی تعدا د بھی شرکت کرتی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لئے کئے جا نے والے اقدامات کا اس کی سفارتی تقریبات میں عکس نظر آ رہا ہے میں پچھلے کئی سال سے سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات میں شرکت کر رہا ہوں میں نے یہ بات دیکھی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہو یا مارشلائی دور حکومت ۔ ہر دور حکومت میں سعودی عرب کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے قومی دن کی تقریب میں پاکستان کے سربراہ مملکت و حکومت کی سطح پر بھرپورنمائندگی ہوتی ہے اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب کے موقع پر وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیو یارک گئے ہوئے تھے لہذا اب کی بار ان کی نمائندگی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے کی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی قومی دن کی تقریب میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں ممکن ہے انہیں سیکیورٹی کی وجہ سے عوامی تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا ہو لیکن عام طور پر تقریب کے بعد سعودی سفارتخانہ جا کر قومی دن کی مبار باد دیتے ہیں بہرحال سعودی عرب کے قومی دن کا ایک مہمان ہر سال لاہور سے خاص طور پر تقریب میں شرکت کے لئے آتا تھا ۔پیرانہ سالی کے باوجود سابق صدر محمد رفیق تارڑ ہر سال سعودی عرب سے اظہار یک جہتی کے لئے تقریب میں شرکت کو یقینی بناتے ہیں لیکن اب کی بار عارضہ قلب کی وجہ سے وہ نہ آسکے سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں سیاسی و دینی شخصیات اپنی دیگر مصروفیات ترک کر کے شرکت کرتی ہیں سعودی عرب کا قومی دن’’ کل جماعتی اجتماع‘‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تقریب کا یہ طرہ امتیاز مختلف الخیال سیاسی و دینی شخصیات کو کھینچ لاتی ہے تقریب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، سردار محمد یوسف، امین الحسنات ، مولانا فضل الرحمنٰ، مولانا عبد الغفور حیدری ، لیاقت بلوچ ، چوہدری شجاعت حسین ،جنرل (ر)احسان الحق،گلگت و بلتستان کے وزیر اعلیٰ عبدالحفیظ، سینیٹر رحمنٰ ملک ، محمد اعجاز الحق ، محمد علی درانی ، مولانا فضل الرحمنٰ خلیل ، مولانا طاہر اشرفی ،فیصل کنڈی ، پروفیسر ساجدمیر ، سینیٹر شیریں رحمنٰ اور شیخ رشید احمد نے شرکت کی ۔ تقریب میں ممتاز مسلم لیگی رہنما و گرین ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر جمال ناصر خاصے سرگرم عمل نظر آئے وہ تازہ تازہ حج کر کے واپس آئے ہیں لہذا وہ تقریب کے شرکاء سے حج کی مباربادیں وصول کرتے رہے تھے ڈاکٹر جمال ناصر اپنی سماجی خدمات کی وجہ سے سیاسی و سماجی اور سفارتی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ تقریب کے میزبان نئے سعودی سفیر نواف سعید المالکی مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے چند روز قبل ہی پاکستان میں ان کی بطور سفیر تعیناتی ہوئی ہے وہ پاکستان میں سعودی عرب کے ملٹری ایڈوائزر رہ چکے ہیں اس لئے وہ سیاسی اور عسکری حلقوں میں مقبول سفارت کا ر ہیں انہوں نے پاکستان کی عسکری تربیت گاہوں میں تربیت حاصل کی ہے وہ پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں ان کے مختلف شخصیات سے ذاتی تعلقات ہیں۔ تقریب میں لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت اس بات کی غماضی کرتی ہے کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب سے بے پناہ محبت کرتے ہیںیہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں دونوں ممالک اسلام کے گہرے رشتے میں منسلک ہیں سعودی سفیر پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں جب کہ ہر پاکستانی سعودی عرب کو اپنا دوسرا وطن سمجھتا ہے قیام پاکستان سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اثر انداز نہیں ہوئیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں دونوں ملکوں نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے پاکستان میں کوئی ناگہانی آفت آ ئے ، زلزلہ سے تباہ کاریاں ہوں یا سیلاب لوگوں کا سب کچھ بہا لے جائے سعودی عرب متاثرین کی مددکیلئے دوڑ پڑتا ہے ایسے مواقع پر سب سے زیادہ ملنے والی امداد سعودی عرب کی ہوتی ہے ۔سعودی عرب کے قومی دن کا خاصا یہ ہے کہ تقریب کو سعودی عرب کے روایتی ماحول میں ڈھالنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے ’’ خیمہ بستی‘‘ سعودی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے سعودی عرب اور پاکستان کے قومی ترانوں سے تقریب کا آغاز ہوا ۔مہمان خصوصی سپیکر قومی اسمبلی نے دیگر شخصیات کے ہمرا ہ سعودی عرب کے 87ویں قومی دن کا کیک کاٹا۔ سفارت خانہ نے تقریب میں جہاں مہمانوں کے طعام ودہن کا اہتمام پاکستانی اور سعودی کھانوں سے کر رکھا تھا وہاں مہمانوں کو سعودی عرب کے بارے میں لٹریچر فراہم کیا جس کے ذریعے دور حاضر کے سعودی عرب کی حقیقی عکاسی ہوتی ہے اسی طرح قرآن پاک کے خوبصورت نسخے دئیے گئے ۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کی نوعیت عام نہیں ہے بلکہ سعودی عرب پاکستان کا واحد دوست ملک ہے جو پاکستان میں غیر یقینی سیاسی صورت حال میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے جب 70ء کے عشرے میںاس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کی قیادت کے درمیان اختلافات نے شدت اختیار کر لی تو یہ اس وقت کے سعودی سفیر ریاض الخطیب مرحوم ہی تھے جنہوں نے دو متحارب سیاسی قوتوں کے درمیان’’ ثالث اور ضامن ‘‘ کا کردار ادا کیا وہ کئی سال تک پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر رہے انہوں نے تو پاکستان کو عملاً دوسرا گھر بنا لیا بعد ازں العسیری پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر بن کر آئے تو کئی سال تک لوگوں کے دلوں پر نقش ہو کر رہ گئے جنرل(ر) پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999ء کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تویہ سعودی عرب ہی تھا جس نے میاں نواز شریف کی جلاوطنی میں مہمان نوازی کی شاندار مثال قائم کی جب محترمہ بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آگئیں تو سعودی عرب نے مداخلت کرکے میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ ہموار کی عبد العزیز ابراہیم الغدیر نے بھی ایک متحرک سفیر کی حیثیت سے لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کیا ہے انہوں نے’’ سماجی تعلقات میں مکالمے کی اہمیت ‘‘کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کے اردواور انگریزی میں تراجم بھی شائع کئے گئے ہیں ان کی دیگر تصنیفات بھی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو عربی ادب سے گہرا شغف ہے تقریب میں نوجوانوں کی ایک ٹولی کو سعودی عرب کا ’’تلواروں کا رقص ‘‘ کرتے دیکھا گیا سعودی سفارت خانہ پچھلے دو سال سے اسلام آباد کے ایک ’’فائیوسٹار‘‘ہوٹل میں تقریب منعقد کر رہا ہے چونکہ تقریب کے شرکاء کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر جانے کی وجہ سے ’’کھوا کھوے ‘‘ سے چھلنے لگتا ہے ایئر کنڈیشنڈ ہال میں نشستوں کا بندو بست نہ ہونے کی وجہ سے پسینہ میں شرابور عمر رسیدہ شرکاء کے لئے پریشان کن صورت حال پیدا ہو جاتی ہے تقریب میں ایک گوشہ پاکستان اور سعودی عرب کے حکمرانوں کے دوروں سے متعلق تصاویر کے لئے مختص کیا گیا چوہدری شجاعت حسین نے خاص طورپران تصاویر میں دلچسپی لی ان میں ان کی بحثیت وزیر اعظم تصاویر بھی شامل تھیں ۔ تقریب کے آغاز میں سعودی عرب کے نئے سفیر نواف سعید المالکی نے اپنی تقریر میں پاک سعودی عرب تعلقات کا خاص طور پر ذکر کیا گویا محبت کے زمزمے پھوٹ پڑے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا سب سے اچھا دوست ہے سعودی عرب اپنے برادر ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے جب کہ ان کی تقریر کے جواب میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ’’ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کے لئے ہمیشہ ساتھ کھڑا ہے‘‘ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کا بھی خاص طور ذکر کیا اور کہا کہ ’’ دونوں ملکوں کے درمیان گہری محبت اور پیار کے رشتے قائم ہیں ‘‘ سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب کی خوشبو سفارتی حلقوں میں تا دیر محسوس کی جاتی رہے گی ۔