آمرانہ جمہوریت۔۔۔۔۔۔

آمرانہ جمہوریت۔۔۔۔۔۔

جمہوری ملکوں میں سیاسی جماعتیں جمہوریت کی نمائندہ ہوتی ہیں اور پاکستان میں جمہوریت “ون مین شو “کو کہا جاتا ہے۔پاکستان میں نام نہاد دو بڑی جمہوری پارٹیاں مقبول تھیں۔ ایک پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی اور دوسری نواز شریف کی جماعت مشہور ہوئی۔ بھٹو برسوں پہلے انتقال کر گئے لیکن اج بھی ان کی پارٹی بھٹو کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ دوسری پارٹی نواز شریف نے بنائی اور پارٹی کا نام بھی نواز رکھا۔ بھٹو اور نواز ون مین شو پارٹی چلے آرہے ہیں اور ووٹ بھی ان دو اشخاص کو دیے جاتے ہیں ۔جمہوری ممالک کی نظر میں پاکستانی طرز جمہوریت کو “آمریت “کہا جاتا ہے۔ون مین شو ہے یہ جمہوریت۔ایک شخص کے بغیر جماعت بے وقعت ہو جائے تو جمہوریت کیسی ؟ ووٹ ایک شخص کو دیا جاتا ہے۔پالیسی ،نظریہ،کارکردگی ، ایجنڈا،کردار کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔اس آمرانہ جمہوریت کے ساتھ مزید مذاق یہ کہ ون مین جمہوریت میں بادشاہت و موروثیت بھی جاری ہے۔ دلچسپ امر یہ بھی کہ یہ ون مین شو پارٹیاں اس مضحکہ خیز طرز سیاست کو جمہوریت کہنے پر بضد ہیں ؟جمہوریت وہ ہے جو بھارت ،یورپ اور امریکہ میں رائج ہے۔ہر چار یا پانچ سال بعد سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پالیسی ایجنڈا کو ووٹ دیا جاتا ہے۔قیادت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔پاکستان میں تیسری سیاسی جماعت عمران خان نے بنائی۔ عمران خان کی جمہوریت بھی ان کے نام سے وابستہ ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی کہ اس ملک نے حقیقی جمہوریت کا مزہ چکھا ہی نہیں ۔ دو خاندان نسل در نسل آمرانہ سیاست کرتے چلے آرہے ہیں۔ امریکہ میں دو بڑی سیاسی جماعتوں ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کو دنیا جانتی ہے۔ یہاں نہ کوئی بھٹو ہے نہ نواز شریف۔” ون مین آمرانہ جمہوریت “کا رواج فقط پاکستان میں رائج ہے۔ اس ملک کی ساری جمہوریت قومی دولت کی ہیرا پھیری کے گرد گھوم رہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کے پسے ہوئے مسلمانوں کو ایک آزاد اسلامی ریاست کی نعمت سے نوازا تاکہ مسلمان ایک آزاد ریاست میں سانس لے سکیں۔پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا۔یہ ملک خداداد کسی ”ون مین جمہوری ایجنڈا” کا محتاج نہیں۔یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ ہر شخص کو اس دنیا سے ایکسپوز ہو کر جانا ہے۔ پاکستان کسی کا قرض نہیں رکھے گا اور نہ ہی کسی قرض دار کو معاف کرے گا۔ سب اس ملک کے مقروض ہیں، اس کے احسانات کے مقروض ہیں۔ جس شخص نے بھی اس ملک کو لوٹنے اور بیچنے کی کوشش کی، ذلیل و ر±سوا ہوا۔ پاکستان کو آزاد کرانے کی قیمت اس قدر بھاری ادا کی گئی ہے کہ اس کا قرض تا قیامت نہیں اتارا جا سکتا۔ کوئی ل±ٹیرا اس ملک سے بچ کر نکلنے کا تصور نہ کرے، جہاں جائے گا عبرتناک انجام پائے گا۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت اپنی زندگی میں ہی اس غریب ملک کو واپس کر دی جائے ورنہ یہ حرام کے جمع کئے ہوئے اثاثے گلے کا پھندا بنیں گے۔ دو گز کی زمین کو جنت کا باغ بنانے کے لئے ملک سے چ±رائی دولت ملک کے غریب عوام کو لوٹا دی جائے ورنہ ایک ایک پیسے کا حساب ہو گا اور قبر جسم کو اس زور سے جکڑ دے گی کہ ہڈیاں پسلیاں چٹخ جائیں گی اور پھر دوزخ کی کھڑکی کا دروازہ کھول دیا جائے گا کہ ہمیشہ کے لئے آگ میں جھلستے رہو۔ بدعنوان، کرپٹ لوگوں کو ملک کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی یاد کرائی جائے گی۔ بیگمات کے جسموں پر جھولنے والے زیورات اور ملبوسات دو گز زمین میں سانپ اور بچھو بن کر جسموں کو ڈس رہے ہوںگے۔ حرام کی کمائی کا ایک ایک پیسہ اور ایک ایک نوالہ جہنم کی آگ کے شعلے بن کر بھڑکے گا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ”بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے سے بچو۔“ ملک کی لوٹی ہوئی دولت کا ڈنگ ضمیر کو ڈستا رہتا ہے۔ غریبوں کی قربانیوں کا لہو پاکستان کی صورت میں اپنا نشان چھوڑ گیا ہے۔ پاکستان اپنی ایک ایک پائی کا حساب لے گا۔ پاکستان میں لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔ کھانے کو دو نوالے نہیں ،پینے کو صاف پانی میسر نہیں مگر اس ملک میں سیاست کرنے والوں کے ضمیر، گھر اور طرز زندگی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس شخص کو بھی موت یاد ہے، دو گز کی زمین پر ایمان ہے، وہ شخص اس پاک وطن کی لوٹی ہوئی دولت اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کا تصور نہیں کر سکتا۔ قبر میں جمہوریت و آمریت کا سوال نہیں ہوگا۔ قبر میں اس کلمہ کی بابت سوال ہو گا جس کو بنیاد بنا کرپاکستان لیا گیا اور مسلم لیگ بنائی گئی۔
٭٭٭٭٭