کاش !ایسا ہو سکتا؟

کالم نگار  |  خالد احمد
کاش !ایسا ہو سکتا؟


کرپشن کے میناروں کے سائے میںہانپتے کانپتے آگے بڑھتے معاشرے میں یہ خبر عام ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لے گی کہ لاطینی امریکا کے ملک یوراگوئے کے صدر جناب خوزے موجیکا ایک کچے فارم ہاﺅس میں زندگی گزارتے ہیں! اور اپنی تنخواہ کا 90فی صد حصہ مختلف فلاحی اداروں کے لیے عطیہ کر دیتے ہیں! اُن کاماہانہ صدارتی مشاہرہ 12,500امریکی ڈالرز کے برابر ہے! اور وہ اس رقم میں سے صرف 1250امریکی ڈالرز کے برابر پیسے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال لاتے ہیں! اور بقایا تمام رقم ’دان‘ کر دیتے ہیں!
جنابِ خوزے موجیکا کی شریکِ حیات سینیٹر محترمہ لوسیا ٹوبولانسکی بھی اپنے پارلیمانی اعزازیئے کا بڑا حصہ خیرات کر دیتی ہیں! یہ جوڑا چاہتا ہے کہ عملی زندگی کا یہ دور مکمل ہو جانے پر اپنی بقایا زندگی اپنے پرُسکون فارم ہاﺅس پر گزار دے! یوراگوئے کے منتخب صدرِ مملکت کا عوام کے نام ایک ہی پیغام ہے اور وہ یہ کہ معاشرے کے لیے واعظ محض کی جگہ عملی مثال بن جانا کہیں بہتر ہے! اور ہرکسی کو اچھے کام کا آغازاپنے آپ سے کرنا چاہیے! تاکہ دوسروںکے لیے اُس کام کی کی پیروی کرنا آسان ہوجائے!
یاد رہے کہ یوراگوئے دُنیا میں کم کرپشن والے ممالک میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے! اور اس ملک میں یہ تبدیلی جنابِ خوزے موجیکا کے برسراقتدار آنے کے بعد رونما ہوئی ہے!
لاطینی امریکا ایک طویل عرصے تک ’امریکی لائف سٹائل‘کے زیر اثر رہا ! اور اشیاءکا حصول لاطینی امریکا کے عوام کا مزاج بن گیا تھا! مگر، 40سال تک اس کارِ بے کار کے نتائج بھگتنے کے بعد پورا خطہ آہستہ آہستہ اپنی دھرتی کے مزاج کے قریب اور پرُسکون ہوتا چلا گیا! اور اب اس خطے میں "Live Like Americans "کے نعرے کی گونج تک باقی نہیں رہی! یاد رہے 1960میں امریکی اسی نعرے کے ساتھ یورپ میں بھی وارد ہوئے تھے! اور ’ہائر پرچیز سسٹم‘عام کرنا چاہتے تھے! مگر، یورپی اقوام نے یہ اسلوبِ حیات قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا!یورپ میں آج بھی اقساط پر اشیاءحاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے!
ایک زمانہ تھا کہ پاکستانی مصنوعات اور پاکستانی روپیہ دُنیا کی تسلیم شدہ حقیقتیں تھیں! مگر، 1958کے بعد نہ جانے کیا ہوا؟ کہ دُنیا سے ہمارا اعتبار ہی اُٹھ گیا! اور بڑی طاقتوں نے ہمیں موم کی ناک سمجھ لیا! کیونکہ اُنہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوئی لمبا چوڑا کھٹ راگ تیار نہیں کرنا پڑتا تھا!اُنہیں ،تو، بس ایک آدمی قائل کرنا پڑتا تھا! اور اگر وہ آدمی قائل ہو جاتا،تو، سب کچھ ٹھیک ہو جاتا! ورنہ وہ اُس کی جگہ کوئی پہلے سے ہی دل سے قائل آدمی تخت نشین فرما دیتیں!اور دریا کے بہاﺅ کا رُخ اُن کی مرضی کے مطابق جاری رہتا!
ہمارا مشاہدہ ہے کہ جب تک کسی خطے میں امریکا اپنے کھل کھیلنے کا عمل مکمل نہیں کر لیتا! اُس خطے کی قومیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی استعداد حاصل نہیں کر پاتیں! لاطینی امریکا اس سلسلے میں ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے! ویت نام سے تھائی لینڈ تک پھیلی پوری ہند چینی پٹی اس سلسلے کی ایک اور مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہے!
پاکستان صوفیائے کرام کی چھاﺅں پروان چڑھا! اور ایثار پاکستانی عوام کی پہچان ٹھہر گیا! مگر، کیا کیجیے کہ اسی خطہ¿ ارض پر دھونس اور دھاندلی نے وہ اُدھم مچایا کہ لوگ گھروں میں دبک کے رہ گئے! مگر، زندگی آگے بڑھتی رہی! دستِ باری کارپرداز رہا! اور مشکلیں آسان ہوتی چلی گئیں! دستِ قدرت ایک بار پھر ہمیں اپنا ووٹ درست طور پر استعمال کرنے کا موقع عطا کر رہا ہے! اور ہمارا ایقان ہے کہ عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے! اور 1970سے اب تک ہمارا معاشرہ اتنی ٹھوکریں کھا چکا ہے کہ اب اس سے کسی نوع کے جذباتی فیصلے کی اُمید رکھنا ہی عبث ہے! ہمیں ایک قانع راہ نما کی ضرورت ہے! جس کی قناعت سب سے کے لیے مثال بن سکے! اور ہمارا معاشرہ اُس ڈگر لگ سکے، جس ڈگر چلنے کے لیے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا! ہمیں ایک نیا پاکستان درکار نہیں! ہمیں اپنا پاکستان دررکار ہے! ’نئے پاکستان‘میں،تو، ہم 1972سے زندگی گزار رہے ہیں! اور اب جبکہ ہم ایک جوہری ، جمہوری قوت کے طور پر پہچان لیے گئے ہیں! ہمیں اپنی اسی پہچان پر قانع رہنا چاہیے! اور کوشش کرنا چاہیے کہ دُنیا آہستہ آہستہ ہماری بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت سے بھی آگاہ ہوتی چلی جائے! اور ہم ایک مضبوط معیشت کے حامل ملک کے طور پر بھی پہچان لیے جائیں!
ہمارے قدرتی وسائل زمین کے نیچے محوِ خواب پڑے ہیں! ہمیں اِن قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کی توفیق ہی نہیں ہو پا رہی! ہمارے بے پناہ آبی وسائل ہمارے لیے زرعی پانی اور برقی توانائی لیے بہے چلے جا رہے ہیں! مگر، کوئی اِنہیں " Tap"کرنے کے لیے تیار نہیں! دیامیر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ابھی تک شروع نہیں کیا جاسکا! ہم یہ منصوبہ بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ’سرمایہ کار‘ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں! جبکہ یہ منصوبہ بھی تربیلا اور منگلا کی طرح سرکاری شعبے میں مکمل کیا جانا چاہیے! تربیلا ڈیم پراجیکٹ اب تک اپنی لاگت چھ بار پوری کر چکا ہے! منگلا ڈیم پراجیکٹ آٹھ بار اپنی لاگت پوری کر چکا ہے! اور نہ جانے کب تک آمادئہ خدمت رہ سکتا ہے! ہمیں اب تک دریائے سندھ کے معاون دریاﺅں پر 17بڑے ڈیم قائم کرنا تھے! مگر، ابھی تک صرف دیامیربھاشا ملٹی پرپز ڈیم پراجیکٹ کا ذکرِ خیر اُس کی ’فیزیبلٹی رپورٹ‘سے آگے نہیں بڑھ سکا! جبکہ اس ڈیم کا ڈیزائن تک تیار کیا جا چکا ہے! نیلم جہلم ہائیڈل پاور پراجیکٹ دیر سے شروع کیا گیا!مگر،بے جا تاخیر پر بھی، نیلی گنگا پر ہمارے آبی اور سیلابی حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بن گیا! دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی معیشی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے توانائی کے تمام وسائل کب اور کس طرح رُوبکار لاتے ہیں؟ تھرکول پراجیکٹ انتخابی مہم کے اشتہارسے نکل کر زمینی حقیقت کا لباس کب زیبِ تن فرماتا ہے؟
کیا ان تمام کاموں کی تکمیل کے لیے ہمیں بھی ایک ’درویش صدر‘ کی ضرورت ہو گی؟جبکہ ہمارا خیال ہے کہ یہ دُنیا داری کے کام تھے! اور اِسے دُنیا دار صدور بہتر طور پر سرانجام دے سکتے تھے!مگر، کیا کیجیے کسی کے پاس اتنا وقت تھا ہی نہیں کہ وہ امریکی خواہشات کی تعمیل میں گزرنے والے وقت میں سے چند لمحات اپنی قومی ضروریات کی تکمیل کے لیے بھی نکال پاتا! کاش! ایسا ہو سکتا؟ہمارے دروازے درد کے رُخ کھلتے! اور ہماری کھڑکیاں چاند کے رُخ کھلتیں!کاش ! ہم پہلے دن سے اختیار کیاگیا راستہ نہ چھوڑتے! اور ہرمضبوط وزیر اعظم ہمیں اپنی راہ کی دیوار نہ لگنے لگتا!