ایکسپورٹ انڈسٹری کو لوڈشیڈنگ اور گیس مینجمنٹ سے مستثنیٰ رکھا جائے

کالم نگار  |  محمد مصدق

قدرت آہستہ آہستہ پاکستان پر مہربان ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی باہمی تجارت 8.3بلین یورو کی ہے جو اب ٹیکس میں کمی کرنے کی وجہ سے 2015ءمیں بارہ بلین یورو سے بھی آگے چلی جائے گی۔ یکم نومبر سے یورپی یونین نے پاکستانی برآمدات پر ٹیکسوں میں پچیس فیصد کٹوتی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے اور امید ہے کہ منصوبہ کے مطابق آئندہ سال پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پر سو فیصد ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔
حکومت پاکستان نے منور سعید بھٹی کو یورپی یونین میں نیا سفیر مقرر کیا ہے جو برسلز جانے سے پہلے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے ملاقات کرنے آئے۔ ملاقات میں یورپی یونین اور پاکستان کی باہمی تجارت کے مختلف پہلوﺅں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یورپی یونین اور پاکستان کے مابین ہونے والی تجارت میں تفاوت کو ختم کیا جائے۔ اس وقت صورت حال کچھ یوں ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کو پاکستانی برآمدات تو صرف اعشاریہ تین فیصد ہیں جبکہ اس کے مقابلے پر یورپی یونین کے ممالک سے پاکستان کی درآمدات 19 فیصد ہیں۔ 2014ءمیں مکمل GSP پلس درجہ ملنے کے بعد یقینی بات ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کو پاکستانی برآمدات زیادہ ہو جائیں گی جس کی وجہ سے توازن ادائیگیاں میں بہتری پیدا ہو جائے گی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی مبہم اور بے سمت ہونے کی وجہ سے یورپی یونین کو شروع ہی سے کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی جبکہ پاکستان کے مقابلہ پر بنگلہ دیش، انڈیا اور سری لنکا وغیرہ نے سفارتی سطح پر ان کے ساتھ مضبوط خارجہ تعلقات قائم کرکے تجارت کے شعبہ میں مختلف رعائتیں حاصل کیں جس کی وجہ سے ان ممالک میں دوسری انڈسٹریز کے ساتھ ٹیکسٹائل کی صنعت کو بہت ترقی ملی۔ یورپی یونین سے ملنے والی رعائتوں سے استفادہ کرنے کے لئے پاکستان کے بہت سے ٹیکسٹائل یونٹ بنگلہ دیش منتقل ہو گئے جس کی وجہ سے پاکستان کی لیبر مارکیٹ اور زرمبادلہ کی مارکیٹ دونوں متاثر ہوئیں۔ پاکستان نے اپنا مقدمہ بھی کامیابی سے پیش نہیں کیا جس کی وجہ سے اسے وہ رعائتیں نہ مل سکیں جو بنگلہ دیش وغیرہ کو حاصل ہیں۔ برطانیہ نے یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کا درجہ دلوانے میں بہت اہم اور موثر کردار ادا کیا ہے۔ خود پاکستان کی طرف سے اس وقت یورپی یونین میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی (آجکل سیکرٹری وزارت خارجہ) نے بہت اہم کردار ادا کیا کیونکہ جب یورپی یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کے لئے پروسیس شروع کیا تو پاکستان کی خوشحالی کے دشمن انڈیا نے بنگلہ دیش کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کو پلس درجہ دینے کی مخالفت کی اور سو سے زیادہ ووٹوں کے مقابلہ پر صرف ان دو ملکوں نے مخالفت میں ووٹ دیئے جس پر فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔ اس دوران موجودہ سیکرٹری خارجہ نے بہت جانفشانی اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش اور انڈیا پر دوستوں کا دباﺅ ڈلوا کر انہیں مجبور کر دیا کہ یورپی یونین کے آئندہ اجلاس میں وہ پاکستان کے خلاف ووٹ نہ دیں۔ ایک تو موثر حکمت عملی کامیاب رہی، دوسرا برطانیہ نے فراخدلی سے پاکستان کا ساتھ دیا اور یوں یکم نومبر 2012ءسے پاکستان کی برآمدات کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کی وجہ سے پچیس فیصد رعایت اور آئندہ سال سو فیصد ٹیکسوں میں رعایت ملے گی۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ صرف اس ایک کامیابی سے پاکستان کی یورپی یونین کے لئے ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں بیس فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ اب یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کو سمجھے اور مستقبل کے چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی سپلائی بند کرکے کھاد سپورٹ کر لی جائے اور یہی گیس انڈسٹری کو فراہم کر دی جائے تو لاکھوں افراد کو روزگار ملنے کے ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو زیادہ ٹیکس ملے گا اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا۔ اس وقت آئی ایم ایف اربوںڈالر کی قسط لینے کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی دکھا رہا ہے اس لئے بر وقت صحیح فیصلے پاکستان کی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھ سکتے ہیں۔ برقاب کی وفاقی سیکرٹری نرگس سیٹھی اس سلسلہ میں حالات کا جائزہ لینے کے لئے خود آج لاہور آ رہی ہیں۔