چودھری شجاعت کے پھیرے اور زمانے کا ہیر پھیر

چودھری شجاعت کے پھیرے اور زمانے کا ہیر پھیر

طاہرالقادری کی طرف چودھری شجاعت کا پہلا پھیرا پچھلے سال دیکھنے میں آیا، وہ اپنے ساتھ ایک نیک دل اور انسانیت کے خادم ملک ریاض اور ان کی نیکیوںمیں برابر کے شریک حاجی نواز کھوکھر کو بھی لے گئے، طاہرالقادری نے پہلی گیند کا انتظارکئے بغیر یہ وکٹ اُڑا کے رکھ دی، انہوں نے انتہائی ڈھٹائی سے ملک ریاض سے کہا کہ وہ ان کے گھر سے چلے جائیں۔ ملک ریاض کو اگر سر جھکا کر کہیں سے نکلنا پڑا ہو گا تو وہ طاہر القادری کا دولت کدہ تھا۔ بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے، یہ تو شاعر نے کہا تھا مگر ملک ریاض سوچتے ہوں گے کہ وہ چودھری شجاعت کے بھرے میںکیوں آ گئے اور خوا ہ مخواہ کی بے عزتی کروا بیٹھے۔ اصل میں طاہر القادری نے سوچا ہو گا کہ چودھری شجاعت ان کا سودا کرنا چاہتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک نہیں، دو، امیر کبیر گاہک بھی لے آئے ہیں، مگر دولت طاہرالقادری کا مسئلہ نہیں تھی۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے کارکن انہیں سونے میں تولنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہ کوئی بُری بات نہیں، کارکنوں کو ایسے ہی ایثار کا ثبوت دینا چاہئے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں چندوں پر چلتی ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت امریکہ میں ہے جہاں جو شخص سب سے زیادہ فنڈ ریزنگ کر لے ہُما اسی کے سر پر بیٹھتا ہے۔ مگر طاہر القادری قسمت آزمائی کے لئے پاکستان آئے تھے، کینیڈا کی سیاست میں آگے بڑھنے کے بے پناہ مواقع ہیں مگر وہاں خالص کینیڈین بننا پڑتا ہے جبکہ طاہر القادری ڈبل گیم ہی نہیں چومکھی کھیلنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کے سرمائے کے بل بوتے پر ملک ریاض کو گھر سے نکال باہر کیا۔ چودھری شجاعت کے ہاتھوں ملک ریاض نے جو عزت کمائی تھی، وہ اسے شاید ہی بھول پائے ہوں گے۔
میں اگر نواب اکبر بگٹی کا نام لوں توآپ میں سے ہر ایک کے ذہن میں پھر چودھری شجاعت کی شبیہہ مبارک جھلکنے لگے گی۔ نواب اکبر بگٹی کے بارے میں سبھی کہتے ہیں کہ وہ محب وطن تھا، وہ غداری پر نہیں اتر سکتا تھا مگر چودھری شجاعت نے ا سے سمجھانے بجھانے کی آڑ میں ڈیرہ اکبر بگٹی کے چند پھیرے لگائے ا ور پھر دنیا نے دیکھا کہ بگٹی کی لاش ایک غار میں دبی ہوئی نکالی گئی۔ اس کے جنازے میں ایک ہاتھ کی انگلی پر گنے چُنے افراد شریک ہوئے۔ نواب اکبر بگٹی کی روح آج بھی تڑپتی ہو گی کہ انہوں نے چودھری شجاعت سے مل کر کیا کمایا۔
یہی چودھری شجاعت حسین چند ماہ کے لئے وزیر اعظم بنے تو انہوںنے دو کیمیٹوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی کہ وہ بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کرے۔ ایک سیاسی کمیٹی تھی جس کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین تھے، دوسری آئینی کمیٹی تھی جس کے سربراہ سینیٹر وسیم سجاد تھے۔ دونوں کمیٹیوں نے خوب محنت کی، انہوں نے اپنی رپورٹ اپنی کمیٹی کے سربراہ اور اس وقت کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کو پیش کر دی۔ پتہ نہیں چودھری صاحب نے یہ رپورٹ پڑھی یا پڑھے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دی۔ مگر جو بلوچستان چودھری صاحب نے ورثے میں چھوڑا ، اس میں لوگ اپنے دو دو سو پیاروں کی لاشیں لے کر یخ بستہ راتوں کو سڑکوں پر ٹھٹھرتے رہے۔ یہ بلوچستان آج بھی دہک رہا ہے، جل رہا ہے، جہاں نواب اکبر بگٹی کی لاش گرا دی گئی ہو وہاںکسی اور کی جان و مال کی پروا کسے ہو گی۔
لال مسجد کے سانحے میں چودھری شجاعت کی سفارت کاری اور مذاکرات کاری کا کمال مظاہرہ ہوا۔ یہ تماشہ سب نے گھر بیٹھے اپنے ٹی وی سکرین پرلائیو شو کی طرح دیکھا۔ چودھری شجاعت کی آنیاں جانیاں دیکھنے کے لائق تھیں اور پھر کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ چند ماہ پہلے تک وزیراعظم رہنے والے چودھری شجاعت نے لال مسجد کے غازی برادران سے کیا بات چیت کی کہ جس کے نتیجے میں ایک غازی تو شہید ہو گئے اور دوسرے غازی بُرقعہ پہن کر جان بچانے پر مجبور ہوئے۔
مٹی پائو پالیسی چودھری شجاعت حسین کی سوچ کا طرہ امتیاز ہے، کچھ بھی ہو جائے، بس مٹی پائو اور دوست دشمن کے ہاتھ میں ہاتھ ملا کر آگے بڑھو۔ میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، انہیں سیف ہائوسوں اور قلعوں میں پھینک دیا گیا اور پھر جدہ کی ایک فلائٹ پر بٹھا کر جلاوطن کر دیا گیا، چودھری شجاعت حسین نے مٹی پائو والا تعویذ نکالا، نواز شریف اور ان کے خاندان پر منوں مٹی ڈالی اور جنرل مشرف کے ساتھ شریک اقتدار ہو گئے۔ وہ صحیح معنوںمیں بادشاہ گر تھے، مشرف حکومت کو انگلیوں پر نچا رہے تھے، جب چاہتے ظفراللہ جمالی جیسے اپنے کسی برخوردار کو تخت پر متمکن کر دیتے، دل کرتا تو خود حکومت سنبھال لیتے اور تھک جاتے تو ایک درآمد شدہ،  حنوط شدہ شوکت عزیز کو اقتدار سونپ دیتے۔ جنرل مشرف دور میں چودھری صاحب سیاہ و سفید کے مالک تھے مگر مشرف پر بُرا وقت آیاتو نہا دھو کرغیر جانبدار ہو کر بیٹھ گئے۔
بڑا معجزہ اس وقت ہُوا جب ق لیگ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ شرکت اقتدار کا راستہ اختیار کیا، چودھری برادران نے برسوں کے اختلافات پر مٹی ڈالی، وہ بھول گئے کہ بھٹو کی پھانسی کا حکم جس قلم سے جنرل ضیا نے لکھا تھا، وہ ان کے پاس یادگار کے طور پر محفوظ ہے، وہ بھول گئے کہ ان کے والد چودھری ظہور الٰہی کو الذوالفقار کے کارکنوںنے دن دیہاڑے شہید کر دیا تھا۔ گولیوں سے چھلنی مرسیڈیز آج بھی ظہور پیلس گجرات کے ایک کونے میں محفوظ ہے۔ مگر کسے یاد ہے۔ وہ بھول گئے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہادت سے پہلے ہی ان کو اپنی ممکنہ موت کا ذمے دار ٹھہرایا تھا، وہ بھول گئے کہ آصف علی زرداری نے گڑھی خدا بخش کی پھوہڑی پر بیٹھ کر انہیں قاتل لیگ قرار دیا تھا۔ مگرچودھری پرویز الٰہی نے جس عجلت سے زرداری حکومت کے ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ سنبھالا، اس پر تاریخ بھی انگشت بدنداں رہ گئی۔
میں درمیان میں بھول ہی گیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری حرف انکار بلند کر کے گھر میں بند کر دیئے گئے، ان کے فون کاٹ دیئے گئے اور ان کے بچے سکول جانے سے روک دیئے گئے تو پہلا شخص جو ان کے ساتھ مذاکرات کے لئے اس جیل نما گھر میں داخل ہوا، وہ چودھری شجاعت تھا۔ وہاں کیا کانا پھوسی ہوئی، اس کا پردہ شاید چیف جسٹس اپنی زیر ترتیب خود نوشت میں اٹھائیں گے مگر اگلے ہی روز پولیس نے چیف جسٹس پر دھاوا بول دیا، ان کے سر کے بالوں کو بے دردی سے کھینچا گیا۔ اس لمحے چیف جسٹس افتخار چودھری کو اپنے غم خوار، چودھری شجاعت حسین ضرور یاد آئے ہوں گے۔
 چودھری شجاعت حسین ضرور یاد آئیں گے، رہ رہ کر یاد آئیں گے  طاہرالقادری کو اور عمران خان کو، انہیںہاتھ لگیں گے تو کیوں نہیں یاد آئیں گے۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویزالٰہی، صرف دو افراد ۔۔۔ ایک بُلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر طاہر القادری کو ملنے بار بار جاتے ہیں، اس طاہر القادری کو جس کے پیچھے کروڑوںکی تعداد میں نمازی کھڑے ہیں، اسی چودھری شجاعت نے پچھلے سال کنٹینر میں طاہرالقادری کے ساتھ مذاکرات کئے تھے اور پھر طاہرالقادری کا کچھ اتا پتہ نہ چلا کہ وہ کب کینیڈا واپس جانے کے لئے جہاز میں سوار ہو گئے، یہ سب زمانے کا ہیر پھیر ہے یا چودھری شجاعت کے پھیروں کا کرشمہ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!
میں نے مشرقی پنجاب کے سکھ نوجوانوں کا ذکر جان بوجھ کر نہیں کیا۔ یہ قصہ طولانی ہے اور المناک بھی۔ وہ بے چارے بھی ظہور پیلس کے مہمان ہوا کرتے تھے پھر انہیں چُن چُن کر بھارتی ٹینکوں نے بھک سے اُڑا دیا۔