بلدیاتی انتخابات میں موروثی سیاست، دھاندلی اور میاں افتخار

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
 بلدیاتی انتخابات میں موروثی سیاست، دھاندلی اور میاں افتخار

میاں افتخار حسین اے این پی کے وزیر اطلاعات (سابق) اور سیکرٹری جنرل نے جس تھانے کا افتتاح کیا تھا اس تھانے میں بند کئے گئے یہ تمام سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ میرے دل کو دھچکا لگا کہ خیبر پختون خواہ پولیس کی تحویل میں ایک بوڑھا معزز مہذب بڑا سیاستدان بہت بے چارگی اور سادگی سے دھکے کھا رہا تھا اور اسے پولیس وین میں ڈالا گیا۔ میں اس کیلئے بات کروں گا۔ پولیس والوں نے پورے احترام کا مظاہرہ کیا۔
مگر یہ بھی دیکھئے کہ نیا خیبر پختون خواہ بن گیا ہے؟۔ پورے ملک کے الیکشن میں اتنے ہنگامے اور قتل و غارت نہیں ہوئی مگر یہ کریڈٹ بھی ہے کسی سول حکومت نے پہلی بار بلدیاتی الیکشن کرائے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے۔ اسے بے مثال بنانے کے لئے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کو بھی بلدیاتی الیکشن کرانے چاہئیں۔ عمران خان جس طرح کی باتیں کرتا ہے تو اسے روائتی سیاستدانوں کی طرح رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ اگر یہ ہوتا ہے تو پھر دوسری طرف تو یہ سیاسی رویہ ہو گا۔
ہماری سیاست میں موروثی رویہ کے حوالے سے بہت باتیں ہوتی ہیں مگر خیبر پختون خواہ کے بلدیاتی انتخاب میں موروثیت کے رنگ نظر آئے۔ گورنر مہتاب عباسی کا بیٹا وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا بھائی اور بھتیجا، مولانا فضل الرحمن کا سمدھی اور بھائی امیر مقام کا بیٹا سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی کا چچا زاد بھائی والئی سوات میاں گل جہانزیب کا نواسہ، ارباب عالمگیر کا بیٹا صوبائی سپیکر کرامت اللہ کا بھائی پی ٹی آئی کے سابق وزیر امان اللہ جدون کا بیٹا اور اس کے علاوہ بھی کئی رشتہ دار اور دوست مختلف حلقوں سے کامیاب ہوئے۔ تو اب صرف دو تین خاندانوں پر موروثی سیاست کا الزام قطعاً نامناسب ہے؟ موروثی سیاست کے ساتھ روحانی موروثی سیاست بھی زوروں پر ہے۔ شاہ محمود قریشی کون ہے۔ اسے وزارت بھی حضرت بہائوالدین زکریا کے سجادہ نشین ہونے کی وجہ سے ملی۔ آج کل وہ تحریک انصاف کا وارث ہے۔ نااہل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی ملتان کی ایک بڑی گدی کے سجادہ نشین ہیں۔ پوری دنیا میں یہ موروثیت چلتی ہے مگر اس میں استحقاق کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ باپ کی طرف جائیداد اور سرمائے میں جو حصہ ملتا ہے کافی ہے۔ اس میں اپنی بہنوں بیٹیوں کو بھی شریک کرنا چاہئے۔ مگر ہم تو ووٹ کا حق بھی عورتوں کو نہیں دیتے۔ دوسری طرف اپنی نالائق اولاد کو ریاست کی ذمہ داریاں تک سونپ دیتے ہیں۔ اس میں اعتدال کی ضرورت ہے۔ بے نظیر بھٹو بھی بیٹی تو بھٹو صاحب کی تھی تو نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کے لئے کیوں اعتراض ہے جبکہ میرے خیال میں وہ پوری طرح اہل ہے کہ سیاست کے سچے راستوں پہ چل سکے۔ اس کے علاوہ بھی کئی بیٹیاں پارلیمنٹ میں ہیں اور بہت کم نے اپنے آپ کو مستحق ثابت کیا ہے۔ صرف ماروی میمن ایسی خاتون ہیں جس نے مختلف شعبوں میں اپنے آپ کو اہل ثابت کیا ہے۔ پارٹیاں بدلنے کی روایت تو ہماری سیاست میں پرانی ہے۔ تحریک انصاف میں بھی لوٹے موجود ہیں۔ مسلم لیگ ن میں طارق عظیم اور امیر مقام کو اپنے لوگوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ان کی کوئی خدمات مسلم لیگ ن کے حوالے سے بتائی جائیں؟ سارا معاملہ استحقاق کا ہوتا ہے۔ ہمارے صحافی کالم نگار اور اینکر پرسن بھی ایک چینل چھوڑ کر دوسرے میں جاتے ہیں۔ مگر اس بات پر زیادہ تنقید نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے آج کل ایک بڑے چینل کی بہت بات ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں کامران خان کی نسبت خاور نعیم ہاشمی کا کردار قابل تعریف ہے۔ کامران خان نے متنازع ہونے والے چینل کو بھی چھوڑ دیا ہے۔ اس میں قائداعظم کا جملہ بہت بامعنی اور حوصلہ افزا ہے۔ ان سے کسی صحافی نے پوچھا کہ آپ کبھی کانگریس میں بھی تھے تو انہوں نے فرمایا کہ میں کبھی پرائمری جماعت بھی تھا۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کو ایک باعتماد جماعت بنایا اور پھر پاکستان بنا لیا۔ ان کے منہ سے 14 اگست 1947 کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ بہت اچھا لگا تھا۔ کیا کبھی اب پاکستان مسلم لیگ کو اس مقام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کی تاریخ کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے؟
مسلم لیگ ن اور شاید پورے سیاسی منظر نامہ پر ایک نام چودھری نثار علی خان کا ہے جس نے اپنی سیاسی وابستگی نہیں بدلی اور یہ بات نواز شریف بھی مانتے ہیں۔ شاید وہی ایک ہے جو اصولوں پہ اپنی عزت نفس کے لئے نواز شریف سے اختلاف بھی کر لیتا ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر میں کسی پارٹی میں کوئی اپنے پارٹی لیڈر سے خفا ہونا تو دور کی بات ہے، اختلافات کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔
میں نے بات میاں افتخار حسین کی گرفتاری سے شروع کی تھی مگر کسی اور گرفت میں آ گیا۔ ان سب باتوں کا تعلق الیکشن اور سیاسی جماعتوں کے ماحول سے ملتا جلتا ہے۔ یہ بات اچھی لگی کہ ایک بڑے سیاستدان نے ورکر کی طرح رویہ اختیار کیا۔ مشتعل ہجوم میں اتنے صبر و تحمل کا مظاہرہ ایک جرات مند آدمی کا کام ہے۔ اس کی بہادری کا اعتراف عمران خان نے بھی کیا ہے اور اس کا شکریہ بھی میاں افتخار نے ادا کیا۔ یہ رواداری بھی سیاست میں قابل تعریف ہے۔ عمران کہتے ہیں کہ میاں صاحب میرے کہنے پر گرفتار نہیں ہوئے اور نہ وہ میرے کہنے پر رہا ہوں گے۔ ہمارے صوبے میں پولیس خودمختار ہے۔ وہ قانون کے مطابق کام کر رہی ہے۔ یہ بات کسی حد تک تو درست ہے۔ خیبر پختون خوا کی پولیس اب کچھ بہتر ہو گئی ہے۔ میرے داماد اشراق نیازی نے بتایا کہ وہ پشاور گیا تھا اور اس نے محسوس کیا کہ پولیس والوں کے رویے میں بہتری آئی ہے۔
مگر یہ کیا بات ہے کہ مقتول کا والد کہہ رہا ہے میں نے میاں افتخار کو نامزد نہیں کیا ہے تو پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے کیوں صرف مخالف پارٹی کے بڑے سیاستدان کو نامزد کیا ہے۔ پولیس نے نہ صرف یہ بات تسلیم کر لی اور فوری کارروائی بھی کی۔ ورنہ گرفتاریوں کے لئے ہماری پولیس بہت لاپرواہ ہے مگر سیاسی حوالے سے سرگرم بھی ہے۔ کل تک جنہیں سیلوٹ مارتے ہیں اپنے ہاتھوں سے اسے ہتھکڑیاں لگاتے ہیں۔ درمیان میں کوئی بات ہے جو صرف پولیس والے جانتے ہیں مگر عدالت نے بھی فوراً ایک دن کا ریمانڈ دے دیا ۔ اگر کوئی بات ہے تو وہ دور تک جا رہی ہے۔ اب تک عمران خان تک کیوں نہیں پہنچی؟
یہ بات ’’صدر‘‘ زرداری نے کہی کہ ’’پرویز خٹک اقتدار کے نشے میں اندھے نہ ہوں‘‘ اور جو دل کے اندھے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ اپوزیشن میں بندے کو اندھا اور دل کا اندھا نہیں ہونا چاہئے۔ نواز شریف نے بھی اس ضمن میں رپورٹ طلب کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سنیٹر سراج الحق نے بھی اختلاف کے باوجود میاں صاحب کے ساتھ اچھے روابط کی بات کی ہے اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ میاں صاحب سے دھیان میاں نواز شریف کی طرف جاتا ہے۔ ممکن ہے پرویز خٹک یا غصیلے تحریکئے سیاستدان اس غلط فہمی میں ہوں کہ میاں افتخار کا کوئی تعلق ضرور میاں نواز شریف سے ہو گا؟ دھاندلی کے لئے بھی ہر طرف شور مچا ہوا ہے۔ ایک صوبائی وزیر باقاعدہ بیلٹ بکس اٹھا کے لے گئے۔ دھاندلی کے لئے ثبوت یہ بھی ہے کہ کئی لوگ قتل ہو گئے ہیں۔ ووٹرز نے موقعے پر ہی حساب چکا دیا اور عمران تو دھرنا دیتے دیتے تھک گیا ہے۔
میرے موضوع سے بالکل مختلف بات کہ بے چارے پنشنر کے لئے خاص طور پر دردمندی سے سے سوچا جائے۔ ان کے لئے پہلے سے منظور شدہ میڈیکل الائونس بھی ختم کر دیا گیا ہے جبکہ میڈیکل امداد کی زیادہ ضرورت بوڑھوں کو ہوتی ہے اور پنشنرز بوڑھے ہوتے ہیں۔ تنخواہوں میں اضافہ بجٹ میں ہوتا ہے تو پنشن میں زیادہ اضافہ ہونا چاہئے۔ یہ بھی ہے کہ بوڑھی عورتیں اور بوڑھے چند سو روپے کے لئے قطار اندر قطار اذیت اور ذلت کا شکار ہوتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپیل کرتے ہوئے بھی نہیں ہچکچا رہا کہ سنیٹرز کے لئے زیادہ فراخ دلی سے سوچا جائے۔