دیوانے کی بڑ

کالم نگار  |  جاوید صدیق

موجودہ حکومت اس بات کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر لی ہے۔ دیکھا جائے تو 1971ءمیں بننے والی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے بعد یہ پہلی جمہوری طور پر منتخب حکومت ہے جو اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ یوںتو 2002ءمیں جنرل مشرف کی آمریت کے سائے میں بننے والی حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کی تھی لیکن یہ نیم جمہوری حکومت تھی۔ البتہ بھٹو مرحوم کی حکومت یحییٰ خان کی آمریت اور پاکستان کے دولخت ہونے کے المیہ کے بعد بننے والی ایک منتخب سویلین حکومت تھی۔ بھٹو صاحب نے اپنے عہد اقتدار میں سیاسی مخالفین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ غیر جمہوری تھا‘ ان کے دور میں آزاد پریس نے بھی بڑی صعوبتیں برداشت کیں۔ مرحوم پارٹی کے ا ندر بھی اختلافات رائے Dissent کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے پہلے سیکرٹری جنرل اور ایک بانی لیڈر جے اے رحیم‘ معراج محمد خان‘ مختاررانا‘ مصطفیٰ کھر اور رضا قصوری کے ساتھ جو ہوا وہ ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔
ان کمزوریوں کے باوجود بھٹو کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی‘ 1973ءکا آئین دیا۔ لاہور میں دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کی ‘ اس کانفرنس نے تیل کی دولت سے مالا مال ملکوں میں پاکستانیوں کے لئے روزگار کے دروازے کھولے اور لاکھوں بے روزگار پاکستانی روزگار کے لئے عرب ممالک پہنچ گئے۔ انہی کامیابیوں کے سبب مسٹر بھٹو پھانسی چڑھ جانے کے باوجود آج بھی مقبول ہیں۔ بینظیر بھٹو کی دو حکومتیں جو بھٹو کے نام پر اقتدار میں آئی تھیں پاکستان کے لئے کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں۔ موجودہ حکومت جو بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد قائم ہوئی پانچ سال پورے کرنے کے باوجود کسی ایک بھی عوامی مسئلے کے حل کا کریڈٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس حکومت کو ایک نہایت مناسب ماحول میسر آیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جو اپوزیشن کی بڑی جماعت تھی وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا اور انہیں متفقہ طور پر قائد ایوان منتخب کیا۔ 2008ءمیں تو چند ماہ کے لئے مسلم لیگ ن نے حکومت میں شمولیت بھی اختیار کی لیکن ججوں کی بحالی کے معاملے اور بعض دوسرے امور پر اختلافات کے باعث مسلم لیگ ن حکومت سے الگ ہو گئی اور فرینڈلی اپوزیشن بن گئی۔ اس کے بعد صدر زرداری نے اپنی مخلوط حکومت کو قائم رکھنے اور اتحادیوں کی ناز برداریوں پر جتنی توانائی صرف کی اس سے نصف کوششوں سے وہ عوام کے بعض بنیادی مسائل حل کر لیتے تو آج رائے عامہ کے سروے کے نتائج صدر زرداری اور ان کی حکومت کیلئے مختلف ہوتے۔
اب جبکہ حکومت کے اپنے اعلان کے مطابق اگلے عام انتخابات میں چند ہفتے باقی ہیں ‘ حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس بنیاد پر عوام سے دوبارہ ووٹ کیلئے رجوع کرے گی۔ گذشتہ پانچ برسوں میں یہ حکومت پرخلوص اور سنجیدہ کوششوں سے تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتی تھی۔ چین ‘ جاپان ‘ ترکی یا کوئی اور ملک ہوتا تو پانچ سال میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر لیتا لیکن اس ضمن میں کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ گیس کا بحران بھی اسی حکومت میں لوگوں کے لئے عذاب جان بن گیا ہے۔ افراط زر آسمان کو چھو رہی ہے۔ خود وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ سے پوچھا کہ قیمتیں آسمان سے باتیں کیوں کر رہی ہیں۔ بدامنی نے لوگوں کا جینا مشکل بنا دیا ہے‘ ان حالات کے باوجود حکومت کے اکابرین جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پنجاب کا اگلہ وزیراعلیٰ جیالا ہو گا اور اگلے انتخابات میں پی پی پی جیتے گی تو عام آدمی ان دعو¶ں کو دیوانے کی بڑ ہی سمجھتا ہے لے دے کر موجودہ حکمران اس بات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) پی پی پی مخالف ووٹ تقسیم کریں گے اور وہ جیت جائیں گے۔ کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ میڈیا اور زر کے زور پر موجودہ حکومت اگلا انتخاب جیتنے کی کوشش کرے گی لیکن ان تمام حربوں کے باوجود زمینی حقائق کو بدلنا آسان نہیں۔