ہر دن مجید نظامی کا دن

ہر دن مجید نظامی کا دن

یہ موسم بہار کے جوبن کے لمحات ہیں۔ہر سو رنگوں کی پھوار، خوشبووں سے لبریز، عطر بیز جھونکے۔
یہ دن مجید نظامی کے ساتھ مخصوص ہے ، مگر میرے نزدیک ہر دن مجید نظامی کا دن ہے،ہم اسی کے دور مسلسل میں زندہ ہیں۔ اور مجید نظامی پائندہ باد ہے، شاد کام ہے۔
ہم مجیدنظامی کو یاد کرتے ہیں، اس کی دنیا میںآمد پر خورسند ہیں۔اس کے استقبال کے لئے بانہیںکھولے کھڑے ہیں۔
 وہ آیا اور وہ چھا گیا۔
وہ کہکشاﺅں کی طرح ہفت افلا ک پر چمکتا رہا، تاریخ کے راستوں پر چلنے والے قافلے اس کی روشنی میں اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں رہے، وہ ستارہ صبح بن کر طلوع ہوا اور نئے دنوں کی بشارتیں ساتھ لایا اورخورشید جہاں تاب کی طرح شرق و غرب پر حاوی رہا۔
وہ وقت کی آواز بنا اور وقت اس کی آواز بن گیا۔آﺅ کہ اس کے شاہنامے لکھنے کا وقت ہے ، آﺅ کہ اس کی دلیری کے قصے رقم کرنے کی ضرورت ہے ، آﺅ کہ اس کے جنون کو عام کرنے کا وقت ہے۔
ہم اس کا یہ دن مناتے رہیں گے، ہم اس کا ہر دن مناتے رہیں گے، ہم دم بدم، اس کی رفاقتوں کو دلوں کی دھڑکن بنائیں گے۔اس کے ہر سانس کے ساتھ ہمارے دل دھڑکیں گے، اس کے قدموں کی آہٹ پر اپنے قدم آگے بڑھائیں گے۔اور اس کی دور بیں آنکھوںمیںمنزلوں کوتلاشتے رہیں گے،تراشتے رہیں گے۔
میں اسے اپنا پیر لکھوں، راہنما لکھوں،گرو لکھوں ، مینٹر لکھوں،استاد لکھوں، کہ باپ لکھوں، جو بھی لکھوں، میرے حرف عاجز ہیں، اس کی صفت بیان کرنے کی سکت سے عاری ہیں ۔
 وہ پیمبر نہیں تھا مگر پیمبروں جیسا تھا۔وہ فرشتہ نہیں تھا مگر فرشتوں جیسا تھا، وہ قلندر نہیں تھا مگر قلندروں جیسا تھا۔وہ اسکندر نہیں تھا مگر مقدر کا اسکندر تھا۔
اس کے جوش میں ہوش تھا اور اس کے ہوش میں جوش،اسے معلوم تھا کہ کلمہ حق کس کے سامنے کہنا ہے، وہ ڈکٹیٹروں کے لئے گائیڈ ڈمیزائل تھا،اسے سلطان جابر کی بہت اچھی طرح پہچان تھی۔اور وہ جانتا تھا کہ کس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا ہے، وہ بے نواﺅں کا سر پرست بنا۔اور بے بسوں کا چارہ گر۔وہ بے زبانوں کی زبان بنا۔
وہ علم کا پہاڑ تھا تو عمل کا بحر بے کراں۔ خدا کی زمین پر عظمتوں کے پھریرے لہرانے کے لئے اس کا ظہور ہوا،اس نے خودی اور خودداری کا درس دیا۔وہ نشاہ ثانیہ کا نقیب بنا۔ ا س نے تاریکیوںمیں، مایوسیوں میں، ہمارے سامنے راستے اجالنے میں اپناخون دل جلایا۔
اس کا کردار شبنم کی طرح بے داغ اور شفاف، اس کی گفتارشیروں کی للکار،ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم۔اور رزم حق و باطل میں وہ صورت فولاد۔اس کی گھن گرج سے آمریتیں لرزہ بر اندام۔
مادر وطن کی سلامتی اور تحفظ کے لئے وہ ہمہ وقت مضطرب اور کوشاں۔ فلسطینیوں اور کشمیر یوں کی آس اور امت مسلمہ کا حدی خواں۔وہ ایک بطل حریت تھا، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا، اس کی دور بیں نگاہیں ہمہ وقت خطرات پر مرکوز اور وہ ان کے سامنے شمشیر برہنہ۔
میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں کہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا سنہری موقع میسرآیا۔وہ ایک شفیق انسان تھے،ایک بے باک ایڈیٹر، ایک کامیاب آنترے پرینیور۔ اخبار کو بند کرانے کافن ہر کسی کو آتا ہے مگر اخبار کو کامیابی سے چلانے ا ور اسے مسابقت کی صحافت میںصف اول میں شامل رکھنے کا ہنر کوئی ان سے سیکھے۔ وہ ایسے مالک ایڈیٹر نہیں تھے جو کارکنوں سے صرف کام لینا جانتے ہیں اور تنخواہ دینے کے دنوںمیں منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔وہ کارکنوں کی بولی لگانے اور ہارس ٹریڈنگ کے بھی قائل نہ تھے۔ایک سے ایک جوہر قابل انہیں چھوڑ گیا مگر وہ کسی کے پیچھے بھاگے نہیں اور جو بھگوڑا،ازخودلوٹ آیا، اسے پھر سے سینے سے لگا لیا۔ ایساکہاں سے لاﺅں کہ تجھ سا کہیں جسے۔
وطن کی محبت سے سرشار اوروطن کے دشمنوں کے لئے برہان قاطع۔بھارتی شیطنت کا پردہ چاک کرنے میں پیش پیش، اور بھارتی شردھالووں سے سخت متنفر۔
ایک لگن ، ایک دھن، اول وطن، آخر وطن ۔قائد اور اقبال سے عشق۔اور پیغمبر آخر الزماں ﷺ، حرز جاں!
میں نے لکھا تھا کہ اپنے مقصد کے حصول تک جینے کا فن ان سے سیکھا جائے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کسی صورت بھارت کا باجگزار ہو جیسے سکم اور بھوٹان ہیں۔وہ پیدا ہوئے تو اسی مقصد کی خاطر ، انہوںنے اپنی تمام تر توانائیاں اسی مقصد کے لئے بچا کر رکھیں۔ قائد اعظم ایک جلسے میں تقریر کے لئے جا رہے تھے، مادر ملت ساتھ تھیں، بار بار قائد سے بات کرنے کی کوشش کرتیں، مگر قائد خاموش رہے، تقریر کر کے اسٹیج سے واپس ہوئے تو محترمہ نے دوبارہ پوچھا کہ ا ٓپ نے میرے ساتھ بات کیوں نہ کی ، بوڑھے، نحیف قائد نے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی ا ور کہا کہ فاطی! میںنے اپنی ساری انرجی تقریر کے لئے بچائی، تم سے بات کرتا تو میرا جوش ٹھنڈا ہو جاتا۔مجید نظامی نے تین بائی پاس کروائے، اپنے آپ کو صحت مند رکھنے کے لئے۔توانا رکھنے کے لئے، آخر انہوں نے اپنا مقصد پا لیا، وہ جو کہتے تھے واہگہ کی لکیر نہیں ہونی چاہئے اور وہ جو کہتے تھے کہ واہگہ پر دن رات ٹرکوںکی قطاریں نظر آنی چاہیئں ، اور وہ جو کہتے تھے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کے ذریعے امن قائم ہو سکتا ہے، ان سب کے ارادے خس و خاشا ک میںمل گئے، صرف مجید نظامی سرخرو ٹھہرے۔
یہ موسم بہار کے جوبن کے لمحات ہیں۔ہر سو رنگوں کی پھوار ہے، خوشبووں سے لبریز، عطر بیز جھونکے۔
یہ کس ہستی کی آمد کا لمحہ ہے، باا دب ، ہوشیار !
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو! ہیپی برتھ ڈے ٹو آل آف اس!
ہر دن مجید نظامی کا دن۔