لین دین پہ خاک ۔ صحافت پاک

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

اپنے پیاروں میں حکومت نے ادارے بانٹے
جس قدر ”فنڈ گرانٹڈ“ تھے وہ سارے بانٹے
یہ نہ دیکھا کبھی وہ ”فنڈ“ کہاں جاتے ہیں
کچھ نہ کرنے کا بھی کچھ لوگ صلہ پاتے ہیں
اور کچھ لوگوں کی محنت بھی نہیں راس آتی
مجھ سے ان کی نہیں بے چارگی دیکھی جاتی
آمری دور کے منظور نظر بھی دیکھے
دور جمہور کے پروردہ بشر بھی دیکھے
وہ بھی دیکھے جنہیں ہر دور نیا راس آیا
اک نئے بھیس میں کچھ لوگوں کو اکثر پایا
بڑے شاعر بنے شاہوں کے مصاحب بن کر
بڑے عہدوں پر نظر آتے رہے بن ٹھن کر
ہم سے پوچھا کئے تم کرتے رہے کیا آخر
کیوں نہ بن کر رہے تم ایک ”دھڑے“ کے شاعر
جو بھی اچھا تھا اسے اچھا لکھا کیا پایا؟
پڑھ کے کیا ”بھاری لفافہ“ تمہیں دینے آیا؟
برا لکھنے سے‘ برا تھا جو‘ ہوا کیا اچھا؟
اس نے ”اعزاز“ نہ ملنے دیا تم کو الٹا
کبھی کہتے ہو ”میاں“ اچھا‘ برا ”زرداری“
کبھی لکھتے ہو کہ ”شہباز“ نے بازی ماری
کبھی کہتے ہو کہ جو صدر ہے ”مرد حُر“ ہو
کبھی لکھتے ہو کہ اڑ جائے یہاں سے ”پھر“ ہو
کبھی گیلانی‘ کے تم رہتے ہو‘ لتے لیتے
دینے والوں کو بھلا کہتے تو پیسے دیتے
میں نے سب سن کے کہا‘ بیوی بھی یہ کہتی ہے
میرے چہرے پہ سکون دیکھ کے چپ رہتی ہے