سینیٹ کی غلام گردشوں میں نواز شریف کی وطن واپسی موضوع گفتگو بنی رہی

سینیٹ کی غلام گردشوں میں نواز شریف کی وطن واپسی موضوع گفتگو بنی رہی

بدھ کو سینیٹ کا اجلاس مجموعی طور پونے پانچ سال گھنٹے تک جاری رہا جب اجلاس شروع ہوا تو اس وقت ایوان میں 14ارکان موجود تھے جب اجلاس اختتام پذیر ہوا اس وقت ایوان میں 12ارکان موجود تھے اس لحاظ سے یہ بات کہی جا سکتی ہے سینیٹ کے اجلاس میں حاضری مایوس کن تھی بدھ کو بھی پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں میاں نواز شریف کی وطن واپسی موضوع گفتگو بنی ہوئی تھی بیشتر ارکان پارلیمنٹ میاں نواز شریف کی وطن واپسی میں گہری واپسی لے رہے ہیں سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحقْ کے چیمبر میں حکومتی ارکا کا جمگھٹا لگا رہتا ہے وہ ان سے میاں نواز شریف کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں استفسار کرتے نظر آئے ایوان میں دوبار واک آئوٹ ہوا ایک واک آئوٹ قائد اعظم یونیورسٹی سے بلوچ طلبا ء کے اخراج کے خلاف تھا جب کہ دو سرا واک آئوٹ بلوچ خواتین اور بچوں کے اغوا کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا سینیٹ کے اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کے وزیر خارجہ کے دورہ جنوبی ایشیا پر کو سمیٹا انہوں نے ایوان میں پاک امریکہ تعلقات پر کھل کر اظہار خیا ل کیاو زیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ’’ کسی بیرونی طاقت کے مفادات کیلئے خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جائے گی ، امریکہ پاکستان کو قصور وار ٹھہرا کر افغانستان میںاپنی ناکامی سے پردہ پوشی کر رہا ہے، پاکستان اب کی پراکسی وار میں شامل نہ ہونے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘‘، خو اجہ آصف نے کہا کہ ’’ امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان بھارت کا خطے میں پولیس مین کا کردار قبول نہیں کرے گا، ماضی کی طرح بزدلانہ رویہ امریکہ کے ساتھ نہیں رکھیں گے اور پاکستان کی سلامتی اور وقار مقدم ہو گا، نئی امریکی پالیسی کا ڈھانچہ ان جرنیلوں نے بنایا جنہوں نے افغانستان میں ہزیمت اٹھائی، خواجہ محمد آصف نے اعتراف کیا کہ’’ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں ہیں، امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتری کیلئے مشترکہ گرائونڈ تلاش کر رہے ہیں تاکہ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔ بلوچستان سے خواتین اور بچوں کو اٹھائے جانے کے خلاف سینیٹ سے اپوزیشن و حکومتی اتحادی جماعتوں نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا جبکہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اجلاس کی کاروائی کے دوران خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے اٹھانے اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے والے آئین کی پانچ اہم شقوں کو پائمال کر رہے ہیںمتذکرہ تین خواتین کو انکے تین بچوں سمیت اٹھانے پر آج ایوان میں وزارت داخلہ سے تفصیلی جواب مانگ لیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ جس تھانے کی حدود سے یہ حراست میں لئے گئے اسکا نام بھی بتایا جائے اس معاملے پر سینیٹ سیکریٹریٹ کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کرنے والے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری کو چیئرمین سینیٹ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے واضح کیا ہے کہ حکومت شہری آزادیوں پر یقین رکھتی ہے آئین و قانون کے مطابق شہریوں کو جان مال آبرو املاک کا تحفظ حاصل ہے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ نے تصدیق کر دی ہے کہ یہ خواتین اور بچے زندہ زیر حراست ہیں سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف تحریک التواء کو بحث کے لیے منظور کر لیا گیا،پی آئی اے گمشدہ طیارے پر خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی توثیق کر دی گئی ہے جبکہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی قرارداد کی توثیق کے لیے رپورٹ پیش کر دی گئی ہے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کھادوں کی نقل و حرکت سے متعلق سوالات کے معاملے پر رپورٹ پیش کر دی گئی ہے اسی طرح جرمن فرم کو پی آئی اے ایئر بیس فروخت کرنے کے معاملے پر بھی رپورٹ آگئی ہے گزشتہ روز اجلاس کی کاروائی کے دوران سینیٹر اعظم سواتی نے تحریک التواء پیش کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے معاشرے کے غریب طبقات پر اضافی بوجھ کو زیر بحث لایا جائے چیئرمین سینیٹ نے تحریک کو بحث کے لیے منظور کر لیا ۔