’’عِمرانِیات، القادرِیات و دِیگرِیات‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
’’عِمرانِیات، القادرِیات و دِیگرِیات‘‘

آج 3 اگست ہے اور دو دِن پہلے ایک حکومتی ترجمان نے کہا تھا کہ ’’ہمارے عِمران خان اور علّامہ القادری سے رابطے ہیں اور ہم اُنہیں منانے کی کوشش کریں گے اور 14 اگست کو جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گا وہ خُود بھُگتے گا۔‘‘ یعنی ’’منّ منوتی‘‘ اگر تِین اور تیرہ کے درمیان ہو جائے تو غنیمت وگرنہ 14 اگست قانون کو ہاتھ میں لینے والے خُود بھُگتیں گے۔ یعنی حکومت کا ذِمّہ دوش پوش لیکن یہ تو منانے والی بات نہ ہُوئی بقول شاعر  ؎
’’مانو نہ مانو ہم نے خبردار کر دِیا‘‘
کی قِسم کی چیز ہے۔ سیاست میں مختلف سیاستدانوں کا ایک دوسرے سے رُوٹھنے اور منانے کا عمل جاری رہتا ہے اور محبت میں بھی ’’محبت‘‘ خلوص پر مبنی ہوتی ہے لیکن سیاست میں خلوص کے بجائے نظریۂ ضرورت ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا تھا کہ  ؎
’’بے سبب مجھ سے رُوٹھنے والے!
کوئی صُورت تُجھے منانے کی؟‘‘
ایسی کیفیت میں رُوٹھے دوست یا محبوب کو منانے کے لئے آخری حد تک جانا پڑتا ہے (پائوں پڑنے تک بھی) اِس بات کی پروا نہیں کی جاتی کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ رقِیبانِِ سیاست لوگ کیا کہیں گے؟ کے فلسفے کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ دونوں فریقوں کو اپنی اپنی اناء کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر اُن کا ووٹ بنک مُتاثر ہو سکتا ہے۔ عِمران خان نے 13مئی 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر قومی اسمبلی کے چار انتخابی حلقوں کی تحقیقات کا مطالبہ کِیا تھا۔ حکومتی پارٹی کے بعض ارکان نے قومی اسمبلی کے ایوان میں یہ مطالبہ مان بھی لِیا تھا۔ پھِر معاملہ قانونی مُوشگافیوں کی نذر ہو گیا۔ سیاست میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی کے 4 انتخابی حلقوں کی تحقیقات کے مطالبے سے بڑھ کر اب عِمران خان نے نئے سرے سے عام انتخابات کا مطالبہ کر تے ہوئے اعلان کِیا ہے کہ ’’14 اگست کو آزادی مارچ کے شُرکاء جب اسلام آباد میں دھرنا دیں گے تو وہ حکومت کے خلاف ہماری کھُلی جنگ ہو گی۔ (یعنی تخت یا تختہ)۔ آزادی مارچ کا آغاز اور انجام کیا ہو گا؟ کوئی نہیں جانتا لیکن حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں امن و امان کو برقرا رکھنے کے لئے تین ماہ تک پاک فوج کی خدمات حاصل کرنے سے تو یہی لگتا ہے۔ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ’’پنجاب حکومت ’’آزادی مارچ‘‘ کو اسلام آباد تک پہنچنے دے گی یا نہیں؟ اور وفاقی حکومت اُس وقت کیا کرے گی جب لانگ مارچ کے شُرکاء وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے؟
خبر ہے کہ ’’عِمران خان سے مذاکرات کے لئے وفاقی وزیرِداخلہ چودھری نثار علی خان نے چار نکاتی ایجنڈا تیار کر لِیا ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ ’’نئے انتخابات کرانے کے سِوا تمام مطالبات پر غور کرنے کے لئے کمیٹی بنائی جائے گی۔‘‘ چودھر ی صاحب عِمران خان کے دوست ہیں۔ جِن دِنوں وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ناراض تھے عِمران خان نے اُنہیں تحریکِ انصاف میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی۔ کیا چودھری صاحب عِمران خان کو منانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا عِمران خان چودھری نثار علی خان کی دوستی میں اعلان کر دیں گے کہ  ؎
’’خاطر سے یا لحاظ  سے مَیں مان تو گیا!‘‘
پھِر عمران خان کو ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ خاص طور پر پاکستان تحریکِ انصاف کی دوسرے اور تیسرے درجے کی ’’بہت ہی سیانی قیادت‘‘ اور پُرجوش کارکنان بھی میری اور ہر مُحبِّ وطن پاکستانی کی خواہش ہو گی کہ معاملات بگڑنے سے پہلے ہی کچھ ’’مُکّ مُکا‘‘ ہو جائے لیکن اگر آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہو جاتا ہے اور اُس میں کچھ نامعلوم شرپسند بھی شامل ہو جاتے ہیں (جِس کا امکان بہت زیادہ ہے) تو اُن کی شر پسندی کی وجہ سے اسلام آباد کی حفاظت پر تعینات پاک فوج کا کوئی جوان ایک بھی گولی چلا دے توکیا ہو گا؟ یہ بات عِمران خان کو بھی سوچنا ہو گی جن کی پارٹی مئی 2013ء کے عام انتخابات میں ووٹوں کے لحاظ سے دوسری بڑی پارٹی بن کر اُبھری تھی۔ جو لوگ علّامہ طاہر القادری کو منانے کی ’’خوش فہمی‘‘ میں مُبتلا ہیں وہ شاید سیاست کی ابجد بھی نہیں جانتے۔ شاعر نے شاید علّامہ  القادری جیسے لوگوں کے لئے کہا تھا کہ  ؎
’’ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ‘‘
جب بھی کوئی وزیرِ باتدبِیر علّامہ طاہر القادری کو منانے کی کوشش کرے گا تو اُن کا پہلا مطالبہ یہ ہو گا کہ ’’وزیرِاعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنے اپنے عہدوں سے مُستعفی ہوں اور اُن پر اور سانحہ ماڈل ٹائون میں میرے نامزد کئے گئے وفاقی اور صوبائی وُزراء پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے اُس کے بعد مَیں اپنے اعلان کے مطابق انقلاب لے آئوں گا اور ’’قائدِانقلاب‘‘ کی حیثیت سے لاکھوں کرپٹ لوگوں کو خود پھانسی دے دوں گا۔‘‘ کیا ہی اچھا ہو کہ علّامہ طاہر اُلقادری کو منانے کے بجائے اسلام آباد میں کینیڈین ہائی کمشنر کے تعاون سے اُنہیںکینیڈا کے کسی دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل کرا دِیا جائے۔ علّامہ القادری تو پاکستان کا سارا نظام ہی اُلٹ پُلٹ کرنا چاہتے ہیں۔ دُنیا کی کوئی بھی انشورنس کمپنی القادری صاحب کو منانے کے لئے جانے والے وفد کے ارکان کی انشورنس کرنے پر بھی راضی نہیں ہو گی۔
دِیگرِیات میں ’’فضلِیات‘‘ ( مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست) پر بھی بات ہو جائے۔ اپنے تازہ ترین بیان میں مولانا صاحب نے وفاقی حکومت کو مُفت مشورہ دِیا ہے کہ ’’عِمران خان کے دھرنوں اور آزادی مارچ کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ مُلک میں دھرنے، جلسے اور مارچ تو ہوتے رہتے ہیں دیکھنا یہ چاہیے کہ اِس احتجاج کے پسِ پُشت مِشن کیا ہے؟‘‘ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کو دلچسپ "Task"دے دِیا ہے یا موصوف خود یہ ٹاسک سنبھالنا چاہتے ہوں گے؟ مولانا فضل الرحمٰن عِمران خان کو ’’یہودیوں کا ایجنٹ‘‘ قرار دیتے ہیں اور عِمران خان ’’جوابِ اِیں غزل‘‘ کے طور پر کہتے ہیں کہ ’’پاکستان میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہوتے ہُوئے یہودیوں کو بھلا کسی اور ایجنٹ کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ اِس لحاظ سے اصل ٹاسک تو یہ ہونا چاہیے کہ دونوں قائدِین میں سے سچ کون بول رہا ہے؟
دیگرِیات میں ’’سراجِیات‘‘ (امیر جماعتِ اسلامی جناب سراج اُلحق ) کا بھی کچھ بیاں ہو جائے۔ موصو ف ہر روز وفاقی حکومت کو اِس طرح ڈراتے ہیں کہ گویا حشر کے عذاب سے ڈرا رہے ہوں۔ جناب سراج اُلحق نے دھمکی دی ہے کہ ’’اگر نواز شریف حکومت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرّف کو مُلک سے باہر جانے دِیا تو اُن کا گریبان ہمارے ہاتھوں میں ہوگا۔‘‘ جناب سراج اُلحق نے یہ نہیں بتایا کہ وزیرِاعظم ہائوس کی سخت سیکورٹی میں اُن کے ’’ہمارے ہاتھ‘‘ وزیرِاعظم کے گریبان تک کیسے پہنچیں گے؟