ایک کالم میں چار کالم

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

آج میں ایک کالم میں چار کالم لکھ رہا ہوں۔ تحریک انصاف کے لاہوری الیکشن۔ برادرم شیخ ریاض کو مبارکباد۔ آشفہ ریاض کے لئے تکلیف دہ تاثر۔ زعیم قادری کے لئے ایک برادرانہ مشورہ۔ تحریک انصاف کے لئے منصفانہ انتخابات کی خواہش پارٹی کے لئے مصیبت بن گئے ہیں۔ آغاز تو ہو گیا مگر اختتام ایک انجام بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ کام مکمل ہی نہیں ہوتا۔ تحریک کے لوگ انتخابات میں سونامی لانے کی خواہش میں خود سونامی کا شکار ہونے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ لاہور میں انتخابات ہوئے۔ علیم خان جیت گئے ہیں تو جماعتی اخلاص کا تقاضا یہ تھا کہ محمودالرشید اپنی شکست تسلیم کر لیتے۔ علیم خان کو مبارکباد دیتے۔ امریکہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہلیری نے ابامہ کو مبارکباد دی تھی پھر صدر ابامہ نے ہلیری کو وزیر خارجہ بنا دیا۔ امریکہ میں سیکرٹری آف اسٹیٹ کو دوسرے نمبر کا لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ اگلے صدارتی الیکشن کے لئے ہلیری بالکل تیار ہیں۔ ہلیری نے پاکستان کے ساتھ ایک بُری ساس کا برتاﺅ کیا ہے۔ محمودالرشید نے کچھ بے ضابطگیوں سے پارٹی لیڈر عمران خان کو آگاہ کیا اگرچہ ہم عمران خان کے نقاد بھی ہیں مگر یہ بات پسند آئی کہ انہوں نے محمود کو ہدایت کہ پارٹی میں انتشار نہیں پھیلانا چاہئے۔ انہوں نے علیم خان اور محمودالرشید دونوں کی پارٹی کے لئے خدمات کو سراہا۔ دونوں کی ٹیلی فون پر بات بھی کرائی۔ محمود نے علیم کو مبارکباد پیش کی۔ حافظ فرحت کے ساتھ آج دونوں کی ملاقات کا امکان بھی ہے۔ تحریک انصاف میں جو انتخابات ہو رہے ہیں اس کی مثال کسی سیاسی پارٹی میں نہیں ملتی۔ پارٹی لیڈر کی مرضی سے سارے عہدے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہی الیکشن ہے۔ قومی انتخابات کے لئے شور مچایا جاتا ہے اور اس کے لئے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ مگر کوئی آدمی بھی ہار جاتا ہے تو دھاندلی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال تحریک انصاف میں پارٹی انتخابات میں سامنے آ رہی ہے۔ علیم خان کی دولتمندی کے سائرن بجائے جا رہے ہیں تو یہ بتایا جائے کہ کس پارٹی میں دولتمند نہیں ہیں۔ پاکستان میں لیڈر کی بجائے پارٹی لیڈر ہوتے ہیں اور وہ دولت اور کرپشن کے حوالے سے ایک دوسرے پر بازی لے گئے ہیں۔ اب تو مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی اور کئی چھوٹے موٹے سیاستدان بھی کسی امیر کبیر پارٹی لیڈر سے پیچھے نہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی دولت ان کے کس کام آئے گی۔ ہمارا انتخابی کلچر یہ ہے کہ امیدوار کے لئے دولت مند ہونا ضروری ہے۔ عمران خان نے ایسے امیدوار اکٹھے کر لئے ہیں۔ 
شیخ ریاض میڈیا سے دوستانہ روابط استوار رکھتا ہے۔ اچانک خبر آئی ہے کہ اس کے ہونہار بیٹے ہشام ریاض کا رشتہ پیپلز پارٹی کی معروف اور خوبصورت رہنما شرمیلا فاروقی سے طے ہو گیا ہے۔ شرمیلا ٹی وی چینلز پر بہت اعتماد سے اپنی پارٹی کے حق میں بحث کرتی ہے۔ وہ عمر میں شاید عزیزم ہشام ریاض سے بڑی ہے۔ یہ بھی ایک روایت ہے جو کم کم حکایت بنتی ہے۔ چھوٹی عمر کی بیویوں سے بھی شکایت رہتی ہے۔
بے نظیر بھٹو نے ناہید خان اور صفدر عباسی کی شادی کرائی تھی۔ یقیناً اس شادی میں صدر زرداری کی مرضی اور تعاون ضرور شامل ہو گا۔ ناہید خان بے نظیر بھٹو کے بہت قریب تھیں اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ناہید خان اور صفدر عباسی ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ مگر کوئی رکاوٹ تھی۔ وہ بی بی کی مداخلت سے دور ہو گئی۔ اب وہ راضی خوشی رہتے ہیں مگر صدر زرداری سے ناراض ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ ہشام اور شرمیلا میں کوئی انڈرسٹینڈنگ ہے؟ بہرحال اللہ یہ رشتہ مبارک کرے اور یہ رفاقت محبت سے بھی بڑھ کر ہو۔
کہا ہے عارف کامل نے مجھ سے وقت وداع
محبتوں سے ہیں بڑھ کر رفاقتوں کے حقوق
آشفہ ریاض نے پانچ سال کے بعد ق لیگ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس موقعے پر ہمارے سیاستدانوں کو یاد آتا ہے کہ انہیں پارٹی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ انہوں نے ابھی دوسری پارٹی جائن نہیں کی۔ ان کی پالیسیوں سے ابھی اتفاق نہیں ہوا۔ آج کل سیاست میں لوٹوں کے ساتھ لوٹیوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ سیاسی لوٹے کا لوٹ مار سے کیا تعلق ہے۔ محترمہ آشفہ ریاض ہمارے دوست ریاض فتیانہ کی بیوی ہیں۔ وہ پچھلے دور میں ق لیگ میں تھے۔ وہ کہیں گے کہ یہ میری بیوی کا ذاتی فیصلہ ہے۔ وہ اس فیصلے میں شریک نہیں ہیں؟
مجھے یاد ہے کہ لاہور ائرپورٹ پر وہ چودھری پرویز الٰہی کے آگے پیچھے تھے۔ برادرم جی ایم سکندر بھی موجود تھے۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ میں نے اپنے شہر کے پاس ایک بستی بسائی ہے جس کا نام پرویز ٹاﺅن رکھا ہے۔ اس پر سکندر صاحب مسکرائے اور کہا کہ آپ نے ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ”چپڑیاں اور دو دو“ اس طرح پرویز ٹاﺅن میں آ کے جنرل پرویز مشرف بھی خوش ہو گا اور چودھری پرویز الٰہی بھی اچھا محسوس کریں گے۔ مجھے چودھری صاحب کے لئے اب معلوم نہیں کہ وہ وہاں جائیں گے یا نہیں جائیں گے البتہ ریاض فتیانہ جنرل مشرف سے کہیں کہ وہ پاکستان میں آئیں تو سیدھے پرویز ٹاﺅن میں آئیں۔ 
برادرم زعیم قادری جنرل مشرف کے خلاف جدوجہد میں ہمارے ساتھ تھے۔ کلثوم نواز کی طرف سے تحریک جمہوریت میں بھی ہم شریک تھے۔ لگتا ہے کہ تحریک جمہوریت اور تحریک جلاوطنی میں کوئی فرق نہیں۔ اب تحریک ہم وطنی کی ضرورت ہے؟ زعیم قادری بڑے دھڑلے سے ن لیگ کی وکالت ٹی وی چینلز پر کرتے ہیں۔ جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔ محبت یہ ہے اور سیاست یہ ہے کہ نواز شریف کہیں کہ سورج مغرب سے نکلتا ہے تو زعیم کہیں گے کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ سورج مغرب سے نکلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد سونامی خان تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ تاریخ کا حصہ تو نواز شریف بھی ہوں گے۔ دو دفعہ وزیر اعلیٰ دو دفعہ وزیراعظم۔ تو کیا تاریخ انہیں بھلا دے گی؟ زعیم بھائی جوش میں یہ سوچ لیا کریں کہ وہ مخالفین کی تعریف کر رہے ہیں یا ان پر تنقید کر رہے ہیں عمران تو ابھی حکومت میں بھی نہیں آئے۔ اگر تاریخ انہیں یاد رکھے گی تو یہ ان کا کریڈٹ ہے ویسے ڈس کریڈٹ کے لئے بھی تاریخ لوگوں کو یاد رکھتی ہے۔ زعیم ایک مخلص اور محنتی ورکر ہے۔ خواجہ سعد رفیق بھی اس حوالے سے اس کی تعریف کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب زعیم بھائی کی تربیت کریں۔ یہ نہیں ہو سکتا تو اس کی اصلاح ہی کریں۔