اُچا ’’برج‘‘ لاہور دا … کرنل (ر) امجد حسین

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
 اُچا ’’برج‘‘ لاہور دا … کرنل (ر) امجد حسین

اکتوبر 1937ء کی بات ہے لکھنؤ میں راجہ صاحب محمود آباد کی حویلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی پوری قیادت قائداعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سر جوڑ کر بیٹھی تھی ان قائدین میں لاہور کا ایک نوجوان بھی پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نمائندگی کر رہا تھا جسے علامہ اقبال نے اس تاریخی اجتماع میں بھجوایا تھا اس کا نام سید امجد حسین تھا وہ قائد اعظم سے والہانہ محبت میں لاہور سے لکھنؤ جا پہنچا تھا یہ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ سیشن تحریک پاکستان کے لئے ’’ٹرننگ پوائنٹ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے اسی سیشن میں پہلی بار محمد علی جناح کو قائد اعظم کا خطاب ملا وہ پہلی بار شیروانی پر کیپ پہن کر آئے جسے ’’جناح کیپ‘‘ کا نام ملا نوجوان سید امجد حسین کی موجودگی میں لاہور کے ہی فیروز الدین کاڈھا نے ’’شنہشاہ ملت قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا کر قائد اعظم کو اپنی طرف متوجہ کیا تو انہوں نے اسے’’شنہشاہ ملت‘‘ کا نعرہ لگانے روک دیا اور کہا کہ مجھے ’’بادشاہ مت کہو‘‘ جس کے بعد فیروز الدین نے دوبارہ ’’قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا۔ لکھنؤ میں یہ نعرہ کیا لگا برصغیر پاک وہند کے ہر مسلمان کی زبان پر یہ نعرہ مچلنے لگا۔ محمد علی جناح ’’قائد اعظم‘‘ بن گئے۔ 23مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں قرارداد پاکستان منظور کی جارہی تھی، اس تاریخی اجتماع میں نوجوان سید امجد حسین بھی قرارداد پاکستان کی منظوری میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے موجود تھا ان کے ہمراہ ان کے بھانجے سید خالد حسین بھی تھے جنہوں نے منٹو پارک کے اس تاریخی اجتماع کو 8ایم ایم کے ویڈیو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا یہ فلم آج بھی ہماری قومی دستاویزات کا حصہ ہے جس میں پر جوش سید امجد حسین کو بار بار دکھایا گیا۔ سید امجد حسین آج منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہے ہیں انہوں نے کرنل(ر) امجد حسین کے نام سے شہرت پائی گو کہ ان کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا لیکن انہوں نے پوری زندگی لاہور میں گذار دی، ان کا شمار ان ٹھیٹھ ’’لاہوریوں‘‘ میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا بلکہ عمر بھر اسلامی نظام کے نفاذ کے قائم کردہ اس تجربہ گاہ کی ایک ’’برج‘‘کے طور حفاظت کی، وہ حقیقی معنوں میں نظریاتی سرحدوں کے قلعے کی مضبوط فصیل کے بڑے ’’برج‘‘ تھے جو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور عناصر کے سامنے شمشیر برہنہ بن کر کھڑے ہو جاتے۔ وہ صحیح معنوں میں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ تھے درحقیقت ان کی دوستی کا آغاز مرحوم حمید نظامی کے ساتھ ہوا جو ان کی وفات کے بعد مرحوم مجید نظامی نے عمر بھر نبھائی یہ دوستی کلی طور پر نظریاتی بنیادوں پر قائم تھی دونوں کا جینا مرنا، اٹھنا بیٹھنا صرف پاکستان کے لئے تھا یہی وجہ ہے کرنل (ر) امجد حسین نے مرحوم مجید نظامی کی سربراہی میں قائم ہونے ’’نظریہ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کو اپنی زندگی دے دی۔ کرنل(ر) امجد حسین کی دوستی کا معیار اسلام اور نظریہ پاکستان ہی تھا مرحوم مجید نظامی کی طرح اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے کے سامنے بچھے جاتے تھے لیکن پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے کوشاں لوگوں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔ انہوں نے1942ء میں فوج جوائن کر لی دوسری جنگ عظیم میں مشرق وسطیٰ میں اپنی خدمات انجام دیں، 1956ء میں انہیں اعلیٰ کورس کے لئے برطانیہ بھجوایا دیا گیا جہاں سے انہوں نمایاں پوزیشن میں کورس مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے موقع پر ہندوستان سے پاکستان آنے والے مسلمانوں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لئے اپنی بٹالین کو سرگرم عمل رکھا۔ ڈاکٹر مبشر حسن کا خاندان پانی پت میں فسادات میں پھنس گیا تو یہ کرنل امجد حسین ہی تھے جنہوں نے فوجی دستہ بھجوا کر ان کو محفوظ لاہور پہنچایا۔ 1957ء میں جنرل محمد ایوب خان نے کرنل امجد حسین کو انڈونیشیا میں فوجی اتاشی بنا کر بھیجا جہاں 1955 کی بنڈونگ کانفرنس کے بعد بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے انڈونیشیا پر گہرے اثرات مرتب تھے۔ اس وقت صدر سوئیکارنو کی حکومت تھی، وہ بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے بہت قریب تصور کئے جاتے تھے۔ کرنل امجد حسین نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان فوجی تعلقات کو مستحکم کیا جس پر 1963ء میں انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے انہیں انڈونیشیا کا سب سے بڑا فوجی ایوارڈ star of merit دیا۔ کرنل امجد حسین کی دن رات کی محنت کا نتیجہ تھاکہ انڈونیشیا کی دفاعی پالیسی میں تبدیلی آئی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوگیا اس کا کریڈٹ نوجوان آرمی افسر کرنل سید امجد حسین کو جاتا ہے جس نے انڈونیشیا کو پاکستان کے اس حد تک قریب کر دیا تھا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں انڈونیشیا نے اپنا تمام دفاعی ساز و سامان پاکستان کے حوالے کرنے کی پیشکش کر دی تھی۔ انہوں نے فوج میں مختلف حیثیتوں سے خدمات انجام دیں ریٹائرمنٹ کے بعد 1971ء کی جنگ میں دوبارہ انہوں نے فوج کو اپنی خدمات پیش کر دیں۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے لاہور میں مجید نظامی کے ساتھ نظریہ پاکستان کا مورچہ لگا لیا اور پھر عمر بھر ان کے ساتھ مورچہ زن رہے۔ کرنل امجد حسین درویش صفت انسان تھے ان کی نگاہ ہمیشہ بلند ہوتی تھی وہ پاکستان کو دنیا کی اقوام میں عظیم ترین ملک دیکھنا چاہتے تھے وہ عاشق رسولؐ، عاشق قائد اعظم و عاشق علامہ اقبال تھے ہر وقت علامہ اقبال کے شعر گنگناتے رہتے تھے۔ 97سال کی عمر پائی، وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی تقریبات میں پون پون گھنٹے کھڑے ہوکر نظریہ پاکستان کو بیان کرتے لیکن ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آتی۔ مرحوم حمید نظامی اور مرحوم مجید نظامی سے ان کی دوستی کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے مرحوم مجید نظامی نے اپریل 2004ء میں نوائے وقت ہائوس میں حمید نظامی ہال کا افتتاح کرنل (ر) امجد حسین کے ہاتھوں کرایا۔ کرنل (ر) امجد حسین نے پانچوں بچوں (تین بیٹوں اور دو بیٹیوں) کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ مجاہد حسین سید، مواحد حسین سید اور مشاہد حسین سید نے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ مجاہد حسین سید نوائے وقت کے گروپ منیجر ہیں جب کہ مواحد حسین وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق معاون خصوصی، اٹارنی بار ایٹ لاء سپریم کورٹ واشنگٹن ڈی سی رہے ہیں۔ مشاہد حسین سید کا شمار ملک کے ممتاز سیاست دانوں میں ہوتا ہے انہوں نے صحافت سے اپنے کیئریر کا آغاز کیا، کوچہ سیاست میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، وہ وفاقی وزیر بھی رہے اور بارہا ایوان بالا کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں، وہ اس وقت سینٹ کی مجلس قائمہ برائے دفاع کے چیئرمین اور سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ کے طور پاک چین تعلقات کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کرنل (ر) امجد حسین اپنی اولاد کے بارے میں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ؎

یہ فیضان نظر تھا نہ کہ مکتب کی کرامت
سکھایا کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
کرنل (ر) امجدحسین نے اپنے بچوں کو ہمیشہ تلقین کی ’’قائد اعظم کے ارشادات پر عمل کرو، رزق حلال کمائو اور کلمہ حق کہو‘‘۔ مشاہد حسین سید نے دیگر بھائیوں کے ہمراہ 18 جون 2017ء کو اپنے والد کرنل(ر) امجد حسین کے کے ساتھ ’’فادرز ڈے‘‘ پر کیک کاٹا۔ اس موقع پر مشاہد حسین سید نے ’’عاشق اقبال‘‘ کو ’’کلام اقبال‘‘ سنایا ؎
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں
کرنل (ر) امجد حسین بھی اکثر علامہ اقبال کا یہ شعر گنگناتے رہتے تھے ؎
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے ناامیدی
مجھے بتائو اور کافری کیا ہے
کرنل صاحب کی پیر مہر علی شاہ صاحب سے پہلی ملاقات 1950ء میں گولڑہ شریف میں ہوئی پھر ان کے گرویدہ ہوگئے۔ پیر مہر علی شاہ کا یہ شعر اکثر ان کی زبان پر ہوتا ؎
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کتھے جا اڑیاں
مولانا عبدالستار نیازی، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ڈاکٹر مبشر حسن کے بھائی ڈاکٹر شبر حسن، ڈاکٹرانوار الحق، شیخ خورشید احمد، آغا شورش کا شمیری، حمید نظامی، مجید نظامی اور کرنل (ر) امجد حسین کے ذکر کے بغیر لاہور کی تاریخ نامکمل ہو گی یہ سب کرنل (ر) امجد حسین کے دوست تھے دریائے راوی جو اب سندھ طاس معاہدے پر ماتم کناں ہے کی مشہور بارہ دری ان کی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ کرنل (ر) امجد حسین کا تعلق لاہور کی ممتاز سید فیملی سے ہے جس نے 90 سال قبل ماڈل ٹائون سے متصل مسلم ٹائون کی بنیاد رکھی۔ وہ زمانہ طالبعلمی میں اسلامیہ کالج لاہور کے طالبعلم تھے، یہیں ان کی حمید نظامی مرحوم سے دوستی کا آغاز ہوا، وہ علامہ اقبال کے عشق میں مبتلا تھے، بارہا ان کے ہاں حاضری دیتے، انہوں قائد اعظم سے کئی ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں کا نہ صرف پوری زندگی ان پر اثر رہا بلکہ ان کی اولاد بھی قائد اعظم و علامہ اقبال کے افکار کو پیش نظر رکھ کر قومی زندگی میں اپنا کردار ادا رہی ہے۔