حافظ محمد سعید سے ملاقات

حافظ محمد سعید سے ملاقات

میںنے سوچا کہ حافظ سعید کی رہائی پر مبارک باد دینے خود جانا چاہئے، ایک رکشہ پکڑا، تیس کلو میٹر کافاصلہ طے کرنے میں ہڈی پسلی ایک ہو کر رہ گئی ۔مگر شوق فراواں تھا ، سب تکلیفیں اس کے سامنے ہیچ تھیں۔مجھے اس شخصیت کے ہاتھ چومنے تھے اورا سکے ماتھے پر بوسہ دینا تھا جو قائد اعظم کے فرمان پر آج ستر برس بعد بھی پہرہ دے رہاہے، وہ میرے مرشد مجیدنظامی کی نشانی ہے،وہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتا ہے اور اپنی حکومت ا ورقوم کا شعور بیدار کرنے میں پیہم مصروف ہے کہ کشمیر کی بھی کچھ خبر لو، کشمیریوں کی بھی خبر لو کہ ہر روز انہیں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں شہید کیا جا رہا ہے، پیلٹ گولیوں سے انہیں اندھا کیا جا رہا ہے، ان کے تمام حریت رہنما نظر بند ہیں یا پابند سلاسل اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے۔
میں حافظ سعید صاحب کے حجرے میں پہنچا، یہ بقعہ نور بنا ہو اتھا، چاروں طرف نور ہی نور تھا اور اللہ پاک کی رحمت اورا سکے کرم کا سایہ۔ بندگان خدا پر خدا خود پہرا دیتا ہے۔۔حافظ سعید کے سر کی قیمت مقرر ہے مگر کسی کو ہمت نہیں کہ حافظ سعید کی طرف بُری آنکھ سے بھی دیکھے۔ ہاں ، کچھ کمزور ہمت عناصر ایسے ضرور ہیں جو بھارت ا ور امریکہ کے دباﺅ کے سامنے جھک جاتے ہیں اور کبھی کبھار حافظ صاحب کو نظر بند کر کے یا ان کے خلاف لعن طعن کر کے بھارت اور امریکہ کی خوشنودی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے وہ نو ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا ہوئے مگر ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے کہ اسے کیوں رہا کر دیا۔ عدالت میں جج صاحب نے بار بار پوچھا کہ انہیں کیوںنظر بند کرتے ہو، کیا گناہ سرزد ہو گیا ان سے مگر استغاثہ سے جواب نہیں بن پڑتا تھا، بس کہتے تھے کہ انہیں نظر بند نہ کیا تو پاکستان کی اقتصادی ا ور فوجی ا مداد بند ہو جائے گی، قوم فاقوں کا شکار ہو جائے گی۔ جج صاحب پوچھتے تھے کہ نظر بندی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، آپ لوگ کب تک انہیں بند رکھنا چاہتے ہیں، جواب ملتا کہ ہمیشہ کے لئے ، مگر ہمیشہ نظر بندی کی قانون تو اجازت نہیں دیتا، جج صاحب نے حافظ سعید کو باعزت بری کر دیا۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ نظر بندی پر اصرار کرنے والوں میں صرف وزارت داخلہ کے لوگ نہیں تھے، وزارت خارجہ کے بھی تھے، وزارت خزانہ ا ور سٹیٹ بنک کے نمائندے بھی ان کی رہائی کے خلاف دلائل دے رہے تھے۔ جج صاحب نے ایک موقع پر حافظ صاحب سے بھی پوچھا کہ آپ کا کیا جرم ہے ، انہوںنے خود بولنے کے بجائے بھارتی اخبار کا ایک تراشہ جج صاحب کے سامنے پیش کر دیا۔ اس تراشے سے صاف ظاہر تھا کہ نظر بندی کا مطالبہ بھارت کا تھا۔ حافظ صاحب نے کہا کہ یہ سب لوگ بھارت کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔
مجھے یہ باتیں حافظ صاحب کے معاونین نے بتائیں جو اس پیشی پر عدالت میں موجود تھے۔
بالآخر کمرے میں حافظ صاحب تشریف لائے ، مجھے پتہ چلا کہ مرکز میں سب لوگ حافظ صاحب کو امیر محترم کے لقب سے پکارتے ہیں، وہاں سب نوجوان تھے، عاجزی اور انکساری کے پیکر، کوئی بھی امیر محترم کے سامنے اونچی زبان میں نہیں بول رہا تھا۔امیر محترم خاموش ہوتے تو ایسی خاموشی طاری ہو جاتی کہ صرف سانس لینے کی آواز آتی۔
مجھے یوںلگا کہ میں سید بادشاہ کے ایک قافلہ سالار کے حضور پیش ہوں ۔ سید بادشاہ کا قافلہ دہلی سے چلا تھا اور بالا کوٹ کے جنت نظیر مقام پر اس کا اختتام ہوا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میرے آباﺅ اجداد بھی سید بادشاہ کے قافلے میں شامل رہے، میرے والد گرامی میاں عبدالوہاب کی حویلی میں صوفی ولی محمد کا قیام تھا، وہ کہاں سے آئے اور پھر کہاں چلے گئے، اسکے بارے میںکوئی نہیں جانتا مگر وہ سید احمد شہید بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کی قوس قزح کے ایک جگمگاتے ستارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ آج خورشید محمود قصوری کا ستارہ عروج پر ہے، انہیں خبر نہ ہو گی کہ ان کے بزرگ محی الدین قصوری اور معین الدین قصوری صوفی ولی محمد کی بیعت میں تھے اور تحریک جہاد میں دامے درمے سخنے مدد فراہم کرتے تھے۔ ایک روز یہ ہوا کہ انگریز ایس پی نے ا س مسجدکا محاصرہ کر لیا جہاں صوفی ولی محمد عصر کی نماز پڑھا رہے تھے، انگریز افسرخوشی سے پھولے نہ سما رہاتھا کہ ا سکے ہاتھ ایک بہت بڑا شکار لگنے والا ہے مگر ہمارے بزرگوں کی روایت ہے کہ صوفی صاحب نے نماز مکمل کی اور آیہ کرسی کی تلاوت فرماتے ہوئے محاصرے سے نکل گئے مگر حقیقت کچھ اور تھی کہ ہمارا گھر مسجد سے ملحق تھا اور ایک کھڑکی گھر کے کمرے میں کھلتی تھی، ایک صدی ہونے کو آئی، یہ کھڑکی اپنی جگہ پر آج بھی موجود ہے ۔ صوفی صاحب اسی کھڑکی کے ذریعے وہاں سے غائب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، کسی نے کہا کہ وہ بہالپور چلے گئے ہیں، کسی نے کہا کہ مدینہ شریف کا رخ کیا ہے۔
مجھے یہ سب کچھ اسوقت یادا ٓیا جب میں تحریک جہاد کے ایک اور سرخیل حافظ محمدسعید کے سامنے دو زانو بیٹھا تھا۔ حافظ سعید صاحب ،سید احمد شہید بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کی روایات کو آگے بڑھانے کا فریضہ ا دا کر رہے ہیں مگر اب ان کے راستے میں بے پناہ مشکلات ہیں، کاش ! خدا نے انہیں قائداعظم کے دور میں کشمیر فتح کرنے کا موقع دیا ہوتا تو آج لاکھوںکشمیری بھارتی فوج کی بربریت کا شکار نہ ہوتے، آزادی کا حصول کوئی گنا ہ نہیں ، خود انڈین کانگرس نے آزادی کی جنگ لڑی، ماﺅزے تنگ نے آزادی کی جنگ لڑی، نیلسن منڈیلا نے آزادی کی جنگ لڑی اور جارج واشنگٹن نے آزادی کی جنگ لڑی، دنیا کے بیسیوںملکوںنے قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی، حافظ سعید،قائد اعظم کے دور میں ہوتے تو آرمی چیف کے انکار سے کوئی فرق نہ پڑتا، حافظ صاحب کی پکار پر لاکھوں نوجوان کمر ہمت کستے ا ور بھارتی فوج کو وادی کشمیر سے ذلیل و رسوا کر کے نکال باہر کر دیتے۔!!!
حافظ صاحب مشکلات کا شکار ضرور ہیںمگر وادی میں برہان وانی شہیداور اس کے پیرو کار جانیں ہتھیلی پر رکھے بھارتی جابر فوج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں، کشمیری مائیں ان شہیدوں پر بین نہیں کرتیں، ان کے نوحے نہیں پڑھتیں، ان کی میتوں کے ہاتھوں پر مہندی لگاتی ہیں، ان کے سروں پر سہرے سجاتی ہیں اور انہیں دولہا بنا کر جنت کی طرف الوداع کر دیتی ہیں۔
میں تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ کہیں حافظ صاحب جیسے جوشیلے مردان کارزار قائد اعظم کی مسلم لیگ کے یوتھ ونگ کی قیادت کر رہے ہوتے تو ہندو اور سکھ کو پنجاب کی تقسیم کی جرات ہی نہ ہوسکتی ، اور اس قتل عام کی نوبت نہ آتی جس میں ہماری ماﺅں بہنوں اور معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ کانگرس نے اپنا جنگجو جویوتھ ونگ منظم کر رکھا تھا، مسلمان گونا گوںمسائل کی بنا پر اس طرف توجہ نہ کر سکے اور ہندو کو من مانی کا موقع مل گیا، انگریز اس کی سازش میںبرابر کا شریک تھا۔
بہر حال جہاد کی طرف سے غفلت برتنے پر ہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا، قائد اعظم نے کہا کہ انہیں ایک کٹا پھٹا پاکستان دیا گیا ہے، انہیں یہ بھی کہنا پڑا کہ ان کی جیب کے سکے کھوٹے نکلے۔
کھرا سکہ دیکھنا ہو تو حافظ سعید کو دیکھئے اور انہیں اپنی آ ٓدرش کی تکمیل کا موقع دیجئے ، وہ قائد کے کٹے پھٹے پاکستان کو مکمل کرنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں، یہ اللہ کاان پہ خصوصی کرم ہے۔ وہ ایک ایسے قابل فخر قافلے کا نشان ہیں جس نے میدانوں، صحراﺅں،پہاڑوںاور سمندروں پر خدا کے دین کو نافذ کیا۔وہ ایک صالح معاشرے کے نقیب ہیں ، ایک فلاحی نظام کی تکمیل میں آج بھی کوشاں ہیں، زلزلہ ہو، سیلاب ہو، خشک سالی ہو، قحط کی کیفیت ہو ، وہ ہر ضرورت مند کی حاجت روائی کرتے ہیں۔
حافظ صاحب کے چاہنے والوں کو میں خوش خبری سنا دوں کہ وہ ان کی نظر بندی سے ہر گزپریشان نہ ہوں، اللہ نے یہ نظر بندی بھی ان کے لئے مفید بنا دی، وہ اب پہلے سے زیادہ چوکس ، پھرتیلے اور تنو مند ہیں، اب کوئی دن آتا ہے کہ وہ اپنے شریک سفر اور قریبی ساتھی جناب امیر حمزہ جیسی چیتے کی طرح جست لگاتے نظر آئیں گے۔
آخر میں،میں امیر محترم کے سوال پر کچھ ملول سا ہو گیا، انہوںنے میری صحت کے بارے میں پوچھا کہ کیا ماجرا ہے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق خود آپ کی عیادت کے لئے آپ کے گھر گئے۔ میںنے حجرے کی چھت کو گھورتے ہوئے کہا کہ قبلہ! ایک دور تما م ہوا۔ ایک حکائت مکمل ہوئی، ایک داستان کا خاتمہ ہوا۔ایک قیمتی نعمت چھن گئی۔ ہے،۔ لکھنے پڑھنے سے معذور ہو رہا ہوں۔ رزق تو رب کریم پتھر میں بند کیڑے کو بھی عطا کرتا ہے، ایسا کو ئی خوف تو ہر گز لاحق نہیں مگر وہ جو خدا نے کہاہے کہ اس قلم کی قسم! اور جو کچھ ا س سے لکھتے ہو اس کی قسم ۔ میں اس خدا سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے ہاتھ میںمیرا قلم تھمائے رکھے۔
امیر محترم نے کہا کہ میںنے آپ کے کالم میں یہ گلہ پڑھا تھاکہ ہم نے آپ کو بروقت رہائی کی خبر نہیں دی، اصل میں میں آپ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا اور خودگھر حاضر ہو کر عیادت کرنا چاہتا تھا۔ آپ دل نہ چھوڑیں، حوصلہ نہ ہاریں ، ہم آپ کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑے ہوں گے ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے لئے ہیں، ہم آپ کی تنہائیوں کے ساتھی بنیں گے، ہم آپ کا ہاتھ تھامیں گے اورا ٓپ کے لئے راستوں کو اجالیں گے ۔اور آپ کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا سفر تھمنے نہیں دیں گے۔
یہ دعائیں لےکر میں امیر محترم کی مجلس سے رخصت ہوا۔