خالد احمد تری نسبت سے ہے خالد احمد

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

خالد احمد نہ صرف انوکھا آدمی ہے بلکہ شاعر اور اب کالم نگار بھی ایسا ہی ہے۔ اس کی ساری زندگی عشق و مستی کے تعاقب میں گزری ہے۔ یہ تعاقب اس نے پیدل جاری رکھا ہوا ہے۔ ورنہ اب تو لوگ سیر بھی گاڑی میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔ شہر میں کوئی آدمی اتنا سفر نہیں کر سکتا ۔ وہ روزانہ اپنے گھر جوہر ٹاﺅن سے نکلتا ہے اور الحمرا ادبی بیٹھک پہنچتا ہے۔ لگتا ہے جیسے وہ کسی نئی منزل کی طرف گیا ہے۔ وہ نسبت روڈ چھوڑ کر چھوٹا سا گھر شہر کے ایک کنارے پر بنا سکتا ہے تو گاڑی بھی لے سکتا ہے۔ اس کے جڑواں دوست نجیب احمد نے گاڑی بھی لے لی ہے۔ مجھے نجیب کے نسبت روڈ چھوڑنے کا زیادہ افسوس ہے۔ یہ دونوں، نسبتیں یاد رکھنے والے لوگ ہیں۔ دوستی ایک نسبت ہی تو ہے۔ میں نے اچھے وقتوں میں عطاءالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کے لئے ”جڑواں دوست“ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ مگر اس (لفظ) کا استحصال دیکھ کر میرے جذبے بڑے پامال ہوئے۔ ان کے لئے دوستی یہ ہے کہ فائدہ حقیر منافق سے بھی پہنچے تو اس وقت وہی دوست ہے۔خالد احمد کو پرائیڈ آف پرفارمنس (تمغہ حسن کارکردگی) اب ملا ہے اور ان کو بہت پہلے مل گیا تھا جنہیں اب بھی نہیں ملنا چاہئے تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ سب ایوارڈ ہمیں ملیں۔ ہر جائز ناجائز فائدہ ہمیں ملے اور کسی کو نہ ملے۔ ڈاکٹر حسن رضوی نے جنہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملنے پر سب سے پہلے مبارکباد دی تھی۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے اس کے خلاف تحریک چلائی۔ جبکہ دونوں نے ایوارڈ کے لئے ایک جیسا زور لگایا تھا۔ ایک غیر مستحق آدمی کو ایوارڈ ملا۔ وہ اداس بیٹھا تھا کسی نے پوچھا تو اس نے کہا اگلے سال کسی اور کو مل جائے گا۔ یہ ایوارڈ کا اعزاز ہے کہ وہ خالد احمد کو ملا ہے حیرت ہے کہ اسے ایوارڈ مل کیسے گیا ہے۔ ایوارڈ کی حرمت باقی رکھنے کے لئے کچھ ”جینوئن “کام بھی کرنا ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایوارڈ دئیے نہیں لئے جاتے ہیں۔ خالد احمد کے لئے ایک تقریب ہوئی۔ نامور شاعر شہزاد احمد نے صدارت کی۔ محبوب استاد محترم ڈاکٹر خواجہ زکریا، خالد احمد کے ساتھ بیٹھے تھے۔ یہ ادب دوست والوں کا اہتمام تھا۔ خالد تاج مہمان خصوصی تھا اور معروف شاعر سید اقبال سعدی دوستانہ کمپیئرنگ کر رہا تھا۔ زاہدہ راﺅ نے دلسوزی سے نعت پڑھی۔ آواز کے سوز و گداز والے سرور نقشبندی نے خالد احمد کی نعت پڑھ کر سماں باندھ دیا۔ وہ مجدد نعت حفیظ تائب کا عاشق ہے۔ خالد کی نعت پڑھنے میں سرور کے روایتی سوز و ساز کی تاثیر ماحول میں گھل گئی۔ اس آواز کے مقابلے کا وہ لہجہ تھا جو تڑپتے ہوئے دل والے شاعر اسلم کولسری کی نظم میں موجود تھا جو اس نے خالد احمد کے لئے لکھی تھی۔ کسی دوست کے لئے لکھی گئی یہ سب سے اچھی نظم ہے۔ ایسی نظمیں ایک سی ہوتی ہیں مگر یہ نظم ایک خاص مرتبے کی تھی اور یہ مرتبہ خاص طور پر عشق رسول کی نسبت سے خالد احمد کو عطا ہوا ہے۔
خالد احمد اسی نسبت سے ہے خالد احمد
تو نے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھی
الطاف قریشی ارشد شاہین، اسلم طارق، جمشید چشتی، حفیظ طاہر، نعمان منظور اور رفیق غوری نے اپنی تقریروں میں مبارکباد دی۔ میں نے مبارکباد میں اپنی تقریر کی۔ میں جب میانوالی سے لاہور آیا تو خالد احمد کی تخلیقی رفاقت میری خوش نصیبی بنی۔ اس نے رفاقت اور قیادت کا فرق مٹا دیا۔ اس حوالے سے دوسرا نام عطاءالحق قاسمی کا ہے۔ مگر شاید میں ہی بدنصیب ہوں۔ خالد احمد سے بھی خاص قربت بعد میں نہ رہی۔ مگر یہ قربت فرقت نہ بنی۔ دنیادار تو ہر شخص ہوتا ہے۔ خالد احمد ایک اچھا دنیا دار ہے جبکہ یہ دنیا برے دنیاداروں سے بھری پڑی ہے۔
چین کے ایک قدیم دانشمند اور دانشور لین یوتانگ کی کتاب ”جینے کی اہمیت“ میں ایک جملہ بہت بامعنی ہے۔ لگتا ہے جیسے اس نے خالد احمد سے ملنے کے بعد لکھا ہوگا خالد احمد جتنا نیا آدمی ہے اتنا ہی پرانا آدمی ہے۔ تین قسم کے لوگ بہترین شہری ہیں کسان، شاعر اور آوارہ۔ یہ تینوں صفات خالد احمد کے وجود میں وجد کرتی ہیں۔ سب سے پہلے وہ آوارہ ہے پھر شاعر ہے پھر کسان ہے۔ وہ ساری عمر شہر میں اپنا گاﺅں تلاش کرتا پھرا ہے۔ وہ کسان ہے کہ اس نے زمین غزل میںبڑے گل و گلزار کھلائے ہیں۔ اس زمین میں بڑی فصلیں اگائی ہیں اس طرح کئی نئی نسلیں تیار ہو گئی ہیں۔ اس کے آس پاس جونیئر اور سینئر دوستوں کا ہمیشہ جمگھٹا رہتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی، اختر حسین جعفری اور کئی لوگ۔ مگر خالد احمد تو فنون سے جنون تک ایک سفر میں رہا ہے اور ابھی تک کہیں نہیں پہنچا۔ وہ کہیں نہ کہیں نہیں پہنچنا چاہتا۔ نجانے کہاں سے کہاں تک پہنچنا چاہتا ہے۔ شاعر تو وہ بے مثال ہے۔ اپنے عہد کا بڑا شاعر ہے۔ اس نے کالم شروع کیا ہے تو اس میں بھی ادبیت صاف نظر آتی ہے۔ کبھی کبھی اس کا کالم سمجھنے کے لئے زور لگانا پڑتا ہے۔ اس کے کچھ اشعار بھی اتنی ہی محنت مانگتے ہیں۔ اس جیسا آوارہ تو میں نے دیکھا ہی نہیں۔ اس نے آوارہ گردی کو ایک پازیٹو سرگرمی بنا دیا ہے۔ جتنا پیدل وہ چلا ہے۔ ادبی برادری میں دوسرا کوئی نہیں چلا ہوگا۔ کہتے ہیں پیدل چلنے والے کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آپ اس کے ساتھ چل کر دیکھیں۔ کئی عمریں گزارنے کا موقع مل جائے گا۔
سچا کھرا کھردرا، صاف شفاف اندر سے ۔ اس کی شیو کرانے کے لئے بھی دوستوں کو چندہ کرنا پڑتا ہے۔ مانگنے کو عمران خان نے اعزاز بنا دیا ہے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی شاندار مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس روایت کو اس سے بہت پہلے خالد احمد نے عزت دی۔ میری بیوی نے شہزاد احمد سے خالد احمد کا پوچھا کہ وہ جب پہلی بار میرے گھر آیا تو اس نے مجھے گیارہ روپے دئیے تھے۔ شہزاد نے کہا کہ میں کیسے بھول سکتا ہوں۔ مجھ سے ہی تو لے کے اس نے یہ خطیر رقم آپ کو نذر کی تھی۔
خالد احمد کو حلیم بہت پسند ہے۔ غالباً اس لئے کہ وہ اندر سے بہت حلیم الطبع ہے۔ جس کے پاس علم ہو اور حلم نہ ہو تو جان لو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ صاحب کردار آدمی ہے۔ ایسے آدمی ہماری ”شعر برادری“ میں نہیں ہوتے۔ رفتہ رفتہ یہ ”شیر برادری “ ہوتی جا رہی ہے۔ عورتوں کی عزت کرنا میں نے اپنے بڑوں سے سیکھا ہے۔ نجانے خالد احمد نے کس سے سیکھا ہے۔ اسلم کولسری کا کلام ہزار کالموں پر بھاری ہے۔
ہے رنگ نثر اس کا چاندنی سا
غزل میں اس کا لہجہ ہے نسیمی
اسے حاصل ہوئی ندرت پہ قدرت
اگرچہ عشق ہے اس کا قدیمی
ملا ہے قیمتی اعزاز اس کو
گئی اعزاز کی پھر سے یتیمی
افلاطوں کی طرح سڑکوں پہ اکثر
دکھاتا ہے وہ اعجاز کلیمی