پنجاب یونیورسٹی میں تعلیمی جہاد اور کامرانیاں!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
پنجاب یونیورسٹی میں تعلیمی جہاد اور کامرانیاں!

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کی چیئرمین ڈاکٹر کنول امین نے کتاب دوستی اور شوق مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک واک اور سیمینار کا اہتمام کیا تھا۔ دلیر اور دانشور وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے یہاں بڑے جذبے سے گفتگو کی۔ میرے خیال میں اس ایک شاندار مادر علمی کا سربراہ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ایک پروفیسر معاشرے کا لیڈر ہوتا ہے۔ ان کا نام مجاہد ہے اور وہ اپنے نام کے سارے معانی جانتے ہی۔ میں مرشدی ڈاکٹر مجید نظامی کو مجاہد صحافت کہتا ہوں۔ پاکستانی صحافت کی تاریخ میں اتنا بہادر، بے باک سچائی کا علمبردار بہترین ایڈیٹر کوئی دوسرا نظر  نہیںآتا جو پاکستان کی صدارت کی پیشکش کے جواب میں میاں صاحبان سے کہتے ہیں کہ میں جس کرسی پر بیٹھا ہوں وہ بہت بڑی کرسی ہے۔ میرے لئے ادارت بہرحال صدارت سے زیادہ بیش بہا ہے۔  پاکستان کے   شریف ترین وزیراعظم جونیجو  نے پنجاب کی گورنری آفر کی  تو انہوں نے بصد شکریہ معذرت کر دی۔  صحافت میں میرا اعزاز یہ ہے کہ میں نوائے وقت کا کالم نگار ہوں۔ اور مجید نظامی کا کالم نگار ہوں۔ کسی پارٹی کسی پارٹی لیڈر کا کالم نگار نہیں ہوں۔ یونیورسٹی کی طرف  سے ان کے لئے ڈاکٹریٹ کی ڈگر ی پیش کی گئی تو اسے ایک تاریخی اور تعلیمی کارنامہ قرار دیا گیا۔
ایک ہی جملہ میں اکثر ڈاکٹر مجاہد کامران کے علمی جہاد تخلیقی اور تعلیمی جہد مسلسل کے دوران کہتا ہوں کہ انہوں نے مادر علمی اور مادر وطن کی سرحدیں ملانے کی کوشش کی ہے اور کامران ہوئے ہیں۔ کامران کامیاب سے زیادہ گہرا اور بامعنی لفظ ہے۔ یہ بھی ان کے نام کا حصہ ہے۔ ان کے کام کا بھی حصہ ہے۔ انہوں نے سیمینار میں کہا کہ تعلیمی ترقی کے بغیر کسی ترقی کا خیال بھی محال ہے۔ یونیورسٹی علم کے فروغ کا سرچشمہ اور مرکز ہے۔ تعلیمی اداروں میں کسی طرح کی سیاست کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ میرے ہوتے ہوئے یونیورسٹی میں مخصوص سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ماحول کو پراگندہ کرنے والوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں ماحول کو پراگندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ طلبہ و طالبات کو پڑنے لکھنے کے ذوق و شوق کی بجائے نعرے بازی اور تعلیمی بے انصافی کی لعنت میں مبتلا کر دیا جائے۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ نجانے وہ وقت کو اپنا ساتھی کس طرح بنا لیتے ہیں۔ لڑائی بھی اور پڑھائی بھی۔ وہ دونوں محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب سب لوگ طلبہ و طالبات اور اساتذہ ان کے ساتھ محبت کرنے لگے ہیں۔ ان کے ساتھ سپاہ علم کے سپاہی ہوئے ہیں۔ اس موقع پر استاد محترم المقام پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے بھی بہت جامع تقریر کی۔ جامعہ کی تقدیر بدلنے کے لئے ایک جامع علمی پروگرام پر عمل کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جامعہ پنجاب اب ڈاکٹر مجاہد کامران کی قیادت میں اپنی علمی اور سچی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی منزل کا تو پتہ ہے راستے کا پتہ نہیں ہے۔ مختلف اور مشکل راستوں پر لوگوں کو سچا اور بہادر اہل علم اور اہل دل رہنما مل جائے تو پھر سفر میں ہی ایسا مزہ آتا ہے کہ منزل خود بخود مل جاتی ہے۔ ڈاکٹر خواجہ زکریا مجھے بڑے محبوب ہیں۔ مجھے ان سے محبت شروع ہوئی جب میں ان کی کلاس سے باہر آ گیا تھا۔ ان کی ساری عمر علم و فضل اور درس و تدریس کے لئے وقف ہو  چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑی مدت کے بعد پنجاب یونیورسٹی کو جینوئن سربراہ ملا ہے۔
یہ مجاہد کامران کی جراتوں اور ثابت قدمی کا نتیجہ ہے کہ سینڈیکیٹ کے انتخابات میں مخلص اور مستعد لوگوں کی آرزو والے ٹیچر فرنٹ نے چاروں نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ایک خاص جماعت سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلبہ کی اجارہ داری تھی اور وہ اپنے ’’مقاصد‘‘ کی تکمیل کے لئے انتظامیہ پر دبائو ڈال کر کام نکلواتے تھے۔ اس طرح یونیورسٹی میں ایک متبادل انتظامیہ کھڑی کر دی گئی تھی جس سے ماحول تعلیمی ماحول نہیں رہا تھا۔ سیاسی پراگندگی کا ایک زمانہ ہر طرف چھایا ہوا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک سیاسی جماعت نے طلبہ میں بے چینی پیدا کر دی تو وہاں راوین فرنٹ بنایا گیا۔ طلبا نے اسے کامیاب کرایا اور میرا بھانجا اسد ایوب نیازی صدر سٹوڈنٹس یونین بنا۔ ایک اچھے تعلیمی ماحول میں سیاست سے دور بہت تعلیمی اور تخلیقی کام ہوئے۔ عظیم روایات کا علمبردار گورنمنٹ کالج  گورنمنٹ کالج یونیورسٹی بنا دیا گیا ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خلیق الرحمان اچھی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مگر تعلیمی روایات بھولی بسری داستان بنتی جا رہی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف کے صدر ڈاکٹر احسان شریف نے نومنتخب سنڈیکیٹ ممبران ڈاکٹر عامر اعجاز ڈاکٹر محمد رفیق پروفیسر جاوید سمیع اور شمائلہ گل کو مبارکباد دی۔ ٹیچرز فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر شوکت علی نے کہا ہے کہ جن اساتذہ نے اپنے لوگوں طلبہ و طالبات اساتذہ اور ملازمین کی بہتری اور عزت مندی کی خاطر کام کیا ہے ان پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ دوسرا گروپ یونیورسٹی میں بدنامی کا باعث ہے۔ اس لئے اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹیچرز فرنٹ کے لوگ واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اب سنڈیکیٹ میں تعلیمی ماحول ہو گا اور یونیورسٹی کے لئے ٹیکنالوجی ہو گی۔ پروفیسر جاوید سمیع خاص طور پر قابل ذکر ہیں کہ انہوں نے سب سے زیادہ 183 ووٹ حاصل کئے۔ ان کے مقابلے میں افتخار تارڑ نے 76 اور بشریٰ رحمان نے 29 ووٹ حاصل کئے۔ یونیورسٹی کے تعلیمی اور انتظامی امور کے لئے سنڈیکیٹ کی بڑی اہمیت ہے۔ اب یہاں جینوئن فیصلوں کے بعد یونیورسٹی کے معاملات میں بہت بہتری آئے گی۔ یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی اس مشن میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور صحیح تصویر میڈیا میں سامنے لے کے آئے۔ اس سے پہلے ہر طرف ایک خوف کی فضا تھی۔ سیاست میں علمی معرکہ آرائیاں ضروری ہیں مگر علم کے میدان میں سیاسی کارروائیاں دشمنی ہے۔ کتاب دوستی کسی قوم کی سربلندی کے لئے اہم چیز ہے۔ کہتے ہیں کتابیں گھروں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان میں رہنا چاہئے۔ جن طلبہ و طالبات کے ہاتھ میں کتابیں ہوں وہ میرے گھر کے لوگ ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کا سب سے خوبصورت وقت کہاں گزرتا ہے تو میں نے بے ساختہ کہا تھا کہ ’’کلاس روم‘‘ کلاس روم کو انہیں اپنی گندی سیاست کا دفتر نہیں بنا لینا چاہئے۔ میرے آقا و مولا رحمت اللعالمین رسول کریم حضرت محمدؐ سے عرض کی گئی کہ ہم آپ کو کہاں تلاش کریں تو آپؐ نے فرمایا ’’علم کی روشنی میں‘‘۔ قرآن کریم میں بار بار سوچنے اور غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور یہ کیفیت علم و فضل کے ذوق و شوق میں پائی جاتی ہے۔ بابائے قوم قائداعظم نے نوجوانوں سے ایک ملاقات میں فرمایا تھا۔ پہلے صرف تعلیم حاصل کرو۔ اس کے بعد کوئی اور کام کرو۔ تعلیمی زندگی میں سیاست کا کیا کام؟