’نندیؔ پاور اور شیخ الاِسلامی پاور!‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
’نندیؔ  پاور اور شیخ الاِسلامی پاور!‘‘

 بلوچستان سے مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن باقیؔ بلوچ نے لندن میں مقیم اپنی محبوبہ کو پیغام بھجوایا تھا کہ  ؎
’’سات سمندر پار سہی وہ لیکن باقیؔ دِل کا حال
اِس ساحل سے اُس ساحل تک سب پہنچایا موجوں نے‘‘
اب صُورت یہ ہے کہ لندن میں علّامہ طاہر القادری اور مسلم لیگ (ق) کے صدر  چودھری شجاعت حسین میں دس نکاتی ایجنڈے پر اتحاد ہُوا تو پلک جھپکنے میں خبر پاکستان سمیت پوری دُنیا میں پھیل گئی۔ جناب پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، چودھری احسن اقبال او رانا ثنااللہ خان وغیرہ نے حسبِ سابق اِس خبر کو لطائف و ظرائف سے ٹالنے کی کوشش کی لیکن گوجرانوالہ کے قریب ’’نندی پور پاور پراجیکٹ‘‘ کا افتتاح کرتے ہُوئے وزیرِاعظم نواز شریف سنجیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کوئی کینیڈا سے اعلان اور لندن میں اجلاس کر رہا ہے۔ خُدا کے واسطے پاکستان کو چلنے دیں۔‘‘ کسی کو خُدا کا واسطہ بہت مجبوری میں دِیا جاتا ہے۔ ایک پُرانے فِلمی گِیت میں عاشق نے اپنی محبوبہ کو ظالمؔ قرار دیتے ہُوئے پیغام بھجوایا تھا 
’’خُدا کے واسطے ظالمؔ گھڑی بھر کے لئے آجا!‘‘
لیکن لندن میں اتحاد کرنے والے تو، حکومتِ پاکستان کو پیغام بھجوا رہے ہیں کہ ’’ظالمو! جواب دو!‘‘ بہرحال علّامہ القادری کی 23 دسمبر 2012 کے بعد یہ دُوسری کامیابی ہے۔ پہلی کامیابی اُس وقت ہُوئی جب انہوں نے جنابِ زرداری کے دَور کی پیپلز پارٹی اور اُس کی اتحادی جماعتوں کے خلا ف غریبوںکے حق میں ’’انقلاب‘‘ لانے کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ تو اپنے دِینی ادارے ’’منہاج اُلقرآن‘‘ کے زیرِ اہتمام کِیا اور جناب زرداری (اُس دَور کے) وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف سمیت حکومت میں شامل سبھی سیاستدانوں کو ’’یزیدیو، بے شرمو اور بے غیرتو‘‘ بھی کہا لیکن جب انہوں نے حکومت سے معاہدہ کِیا تو موصوف نے اُس پر دستخط ’’چیئرمین پاکستان عوامی تحریک‘‘ کی حیثیت سے کئے۔ اِس طرح علّامہ طاہر القادری نے کئی سال پہلے خُود اپنے ’’دستانِ مُبارک‘‘ سے دفن کی گئی۔ پاکستان عوامی تحریک کو زندہ تسلیم کروا لِیا۔
لندن میں علّامہ صاحب نے 10 نکاتی معاہدے پر چیئرمین پاکستان عوامی تحریک کی حیثیت سے  دستخط کئے اور مسلم لیگ ق کے صدر کی حیثیت سے چودھری شجاعت حسین نے معاہدے کی رُو  سے طے پایا کہ وزیرِاعظم نواز شریف کی مخالف سیاسی جماعتوں سے رابطہ چودھری شجاعت حسین اور پسرِ علامہ القادری ڈاکٹر حسن محی الدّین کریں گے۔ اِس طرح علّامہ صاحب نے شاید اپنی ’’روحانی قوت‘‘ سے سیاست میں نومولُود بیٹے کا سیاسی قد کاٹھ منجھے ہُوئے سیاستدان اور سابق وزیرِاعظم چودھری شجاعت حسین کے برابر تسلیم کروا لِیا ہے۔ اِس ضرب المثل کے مطابق کہ ’’اگر پِدر نتوانِد پِسر تمام کُند‘‘ چودھری صاحب وضعدار شخص ہیں۔ انہیں چودھری مُونس الہی کو آگے لانا چاہئے تھا۔ اب علّامہ القادری کو سیاسی جماعتوں میں ’’خاندانی بادشاہت‘‘ کی اہمیت کا احساس ہو گیا ہے۔
مَیں اگرچہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوںکے لئے ہی دُعائیں کرتا ہوں لیکن نہ جانے کیوں میرا جی چاہتا ہے کہ مَیں چودھری شجاعت حسین اور ڈاکٹرحسن محی الدّین کی رابطہ مہم کے لئے دُعا مانگوں۔ اِس سے پہلے مَیں نے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں حِصّہ لینے والے لاہور کے طویل القامت ’’جناب سلیم کِرلا‘‘ اور اُس کے بعد کُوچۂ  سیاست میں، دھم سے کُودنے والے اڑھائی فُٹ کے فِلم سٹار ’’جناب جاوید کوڈُو‘‘ کی سیاست میں کامیابی کے لئے دُعائیں مانگی تھیں۔ وہ تو قبول نہیں ہُوئی تھیں لیکن بہرحال طوِیل القامت چودھری شجاعت حسین کے ساتھ ’’سیاسی کوڈُو‘‘ کی جوڑی ’’پھبّے‘‘ گی خُوب!
علّامہ طاہر القادری اور چودھری شجاعت حسین کی اقدارِ مُشترک پر مَیں نے پہلی بار غور کِیا ہے۔ ایک تو یہ علّامہ صاحب جھنگ کے جم پل ہیں اور چودھری صاحب گجرات کے یعنی دونوں دریائے چناب کی دھرتی کے "Sons of the Soil" اور دُوسری قدرِ مشترک ہے "Cycle" (سائیکل)۔ یہ بات تو علّامہ طاہر القادری بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جھنگ سے ایک پُرانی سائیکل پر لاہور وارِد ہُوئے تھے۔ اُدھر جنرل ضیاالحق جب اقتدار میں آ کر عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ ’’عوامی جمہوریہ چین میں وزراء اور سینئر حکام سائیکلوں پر دفتر جاتے اور گھر واپس آتے ہیں۔‘‘ پھر جنرل صاحب نے اسلام آباد میں خُود بھی سائیکل سواری کا مظاہرہ کِیا۔ خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے حُکام جناب ضیاالحق کی حفاظت پر مامُور تھے۔ اُدھر بعض ’’شرپسندوں‘‘ نے امریکی سفارت خانے کو آگ لگا دی۔‘‘ اُس کے بعد جنرل صاحب نے کبھی سائیکل نہیں چلائی۔
دروغ برگردنِ کامل علی آغا کہ ’’چودھری شجاعت حسین نے وہ سائیکل جنرل صاحب سے تُحفے میں مانگ لی تھی۔ کامل علی آغا پہلے "Clean Shave" تھے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اُنہوں نے بڑی بڑی مونچھیں رکھ لی ہیں۔ (لیکن آغا صاحب آئو دیکھ کر ہی اپنی مُونچھوں کو تائو دیتے ہیں)۔ آغا صاحب کا بیان ہے کہ ’’چودھری شجاعت حسین نے مسلم لیگ ق کا انتخابی نشان جنرل ضیاالحق(مرحوم) کی یادگار سائیکل کی یاد میں لِیا تھا۔
پاکستان مسیحا پارٹی کے چیئرمین جناب جے سالک وزیرِاعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دُوسرے دَور میں وفاقی وزیر ِتھے۔ انہوں نے بعض مخّیر حضرات کے تعاون سے گرجا گھروں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے سکولوں  اور کالجوں کے طلبہ میں، مُفت سائیکلیں تقسیم کرانے کی مہم شروع کی تھی۔ لاہور میں اُنہوں نے میرے سمیت کئی سینئر اور جونیئر صحافیوں کو ایک ایک سائیکل مال روڈ پر سائیکل سواری کا مظاہرہ کرنے کے لئے دی تھی۔ یہ مظاہرہ ختم ہُوا تو نہ جانے میرے کِس ’’عقیدت مند‘‘ نے مجھ سے جپھّی ڈال کر وہ سائیکل ہتھیا لی(یا تحفے میں) لے لی۔ اگر ڈاکٹر خالد رانجھا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے وہ سائیکل برآمد کرا دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں وہ سائیکل علّامہ القادری کو تحفے میں پیش کر دُوں گا۔ا ِس صورت میں علّامہ القادری اور چودھری شجاعت حسین کی سائیکلوں کے بعد اُن کے اتحاد کے پاس سائیکلوں کی تعداد تین ہو جائے گی۔ مجھے خیال آیا ہے بڑے چودھری صاحب لندن سے سائیکل پر پاکستان کو خطاب کیوں نہ کریں ان کے سب مسئلے حل ہو جائیں گے اور وزیراعظم میاں صاحب کو بھی خدا کا واسطہ نہیں دینا پڑے گا کہ اب بس کرو۔
کیا ہی اچھا ہو کہ علّامہ طاہر القادری جب پاکستان لوٹیں تو وہ خُود بھی ’’کمپنی کی مشہوری کے لئے‘‘ مال روڈ  لاہور پر سائیکل سواری کا مظاہر ہ کریں۔ لیکن عِزت مآب "Pope" کی طرح اُن کا لباسِ فاخرہ سائیکل کی "Chain" میں پھنس سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ  اُس کے کُتے بھی فیل ہو جائیں اور وہ بدتمیزی پر اُتر آئیں۔ آج چونکہ مَیں نئے اتحاد کے قائدین پر بہت ہی مہربان ہُوں تو مَیں نئے اتحاد کو ایک نئی سائیکل خرید کر دینے کو تیار ہوں۔ ڈاکٹر حسن محی الدّین "Driving Seat" سنبھالیںاور چودھری شجاعت حسین آرام دہ  "Carrier" پر۔ پھر  پِسرِ طاہر القادری پاکستان تحریکِ انصاف کے گلوکار رہنما ابرارالحق سے اجازت لے کر اُن کا گایا ہُوا گِیت  ؎
’’آجا نی بہہ جا سیکل تے، آجا وے بہہ جا سیکل تے‘‘
ایوانِ وزیرِاعظم کی طرف منُہ کر کے گائیں ’’نندی پُور‘‘ ہندوئوں کے دیوتا ’’مہادیو ‘‘ کے دربان (بہت ہی طاقتور بَیل ) ’’نندی‘‘ کے نام پر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب ’’نندی پاور‘‘ غالب آئے گی یا  ’’شَیخ الاِسلامی پاور۔‘‘