کچھ ایک سابق مقتدر شخصیت سے نتھی گفتگو پر!

کالم نگار  |  خالد احمد
کچھ ایک سابق مقتدر شخصیت سے نتھی گفتگو پر!


جنابِ پرویز مشرف نگران حکومت کے وجود میں آتے ہی ایک ہفتے کے اندر اندر واپس وطن پہنچ جائیں گے!یہ بات اُنہوں نے دبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی! اُن کا اپنا بیان تھاکہ اگر وہ اب ایسا نہیں کرتے ،تو، پھر کبھی ایسا نہیں کر سکیں گے!جنابِ پرویز مشرف نے کہا بلکہ فرمایا کہ وہ واپسی پر ترجیحاً کراچی میں اُترنا پسند کریں گے! اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ کشکول اُنہی کے ہاتھوں گر کرریزہ ریزہ ہوگیا تھا! مگر، اُنہوں نے اس ’سہولت‘ سے محروم ہو جانے پر بھی عوام کے لئے ہر سہولت فراہم کی!
جنابِ پرویز مشرف نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے! ملک میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی معاشرتی تباہی کا سبب بن رہی ہے!اور وہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی محبت میں اِنہی مسائل سے نمٹنے کے لئے واپس وطن آ رہے ہیں!
جنابِ پرویز مشرف نے کہا کہ اگر ہم لوگ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی خواہش رکھتے ہیں،تو، ہمیں آپس کے اختلافات بھلا کر مفاہمت کے چراغ جلانا ہوں گے! اُنہوں نے کہا کہ وہ مسلم امہ کی واحد جوہری طاقت کی ساکھ کے قیام اور مسلم امہ کی ترقی اورمعاشرتی امن و امان کے نسخہ جات اپنی بغل میں دبائے وطن پہنچیں گے! 
جنابِ پرویز مشرف نے کہا کہ پورا ملک داﺅ پر لگا ہوا ہے! اورانتخابی عمل سر پر آن پہنچا ہے! پاکستان سے محبت رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ فیصلہ کا وقت ہے! اور بتایا کہ اُنہیں پاکستان کا پیار پاکستان کھینچے لئے جا رہا ہے! انہوںنے فرمایا 2014 قریب ہے! جب افغانستان سے اتحادی افواج کا انخلا ہو گا! اور اس انخلاکے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے! اگر ہم اندرونی طور پر مستحکم نہ ہوئے،تو، مشکلات بڑھ جائیں گی! اُنہوں نے کہا کہ طالبان فرسودہ خیالات دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں! یہ وہ لوگ ہیں، جو مذہب کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں!
جنابِ پرویز مشرف نے فرمایا کہ ہزارہ برادری کے افراد پڑھے لکھے اور پاکستان سے محبت رکھنے والے ہیں! جنہیں پوری بے دردی کے ساتھ مارا جا رہا ہے! اسی لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا واپس پاکستان پہنچنا بہت ضروری ہے! لہٰذا اُنہوں نے ساتھیوں کی مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ وہ واپس وطن جائیں گے! حالانکہ اُنہیں بہت سے لوگ دَرپیش خطرات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں! لیکن یہ خطرات پہلے بھی موجود تھے! مگر، وہ سب کچھ خدا پر چھوڑ بیٹھے ہیں!اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک مقدمات کا تعلق ہے ،تو، کیا مجھے ملک میں ترقی کرنے ، سڑکیں بنانے، زراعت اور توانائی کے فروغ کے جرائم پر سزا دی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا، ’میں نے پاکستان کی معیشت کو دُنیا کی گیارہ بہترین معیشتوں میں لاکھڑا کیا! اور کشکول توڑ دیا! معیشت کی بہتری کی وجہ سے عوام کے چولہے جل رہے تھے! میں نے عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کیں! اگر ان وجوہات پر مجھے سزا بھی ملتی ہو، تو، قبول کرنے کے لئے تیار ہوں!
صد شکر کہ ہم نے جنابِ پرویز مشرف کے اشاراتِ گرامی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا! اور اُن کی بات درست تر انداز میں قارئین تک پہنچا دی!اب یہ فیصلہ کرنا قارئین کا کام ہے کہ جنابِ پرویز مشرف ابھی تک کن ہواﺅ ں میں اُڑانیں بھر رہے ہیں! اور اُن کے مصاحبین کا حلقہ کتنے ذہین اور فطین لوگوں پر مشتمل ہے! کہ وہ اُنہیں ابھی تک زمین پر پاﺅں نہیں رکھنے دے رہے! اور اُنہیں ہوا میں قصرِ صدارت تیار کرکے وہاں بٹھانا چاہتے ہیں!مزدور ہوا میں چکرا رہے ہیں! اینٹ دو! پتھر دو! گارادو! اور مصاحبین جنابِ پرویز مشرف سے سپلائی لائن قائم رکھنے کے لئے استدعا پر استدعا کرتے چلے جا رہے ہیں! تماشائی سوچ رہے ہیں کہ اگر یہ سپلائی لائن بحال بھی ہو جائے ،تو، یہ طوطے وہ ہوائی ایوانِ صدارت کیسے تعمیر کر لیں گے!