لندن پلان کی کھچڑی

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
لندن پلان کی کھچڑی

 انقلاب کے لئے ایک لمبا سفر۔ ٹورنٹو اور لاہور سے لندن اورپھر انقلاب کے لئے ون وے ریٹرن ٹکٹ۔بڑا کٹھن دھندا ہے اورعجب گورکھ دھندا ہے۔ انقلاب تو لاہور ہائی کورٹ کی دہلیز پررینگ کے آیا تھا، یہیں کہیں اس کی لاش تڑپی تھی، کسی نے اینٹیںمار مار کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ایوان عدل کے اندر منصف تھے اور چاروں طرف پولیس کا پہرا، قاتلوں کے ہاتھ میں صرف انیٹیں۔نوے شاہراہ قائد اعظم کی آنکھوںکے عین سامنے،صوبائی اسمبلی کی عمارت کے سائے میں، آئی جی اورچیف سیکرٹری سے زیادہ دور نہیں اور گورنر ہاﺅس بھی چند قدم کے فاصلے پر، مرنے والی کی چیخیں تو بلند ہوئی ہوں گی،چیف منسٹر ہاﺅس کی دیواریں بم پروف تو ہوسکتی ہیں لیکن چیخیں تو ان دیواروں سے ضرور ٹکرائی ہوں گی۔ کیا سارا گڈ گورننس کا نظام اندھا، گونگا، ٹنڈااور بہرا ہو گیا تھا۔کیا اس روز زمین کا سینہ شق نہیںہوا تھا، کیاا س روز آسمان نہیںپھٹا تھا۔
جب کسی ملک کا نظام مفلوج ہو جائے تووہاں انقلاب برپا کرنے کے لئے سازش اورپخت وپز نہیںکرنا پڑتی۔وہاں کسری کے محل کے کنگرے خود بخود گر پڑتے ہیں، وہاں قیصر کا کروفر مٹی میں مل جاتا ہے اور با جبروت فرعون ایک ممی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
مگر یہ سب یہاں کیوں نہیں ہوا۔ اس لئے نہیں ہوا کہ یہاں تبدیلی لانے کی خواہش میں کوئی مخلص نہیں، ہر کوئی اپنی باری لینا چاہتا ہے اور بس۔ ہر کوئی کرپشن کا بازار گرم کرنا چاہتا ہے۔ بہتی گنگا سے اشنان اور لوٹ کمار کی کمائی سمیت بیرون ملک فرار۔ ایسے معاشرے میں خواتین کو اینٹیںمار مار کے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہے گا، اور جدید تریں اسلحے سے لیس محافظ خاموش کھڑے تماشہ دیکھتے رہیں گے۔ حکومت نام کی تو کوئی چیز یہاں ہے نہیں مگر جو اپوزیشن ہے ، اسے لندن کی رنگینیوں سے عشق ہے، وہ شراب و شباب سے معمور اس شہر میں انقلاب کا خاکہ تیار کرنے کے شوق میںمبتلا ہے۔ ٹورنٹو سے ڈاکٹر طاہر القادری وہاں آئے، لاہور سے چودھری برادران ، لاﺅ لشکر سمیت وہاں پہنچے، عمران خان نے بچوں کے ساتھ ملاقات کا بہانہ بنایا اور یہ کھسر پھسر ہونے لگی کہ کہ ملک میں انقلاب برپا کرنا ہے۔ ڈاکٹر قادری صاحب پچھلے سال بھی تشریف لائے تھے اور بے نیل ومرام واپس چلے گئے تھے۔ وہ سیاست کی ابجد سے واقف نہیں، چودھری شجاعت نے ملک ریاض کو ساتھ لیا اور لاہور میں انکے مرکز کا رخ کیا جہاں قادری صاحب نے معمار پاکستان ملک ریاض کی ایسی عزت افزائی فرمائی کہ انہیں موقع سے جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب شاید نہیں جانتے تھے کہ ملک ریاض اس ملک کے بادشاہ گر ہیں اوروہ قادری صاحب کے انقلاب میں بھی ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ ملک صاحب کے ساتھ چودھری شجاعت بھی بے آبرو ہو کر نکلے مگر اسلام آباد میں قادری صاحب نے دھرنے کا بازار سجا یا، عورتوں اور بچوں نے سخت سردی اور بارش میں استقامت کا مظاہرہ کیا تو چودھری شجاعت پھر ان کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور اس بے مقصد اجتماع کو ایک معاہدے کی آڑ میں باعزت واپسی کی راہ دکھائی۔
میں یہ مانتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کے مطالبات میں وزن تھا، وہ جن اصلاحات پر زور دے رہے تھے، ان کو روبہ عمل آنا چاہئے مگرا سکے لئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، آئینی اصلاحات دھکم پیل کے ذریعے کبھی نہیں ہوتیں۔ مگر قادری صاحب جیسے اچانک آئے تھے، ویسے اچانک واپس چلے گئے۔
 میں اوور سیز پاکستانیوں کے کردار کابے حد مداح ہوں۔ اور جب سابق چیف جسٹس نے قادری صاحب کے حوالے سے ہر اوور سیز پاکستانی کو رگیدا تو میں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ کھڑا نظر آیا، مگر ڈاکٹر صا حب اڑنچھو ہوگئے تو میرے اندر ٹھاٹھیںمارنے والا انقلاب فرانس کا محل چکنا چور ہو گیا۔یہاں سے میرا دل کھٹا ہو گیا ور مجھے بھی یقین ہو گیا کہ اگر کسی اوور سیز پاکستانی کو ملک کا درد ہے تو وہ اپنی دہری شہریت چھوڑے اور وطن کی خاک چھانے۔ قارئین جانتے ہیں کہ گلاسگو سے محمد سرور نے نازل ہونے کی کوشش کی تو میںنے اس امر کی کوئی پروا نہیں کہ کہ وہ میرے بہترین دوست ہیں، میں نے اصول پر زور دیا ور ان کی دہری شہریت واپس کروا کر دم لیا، یہ الگ بات ہے کہ وہ پھر بھی ملک میںنہیں ٹکتے ، ان دنوں بھی لندن سدھار گئے ہیں۔ بیرونی پرندے، ہمیشہ باہر بسیرا کرتے ہیں۔
لندن پلان میں ڈاکٹر قادر ی صاحب شامل ہیں، چودھری برادران مع برات کے شامل ہیں، عمران خاں کو شامل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مگر ان کا اصرا رہے کہ ذرا دوچار دن بچوں سے کھیل لوں۔
تو لندن میں سبھی کھیل میںمصروف ہیں۔ جولائی کے آنے سے پاکستان میںگرمی کا زور بڑھ گیا ہے اور نندی پور کے 95 میگا واٹ کے باوجود ملک میں اندھیرا ہے ۔ لندن کا موسم سہانا ہو گا۔ چودھریوں کو کوئی شغل چاہئے، وہ نوابزادہ نصراللہ کی کمی پور ی کرنا چاہتے ہیں مگر نوابزادہ مٹی پاﺅ پالیسی پر کاربند نہ تھے۔ چودھریوں نے چھیاسی میں داﺅ لگانے کی کوشش کی مگر ضیاالحق نے اپنی زندگی نواز شرف کے لئے وقف کر دی۔ حالات سے پتہ چلا کہ وہ اقتدار بھی انہیں ہبہ کر گئے۔ چودھریوں کی دال مشرف دور میں گلی ا ور خوب گلی۔ چودھری شجاعت بلا شرکت غیرے حکومت چلا رہے تھے ا ور پرویز الہی پنجاب کے مدار المہام بن بیٹھے، انہوںنے مونس الہی کو جانشینی کے لئے تیار کیا مگر ستاروںنے چال بدل لی، اب یہ دور پھر کبھی نہ لوٹے گا، نوازشریف نہیں رہے گا تو چودھری پھر بھی اوپر نہیں آ سکتے۔ ڈاکٹر قادری اور عمران خان کے ساتھ ملنے سے جو کچھ ہاتھ میں ہے، وہ بھی جاتا رہے گا، شجاعت نے کہا ہے کہ حکومت چل نہیں رہی، چلتی نظر آ رہی ہے، شجاعت کو فقرے بازی میں مہارت تامہ حاصل ہے مگر زبان کا چسکا اور بات ہے، یہ خوب بات ہے مگر اس سے ان کی اپنی بات نہیں بن پا رہی۔
میں انقلابیوں کی دل شکنی نہیںکرنا چاہتا، ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے میرے پاس کافی مواد ہے، پہلے تو صرف رانا ثنا اللہ کا میٹر گھومتا تھا، ا ب وزیر اعظم کا بیرومیٹر بھی ہل گیا ہے، اچھے بھلے جلسوںمیں وہ پٹری سے اتر جاتے ہیں۔ اربوںکے قرضوں کا اجرا کرتے ہوئے بھی وہ شکووں پر اتر آئے، ملتان، ساہیوال اور نندی پور کی تقاریب میں بھی وہ بوکھلاہٹ کا شکار نظر آئے، اس کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان کے جلسے ٹھیک نشانے پر لگ رہے ہیں، لندن کا اکٹھ بھی ان کے لئے سوہان روح ہے، سو اپوزیشن نے کچھ ایسا ضرور کیا ہے جس پر وزیر اعظم کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے، حکومتی پریشانی ایک تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کو اپنے اعصاب پر قابو پانا چاہئے، ان کے پاس دوتہائی مینڈیٹ ہے، وہ پارلیمنٹ میں رونق افروز ہوں ، ریاستی اداروں کو اپنا ہم نوا بنائیں، فوج سے ایک میڈیا ہاﺅس کی خاطر لڑائی مول نہ لیں، اور اپنا راج جاری رکھیں ورنہ بد قسمتی کا آٓغا زتو ہوچکا۔