وزیر اعظم کا مصالحتی آفنسو

وزیر اعظم کا مصالحتی آفنسو

سچی بات ہے کہ وزیر اعظم کی جو خوبی ہے، وہ تو ماننا پڑے گی۔جادو سر چڑھ کے بولتا ہے۔اگر یہی وزیر اعظم محاذآرائی کی سیاست کے عادی تھے اور ہم ان کے سخت تریں نقاد تو اب وہی صلح جوئی سے کام چلا رہے ہیں تو اس پر انہیں شاباش بھی ملنی چاہئے اور یہ ثبوت ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں میچوریٹی آتی جا رہی ہے اور وہ جمہوریت کو کامیاب بنا نے کے دلی طور پر خواہاں ہیں ، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ مکمل فرشتہ ہیں ، مکمل فرشتہ تو برطانیہ اور امریکہ کی جمہوریت بھی نہیں ہے، سیاست ہیرا پھیری اور ڈنڈی مارنے کا نام ہے۔ مگر بحیثیت مجموعی اس نظام میں عوام کا بھلا ہے۔ پاکستان کے پہلے دو مارشل لا بلا جواز تھے،دوسرے دو مارشل لاﺅں کے لئے جواز گھڑے گئے مگر بیڈگورننس دیکھنے کو ملی۔ پہلے دو مارشل لاﺅں نے تو ملک کو دو لخت کرنے کے اسباب پیدا کئے۔اب پھر جمہوریت کوموقع مل رہا ہے، زرداری صاحب نے پانچ سال مکمل کئے۔ ان کی پارلیمنٹ نے بھی پہلی بار کسی فوجی آمر کی چھتری کے بغیر اپنی ٹرم پوری کی ورنہ جنرل مشرف کا کلیم تھا کہ ایسا صرف اسی کے دور میں ہو رہا ہے اور پہلی بار ہو رہا ہے مگر اب بغیر کسی جرنیل کے سایہ عاطفت کے زرداری دور میں پارلیمنٹ نے آئینی میعاد پوری کی۔یہ دور انتہائی پر خطر تھا ، کبھی فوج کیری لوگر بل کے نام پر جمہوری حکموت کو لرزہ براندام کرتی، کبھی ریمنڈ ڈیوس کا فتنہ کھڑا ہو جاتا، کبھی میمو گیٹ کا مگر مچھ پھنکارنے لگتا اور یہ ایسا مہیب وقت تھا کہ صدر زرداری کو بیماری کے نام پر چند روز کے لئے دوبئی کے ایک ہسپتال میں پنا ہ ڈھونڈنا پڑی۔ اس دور کی عدلیہ نے بھی منتخب حکومت کو زچ کئے رکھا مگر زرداری جو جیلوں میں گل سڑ کر سیاست کی پی ایچ ڈی مکمل کر چکے تھے، بڑے گھاگ نکلے، انہوں نے نیویںنیویں ہو کر جیسے تیسے وقت گزارا۔ اور پورا وقت گزار لیا، وہ بھی کامیابی سے۔
میاں نواز شریف کے لےے زرداری کا دور ایک راہنما اصول کے طور پر موجود ہے۔ موجودہ حکومت کے لئے پہلا ٹیسٹ ہی خطرناک نوعیت کا تھا ، ایک انقلاب کینیڈا سے دھاڑتا ہوا، سرحدیں پھلانگتا ہوا اسلام آباد کے در و دیوار سے آ ن ٹکرایا اور دوسرا انقلاب نئے پاکستان کی تخلیق کے بھوت نما سونامی کی شکل میں نمودار ہوا۔ میاں نواز شریف نے اپنے پتے صحیح کھیلے،تمام منتخب پارلیمانی پارٹیوں کے راہنماﺅں کو اعتماد میں لیا اور پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس طلب کر کے ان دونوں فتنوں کی سرکوبی کا نسخہ آزمایا۔
ایک فتنہ دہشت گردی کی شکل میں پہلے سے موجود تھا جس نے اس دور میں سنگین شکل اختیار کر لی۔ قوم یک سو نہیں تھی کہ اس فتنے کا سر کیسے کچلا جائے، صلح صفائی کا راستہ بھلا ہے یا سر کے بل ٹکرا جانے کا۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر اے پی سی بلائی، صلاح دی گئی کہ پہلے مذاکرات کر کے دیکھ لیتے ہیں۔ چنانچہ ایک نہیں دو کمیٹیاں بنیں، بار بار سلسلہ جنبانی شروع کیا گیا مگر سامنے راستہ بند ملا تو آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ بھی قومی اتفاق رائے سے ہوا، اس کے لئے پشاور میں اے ؛پی سی ہوئی، یہاں پھول سے بچوں کے خون کی مہک فضا میں رچی بسی تھی، اس عالم میں کونسا قومی لیڈر ہے جو مذاکرات کی رٹ لگاتا، فوج کو اذن ملا اور جب قوم شانہ بشانہ کھڑی ہو اور کوئی بھی کج بحثی میں ملوث نہ ہو تو فوج نے یک سوئی سے دہشت گردوں کا ان کے آخری ٹھکانے تک پیچھا کیا۔
ایک بہتر اور پر امن ماحول ملا تو وزیر اعظم نے معاشی ترقی کی ضرب عضب کا بگل بجایا، چین ، جرمنی اور کئی دیگر ملکوں سے وہ دو سال سے مسلسل رابطے میں تھے،چیف منسٹر پنجاب نے ان کی بھر پور معاونت کی اور اب چینی صدر کی پاکستان میں تاریخی آمد نے پاکستان کے لئے خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا مگر یہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کو ہضم نہ ہو سکا، اس نے خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں شکوک و شبھات پھیلائے،ملکی فضا تو ہمیشہ سے مسموم رہی ہے، بھارتی پروپیگنڈنے ہمارے سیاستدانوں کے ذہن پراگندہ کر دئے، وزیر اعظم نے ڈیمیج کنٹرول کے لئے اے پی سی بلائی، پوری طرح بریفنگ دی، سبھی مطمئن واپس آئے مگر بھارت نے ایک بار پھر زہریلا پروپیگنڈہ شروع کردیا، اس کا میڈیا دن رات شکو ک و شبہات پھیلانے میں پیش پیش تھا، وزیر اعظم بھانپ گئے کہ پانی سروں سے گزرتا جا رہا ہے، ہمارے سیاست دان بھانت بھانت کی بولی بول رہے تھے، وزیر اعظم نے پھر سب کو اکٹھا کیا جہاں احسن اقبال نے تفصیلی بریفنگ دی اور ایک ایک اعتراض کومسترد کیا۔
جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ آپ ایک ووٹ سے بھی حکومت بنا سکتے ہیں تو آپ کوقومی تقدیر بدلنے کے لئے مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل ہے، آپ کو اپوزیشن یاا سمبلی سے باہر گروپوں کی ناز برداری کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی۔امریکہ میں بیرونی جنگوں کے سلسلے میں سارے فیصلے اس ماحول میں ہوئے کہ خود امریکی عوام کی اکثریت ان کے خلاف جلوس نکال رہی تھی مگر بارہ برس بیت گئے کسی نے امریکی صدر کے حق حکومت کو چیلنج نہیں کیا، پاکستان میں بھی جمہوریت جاری و ساری رہے گی تو ایک وقت آئے گا کہ کسی اقلیتی پارٹی کی حکومت بھی اپنی مرضی کے فیصلے کر سکے گی، مگر ابھی ہمیں سنبھل کر چلنا ہے، ہم دہشت گردی کی زد میں ہیں، ہمارے چاروں طرف دشمن ہیں اور ہماری صفوں میں بھی سانپ گھسے ہوئے ہیں، ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھناہو گا اور وزیر اعظم اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے، جانتے ہوئے، سب کچھ بھانپتے ہوئے انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔و ہ ایک ایک نکتے پر صلاح مشورہ کرتے ہیں جہاں کہیں کوئی بڑا اعتراض آجائے وہ ، پسپائی میں خفت محسوس نہیں کرتے، انہوں نے اپنی بیٹی کو ایک قومی پروگرام سے ہٹا لیا، جسٹس افتخار کے بیٹے کی تعیناتی کا فیصلہ واپس لے لیا۔
یہ حکمت اور دانائی کا راستہ ہے۔ وہ آفنسو کے عادی رہے ہیں مگر اب اس کی نوعیت بدل گئی ہے ، اب یہ صلح جوئی، حکمت کاری اور دانش مندی کا آفنسو ہے۔ہماری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ صلح حدیبیہ نے ہی فتح مکہ کا دروازہ کھولا تھا۔