عبرت ناک تباہی........؟

پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دینے والا امریکہ آج خود پتھر کے دور میں پہنچ چکا ہے۔ سینڈی نے امریکہ کی مشرقی ریاستوں کا جو حال بنا دیا ہے، اس کے بعد کبرو نخوت کے الفاظ اس کی ڈکشنری سے خارج ہو جانے چاہیں۔امریکہ کو ایران سے خطرہ ہے۔ ایران کے ایٹمی طاقت بننے پر پابندی عائد ہے مگر سینڈی کی آمد سے با خبر ہونے کے باوجود اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔سینڈی سب کچھ درہم برہم کر گیا ہے۔وائٹ ہاﺅس کے پریس سیکرٹری سے جب یہ سوال کیا گیا کہ بعض ریاستوں میں بجلی بحال نہ ہونے کی صورت میں الیکٹرونک ووٹنگ میں مشکلات در پیش ہو ں گی لہذا الیکشن کی تاریخ کو منگل کے علاوہ رکھا جا سکتاہے توپریس سیکرٹری نے کہاکہ وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا صدر کے پاس الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار ہے۔ حکومتی پریس کے مطابق یہ ممکن ہو تو بھی اس کا انتہائی کم امکان ہے۔ امریکہ کی تاریخ میں صدارتی انتخابات ہمیشہ مقررہ تاریخ پر ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں انتخابات ملتوی کرنے کے جواز تلاش کئے جاتے ہیں جبکہ امریکہ میں تباہ کن طوفان کے باوجود انتخابات ملتوی ہونے کا تصور نہیں ۔امریکہ کے آئین کے مطابق ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو انتخابات ہوتے ہیں، خواہ سینڈی جیسا تباہ کن طوفان آجائے، انتخابات ملتوی نہیں ہو سکتے۔ امریکہ کے مخالفین بھی اس کے معترف ہیں کہ اس ملک میں جب بھی کوئی آفت آئی، سیاستدانوں نے ملکی مفاد کو فوقیت دی ۔ چند روز بعد انتخابات ہونے والے ہیں مگر صدر اوباما اور ان کے حریف مٹ رامنی عوام کو بحران سے نکالنے میں مصروف ہیں۔آفت کو انتخابات میں کیش کرانے کی بجائے ، اس حساس موقع پر سیاسی حریف ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ نیو جرسی کے ری پبلکن گورنر مسٹر کرسٹی نے اس آفت نا گہانی کے وقت حریف پارٹی کے صدر اوباما کی خدمات کو بہت سراہا۔ٹیلی ویژن کے ایک انٹرویو میں ری پبلکن گورنر نے صدر اوباما کو عظیم قرار دیا۔ جنہوں نے بنفس نفیس نیو جرسی کا دورہ کیا اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا۔ الیکشن کے موقع پرعمومََا ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں مگر امریکنوں کو سب سے پہلے اپنے ملک سے محبت ہے ۔ ملک پر جب کوئی مشکل گھڑی آجائے، اس ملک میں بسنے والی تمام اقوام یکجا ہو جاتی ہیں۔بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔اوباما کے مشیروں کا خیال ہے کہ انتخابی مہم سے اس طرح کٹ جانے سے جبکہ انتخابات کے دن قریب ہوں ،صدر کو نقصان ہو سکتا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل اخبار لکھتا ہے کہ اس آفت ناگہانی سے نبٹنے میں صدر اوباما جو قائدانہ کردار ادا کر ہے ہیں اس کی بدولت وہ اپنی انتخابی مہم کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔امریکی تاریخ کابد ترین طوفان 16ریاستوں میں تباہی مچا کر کینیڈا کا رخ اختیار کر گیا ہے۔ایک صدی بعد آنے والے بدترین سمندری طوفان نے دو کروڑ سے زائد عوام کو بجلی سے محروم کر دیا ہے۔سینڈی نے امریکی انتخابات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ۔سینڈی کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ووٹرز ٹرن آﺅٹ متاثر ہو گا جس سے اوباما کی جیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ صدر اوباما اور صدارتی امیدوار مٹ رامنی انتخابی مہم ترک کر کے بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ نیویارک اور نیو جرسی میں ایک کروڑ افراد بجلی سے محروم ہیں۔ بجلی کی مکمل بحالی میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔ نیویارک میںتعلیمی ادارے مزید کئی روز تک بند رہیں گے۔ زیر زمین ٹرینوں کے معطل ہونے سے نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ نیویارک کا نظام پبلک ٹرانسپورٹ کا مرہون منت ہے۔ نیویارک شہر جو بدترین ٹریفک اور حادثات کی وجہ سے مشہور ہے، سینڈی کے بعد وہاں صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ پاکستان میں جب کوئی آفت آتی ہے تو صرف غریب مرتے ہیں،غریبوں کے گھر اور مال ڈنگر تبا ہ ہوتے ہیں مگر امریکہ میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے ،بلا امتیاز آتی ہے۔غریب امیر سب کو بہا لے جاتی ہے۔سینڈی نے بھی بلا امیتاز تباہی مچائی ۔امیر ترین اور غریب ترین سب ہی بجلی ،گیس اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔پٹرول پمپ بند پڑے ہیں۔فیول کی کمی کی وجہ سے ہسپتالوں میں چلنے والے جنریٹر بھی جواب دے رہے ہیں۔امریکہ جیسی سپر پاور قدرتی آفت کا مقابلہ تو نہیں کر سکتی مگر تاریخ کے بد ترین طوفان کے بعد نظام زندگی کو معمول پر لانے کے لئے دن رات ایک کر دیا ہے۔ نیویارک جہاں ایک حادثہ ہائی ویز بلاک کر دیتا ہے، وہاں طوفان کے بعد کے حالات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بد ترین تباہی کے باوجوداس قوم میں صبر اور نظم و ضبط برقرار ہے۔ میڈیا بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ سیاسی عہدیدار شہروں میں گشت کر رہے ہیں ۔ نیویارک میں سو سے زائد مقامات پرعارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں ۔فیول اور خوراک میں شدید قلت پیدا ہو گئی تو عوام کے سڑکوں پر آنے کا اندیشہ ہے۔ قوموں کو خطرہ اندر سے ہے نہ باہر سے ،اصل خطرہ اوپر سے ہے۔ جب اوپر والا قہر میں آجائے تو بڑے بڑے آبدوز جہاز کھلونے کی مانند ساحلوں سے ٹکراتے پھرتے ہیں۔ سینڈی سے متاثرہ علاقوں میںلوگوں کے پاس بجلی ہے نہ پانی اور دور جدید میں بجلی کے بغیر زندگی انسان کو پتھر کے دور میں پہنچا دیتی ہے۔ تاریکی غاروں کا زمانہ یاد دلا دیتی ہے ۔نہ فون کام کر رہے ہیں اور نہ ہی ہانڈی بنانے کے لئے چولہا گرم ہے کہ بیشتر چولہے بجلی کے ساتھ جلتے ہیں۔ سینڈی کا پھیلاﺅ بہت بڑا تھا ۔طوفان گزر چکا ہے مگراس کے نقش مٹانے کے لئے طویل عرصہ اور کثیر سرمایہ درکار ہے جبکہ امریکہ نے اپنے پیر اپنی چادر سے زیادہ پھیلا لئے ہیں۔ افغانستان،عراق اور پاکستان میں داخل ہوکر اس نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار ی ہے۔