جنابِ مجید نظامی کا…’’نظریۂ پاکستان‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
 جنابِ مجید نظامی کا…’’نظریۂ پاکستان‘‘

آج 3 اپریل ہے۔ مجاہدِ تحریکِ پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کی سالگرہ۔ جنابِ نظامی 3 اپریل 1928ء کو پیدا ہُوئے تھے اور 26 جولائی 2014ء کو خالقِ حقیقی سے جا مِلے ایک بھرپور زِندگی گُزار کر جب تک اِس دارِفانی میں رہے علّامہ اقبال، قائدِاعظم اور مادرِ مِلّت کے افکارونظریات کے مطابق پاکستان کو ڈھالنے کی جدوجہد میں مصرُوف رہے۔ میرا جنابِ نظامی سے تعلق 1964ء میں ہُوا۔ سرگودھا سے میرے ایک دوست ایڈووکیٹ جناب ارشد بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے نامہ نگار تھے۔ اُن کی وکالت کا دائرہ وسیع ہو گیا تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر لاہور آئے اور مجھے مجید نظامی صاحب سے مِلوایا اور کہا کہ’’مَیں بہت مصرُوف ہو گیا ہُوں ’’نوائے وقت‘‘ کی مزید خدمت کرنے سے قاصر ہُوں۔ آپ میری جگہ اثر چوہان کو مقرر کر دیں۔ نظامی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ’’جنرل منیجر رانا نُور پرویز کے کمرے میں بیٹھ جائیں اور ’’مکتوبِ سرگودھا‘‘ لِکھّیں۔ مَیں نے لِکھّ دِیا۔ اُنہوں نے پاس کر دِیا اور مَیں سرگودھا واپس چلا گیا۔ اگلے روز ڈاک ایڈیشن میں میرا مکتُوب شائع ہو گیا۔ اُس وقت مجھے احساس ہُوا کہ’’مَیں‘‘ نظریۂ پاکستان کے ہتھیار سے مسلّح ہو کر بہت ہی طاقتور ہو گیا ہُوں۔ ضلع سرگودھا آل اِنڈیا مسلم لیگ کی مخالف جماعت یونینسٹ پارٹی کا گڑھ تھا۔ اُس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جِن کے بزرگوں نے انگریزی فوج میں بھرتی ہو کر خانۂ کعبہ پر بھی گولیاں چلائی تھیں۔ مَیں جب بھی اپنی خبروں اور مکاتِیب کے ذریعے ’’نوائے وقت‘‘ کے قارئِین کو اصل چہرہ دکھاتا تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔
مَیں سرگودھا چھوڑ کر لاہور آ گیا۔ مختلف اخبارات میں کام کِیا۔ مَیں نے 1973ء میں اپنا روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور سے جاری کِیا۔ جناب ِنظامی سے مالکان اخبارات کی تنظیم اے پی این ایس کے اجلاسوں لاہور اور اسلام آباد میں مختلف صدُور اور وزرائے اعظم کی ’’Briefings‘‘ میں مُلاقات اور گفتگو ہوتی تھی تو مجھے اُن سے باقاعدہ ’’Inspiration‘‘ مِلتا رہا۔ مئی 1991ء میں مَیں نے اپنا کالم ’’سیاست نامہ‘‘ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے ’’نوائے وقت‘‘ میں منتقل کِیا جو ڈیڑھ سال تک شائع ہُوا۔ ’’سیاست نامہ‘‘ کا دوسرا دَور جولائی 1998ء سے جون 1999ء تک اور تیسرا دَور اگست 2012ء میں شروع ہُوا جو ابھی تک جاری ہے۔
20 فروری 2014ء کو کارکنانِ تحریکِ پاکستان ٹرسٹ اور ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کے اِشتراک سے ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں چھٹی سالانہ سَہ روزہ ’’نظریۂ پاکستان کانفرنس‘‘ کے لئے مَیں نے اپنے عزیز دوست سیّدشاہدرشید کی فرمائش پر مِلّی ترانہ لِکھا جِسے نظریاتی سمر سکول کے میوزک ٹیچر جناب آصف مجید نے کمپوز کِیا اور ’’دی کازوے سکول کے طلبہ و طالبات نے گایا‘‘۔ ہال تالیوں سے گُونج اُٹھا۔ پھر سٹیج سیکرٹری سیّد شاہد رشید نے اعلان کِیا کہ ’’محترم مجید نظامی نے اثر چوہان صاحب کو’’شاعرِ نظریۂ پاکستان‘‘ کا خطاب دِیا ہے‘‘۔ میری آنکھوں میں آنسُو آ گئے۔ سٹیج پر بیٹھے ’’نظریۂ پاکستان فورم برطانیہ‘‘ کے صدر ’’بابائے امن‘‘ گلاسگو کے ملک غلام ربانی اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری میاں فاروق الطاف مجھ سے بغل گِیر ہو گئے۔
مَیں نے نظامی صاحب کے گھُٹنوں کو دوسری بار ہاتھ لگایا۔ پہلی بار 18 دسمبر 2013ء کو لگایا تھا جب چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ جناب مجید نظامی اور چیئرمین تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ ڈاکٹر کرنل (ر)جمشیداحمد خان ترین کے مُتفقہ فیصلے سے وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے میرے والدِ مرحوم (تحریکِ پاکستان کے کارکن) رانا فضل چوہان کو دِیا جانے والا گولڈ میڈل میرے گلے میں ڈالا۔کمال یہ ہے کہ گولڈ میڈلز عطا کرتے وقت تحریک ِپاکستان کے کارکنوں کے سماجی مرتبے کی تفریق نہیں رکھی گئی۔ کسی بھی کارکن کو چاندی یا کانسی کا میڈل نہیں دِیا گیا۔
جب مَیں ’’نوائے وقت‘‘ میں کالم نہیں لِکھتا تھا تب بھی جنابِ مجید نظامی سے میرا عقیدت اور محبت کا رِشتہ قائم رہا۔ اِس کا کریڈٹ جناب ِنظامی کے انگریزی روزنامہ"The Nation" کے ایڈیٹر برادرِ عزیز سیّد سلیم بخاری ’’نوائے وقت‘‘ کے ڈپٹی ایڈیٹر برادرِ عزیز سعید آسیؔ اور ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کے سیکرٹری سیّد شاہد رشید کو جاتا ہے۔ ’’نوائے وقت‘‘ سے غیر حاضری کے دوران مَیں نے سیّد شاہد رشید کی فرمائش پر جناب مجید نظامی کی شخصیت اور اُن کی قومی خدمات پر چار نظمیں اور ’’نوائے وقت‘‘ میں اپنی کالم نوِیسی کا تیسرا دَور شروع کرنے کے بعد تین نظمیں لِکھیں۔ اُردُو کی ایک ایسی نظم جو مَیں نے ڈاکٹر نظامی صاحب کی زِندگی میں لِکھی تھی وہ اُن کی وفات بلکہ میری وفات کے بعد بھی تروتازہ رہے گی۔ اِنشااللہ! نظم کے دو شعر ملاحظہ ہوں… ؎
خوابِ شاعرِ مشرق کی تعبِیر کا پھر اَرمان کھپّے
قائدِاعظم کے اَفکارسے رَوشن پاکستان کھپّے
نِصف صدی کی اَدارت ِ عُظمیٰ لاثانی لافانی اثرؔ
بابا مجید نظامی کا سا جذبۂ اِیمان کھپّے
2 جنوری 1965ء کے صدارتی انتخابات میں جنابِ مجید نظامی قائدِاعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو ’’مادرِ مِلّت‘‘ کا خطاب دے کر فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے مقابلے میں لائے ۔ مادرِ مِلّت ہار گئیں لیکن انہوں نے ایوب خان کے قلعۂ آمریت میں شگاف ڈال دِیا۔ یہ جنابِ نظامی ہی تھے کہ جنہوں نے اسلام آباد میں پاکستان بھر کے قومی اخبارات کی برِیفنگ میں صدر جنرل ضیااُلحق سے کہا تھا کہ’’جنرل صاحب! تُسِیں ساڈی جان کدوں چھڈّو گے؟‘‘۔ جنابِ نظامی نے آمریت کے خلاف جمہوری تحریکوں کی بھرپور حمایت کی لیکن جب جمہوری حکمرانوں نے ’’ آمریت کا چولا‘‘ پہن لِیا تو ’’نوائے وقت‘‘ اور "The Nation" کی خبروں، مضامین اور ایڈیٹوریلز نے وہ ’’چولا‘‘ تار تار کر دِیا۔
میاں نواز شریف اپنی وزارتِ عُظمیٰ کے دوسرے دَور میں ایٹمی دھماکا کرنے میں تذبذب کا شکار تھے تو بھری مجلس میں جنابِ نظامی نے کہا وزیرِاعظم صاحب! ’’ایٹمی دھماکا کر دیو! نہیں تاں قوم تہاڈا دھماکا کر دیوے گی!‘‘ اِقتدار میں آنے سے پہلے 28 مئی 2013ء کو میاں نواز شریف نے ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں منعقدہ تقریب کے صدر جناب ِمجید نظامی سے وعدہ کِیا تھا کہ’’اب میں معاشی دھماکا کرُوں گا!‘‘ جو ابھی تک نہیں کِیا گیا۔ قُرآنِ پاک میں کہا گیا ہے…’’اے مسلمانو! اپنے وعدے پورے کرو!‘‘ میاں نواز شریف نے کئی بار جنابِ نظامی کو ِ پاکستان کی صدارت کی پیش کش کی لیکن نظامی صاحب نہیں مانے اور کہا’’میاں صاحب! تہانوں میری صدارت بوہت بھاری پَوے گی‘‘۔
میرا ماہنامہ ’’چانن‘‘ لاہور پہلا اور آخری پنجابی جریدہ ہے جِسے جناب نظامی نے (نومبر 2011 ء کے شمارے کے لئے) پہلا اور آخری اِنٹروِیو دِیا۔ میرے ایک سوال کے جواب میں جنابِ نظامی نے کہا کہ ’’ پاکستان پاکستان دے لوکاں لئی، روٹی، کپڑا تے مکان دا بندوبست کرن لئی بنایا سی‘‘۔ اپنی وفات سے 3 دِن پہلے بسترِ علالت سے ایوان ِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں منعقدہ "Youngster,s Graduation Ceremony" کے نام پیغام میں کہا کہ’’قائدِاعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رَگ قرار دِیا تھا اِس لئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو متحد ہو کر بھارت کے پنجے سے پاکستان کی شہ رگ کو چھُڑانا ہوگا‘‘۔ جناب مجید نظامی چاہتے تھے کہ قائدِاعظم کی خواہش کے مطابق پاکستان کو حقیقی معنوں میں ’’جدید اسلامی ٗ جمہوری اور فلاحی مملکت بنا دِیا جائے‘‘۔ یہ تھا جنابِ نظامی کا ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کیا قائدِاعظم کی وراثت ’’مسلم لیگی حکمران قائدِاعظم اور جنابِ مجید نظامی کی اِ س خواہش کو پورا کر سکیں گے؟۔