شبِ معراج اور لوڈشیڈنگ

کالم نگار  |  بشری رحمن
شبِ معراج اور لوڈشیڈنگ

27 رجب المرجب کی چم چم کرتی رات نور لٹاتی اور دل کے دروازے کھٹکھٹاتی آسمانوں سے اتری تھی۔ زمین کے باسیوں کو اللہ کے محبوب کا آسمانی سفر یاد دلانے کیلئے … لوگوں نے بھی اپنے دلوں میں یاد نبی کے دیئے جلائے تھے اور مساجد میں بھی اس متبرک رات کے احترام میں صفیں باندھ کر شب زندہ دار قیام و سجود میں محو تھے… کہ یہ رات سال میں ایک بار آتی ہے اور اس ایک رات میں اللہ کے بندے اپنے رب کو اس طرح پکارتے ہیں کہ رحمت کے دروازے سارا سال کھلے رہتے ہیں… روشنیاں تو آسمانوں سے ٹوٹ کر گر رہی تھیں اور کہکشاں اس رات اترائی اترائی پھر رہی تھی… مگر ہمارے شہر میں‘ شہر کے ہر علاقے میں بجلی آدھے آدھے گھنٹے کے بعد جارہی تھی۔ یوں تو آجکل کی لوڈشیڈنگ کا کوئی ٹائم ٹیبل ہے ہی نہیں‘ جو بندے اس کام پر لگائے گئے ہیں‘ وہ دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں اپنی مرضی کی لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں۔ جب یاد آیا فیڈر بند کر دیا۔ جس وقت یاد آیا کھول دیا مگر معراج کی شب جب تمام جن و ملائیکا‘ چرند پرند‘ درخت‘ دریا‘ پہاڑ‘ لالہ زار سجدہ ریزتھے اور اللہ کے گنہگار بندے بھی مساجد کے اندر اور گھروں کے اندر صلوٰۃ و سلام اور نوافل میں محو تھے‘ بتی نے ایک تماشا لگا رکھا تھا۔ کبھی آدھے گھنٹے بعد‘ کبھی پندرہ منٹ بعد… اگر لوگوں نے موم بتیاں اپنے پاس نہ رکھی ہوتیں تو ساری عبادت اکارت جاتی…
مساجد کے اندر بھی یہی حال تھا ورنہ مساجد کے لائوڈ سپیکر سے ساری رات آوازیں آتی ہیں۔ یہ اسلامی ملک ہے اور اس کے حکمرانوں کے دعوے ہیں  بڑے بڑے … یہی کچھ شب بارات میں ہوگا اور یہی عالم رمضان المبارک میں ہوگا کیونکہ ہر دور کے اہل اقتدار کے نزدیک اہل اسلام وہی ہوتے ہیں جو دن رات ان کی سلامیاں بھرتے ہیں۔ ساری سہولتیں بھی ان ہی کیلئے ہوتی ہیں۔ پچھلے سال بھی روزے سے عین پہلے بتی چلی جاتی تھی۔ چونکہ ٹی وی بند ہو جاتا تھا اور مساجد سے بھی اذان کی آوازیں نہیں آتیں‘ روزہ دار سڑکوں پر نکل نکل کر دیکھتے روزہ کھلا ہے کہ نہیں۔ سحری کے وقت عین تین بجے بجلی چلی جاتی تھی۔ کچھ لوگ روشنی کا بندوبست کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ ایک دیا بھی نہیں جلا سکتے۔
یہ اسلامی ملک ہے لوگو! ہر آنے والا اسلام کے نام کو بہت   استعمال کرتا ہے اور اسلام کے نام پر اپنی رعیت کا بہت  استحصال کرتا ہے۔ اگر ان کے دل میں اسلام کی محبت اور دین کا درد ہو تو یہ لوگ شب معراج میں بجلی عام کر دیں۔ اس رات کا بل نہ مانگیں۔ شب برأت میں بجلی عام کر دیں۔ اس رات کا بل نہ مانگیں رمضان المبارک میں بجلی عام کر دیں۔ پورے مہینے کا بل نہ مانگیں کیونکہ رمضان المبارک اللہ کا مہینہ ہے اور اللہ کے مہینے میں ہر کام اور ہر فعل اللہ کی رضا کیلئے ہوتا ہے تو اللہ کے مہینے میں بل مانگنا گویا اللہ سے بل مانگنا ہے۔ آخر تو اہل ثروت اور اہل اقتدار پر بھی زکوٰۃ واجب ہے اور ان پر بھی جن کے اربوں کھربوں ڈالر غیرملکی بینکوں میں پڑے ہیں‘ رمضان المبارک یعنی اللہ کے مہینے میں وہ اپنی زکوٰۃ میں سے اللہ کے بندوں کو بجلی مفت دیدیا کریں تاکہ لوٹے ہوئے روپے کا کوئی مصرف تو اچھا ہو مگر لوگو! وہ تو محض اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اور اسلامی کیلینڈر کی بڑی بڑی متبرک راتوں اور مہینوں کو اندھیرے کی چادر میں لپیٹ دیتے ہیں۔ یہ خود بیت المال بناتے ہیں۔ خود اس کے مالک بن بیٹھتے ہیں۔ اسلامی ملک کے اندر غریبوں کو حج کی کوئی سہولت نہیں دیتے۔ ان کے اخراجات بڑھا دیتے ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں آپ نے اسلامی ملک دیکھنے ہوں تو ان کے اندر جا کر دیکھیں کہ حکمران حرمت والے مہینوں میں رعیت کوکتنی آسانیاں دیتے ہیں… شب معراج اور شب برأت یا لیلتہ القدر کو اندھیروں میں نہیں لپیٹ دیتے۔
ہمارے پیارے ملک کے چہرے پر جب سے طالبان کی چیچک نکلی ہے‘ ہمارے خوبصورت ملک کا چہرہ گہنا گیا ہے۔ داغدار ہو گیا ہے۔ مذہب کے حامی گوشہ نشین ہو گئے ہیں۔ ہر قسم کے طالبان ہر شعبے میں نظرآرہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گھروں کے اندر‘ محکموں کے اندر‘ شعبوں کے اندر اپنی مرضی کا اسلام لانے کے داعی ہیں۔     ؎
تیرا ملک کیسا ہے اے خدا یاں نہیں نصیب جلوں کی جا!
کہیں حکم ہے کہ سحر نہ ہو کہیں حکم ہے کہ اذاں نہ ہو!
معلوم نہیں اس ملک میں میر جعفروں کی فصل کس نے لگائی تھی اور کس موسم میں اُگی تھی۔ پاکستان کو درانتی کے دونوں سروں سے کاٹا جا رہا ہے اور نیرو صاحبان بانسری بجا رہے ہیں۔ کیا بے مثال ملک بنتا جا رہا ہے۔ قانون توڑنے کی سزا نہیں ہے۔ قانون خریدنے کا سب کو حق ہے۔ کوئی بھی جرم پیشہ شخص اسلامی حلیہ بنا کے پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر اتر سکتا ہے۔ پیسہ لگا کر پاسپورٹ حاصل کر سکتا ہے۔ شناختی کارڈ بنوا لیتا ہے۔ غیرملکی کرنسی دکھا کر کسی بھی علاقے میں ایکڑوں کے حساب سے زمین خرید سکتا ہے۔ اس زمین کے اندر کسی بھی نام سے کوئی فارم ہائوس‘ کوئی ادارہ‘ کوئی درسگاہ کھول کے پاکستان کے خلاف خفیہ تخریبی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ کئی ملکوں میں اجنبیوں کو زمین خریدنے کی اجازت نہیں ہے مگر اس خوبصورت ملک میں ایسی کوئی بندش نہیں اور تو اور بعض علاقوں میں ایسے تخریب کار‘ دیندار شکل بنا کے کسی بھی دیندار گھر سے رشتہ بھی مانگ لیتے ہیں اور پھر گھر جوائی کا سہرا باندھ کے انہی کے گلے پڑ جاتے ہیں۔ ان کی نسلیں جنم لینے لگتی ہیں۔ کیا اس ملک کا جاسوسی نظام دور دراز علاقوں میں کھوج لگا سکتا ہے کہ از قسمے فارمز‘ ادارے وغیرہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے‘ کس ملک سے آرہا ہے۔ جب پورا ملک لوڈشیڈنگ اور مہنگائی سے بلبلا رہا ہے‘ وہ کس طرح اپنی بجلی کا نظام چلائے… ہنس ہنس کے تماشا دیکھتے چلے جا رہے ہیں…
خداوند ا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں!
اور کیسا خوبصورت ملک ہے یہ کہ … یہاں کوئی بھی کسی کا سفارشی جب چاہے دولت  کے بل بوتے پر نیا چینل کھول لے اور پھر باہر سے آمدہ پیسے سے یہ چینل چلنے لگ جائے بلکہ دوڑنے لگ جائے۔
یہ بھی نہ دیکھا جائے کہ اب مزید نئے چینل کھولنے کی قطعی گنجائش نہیں ہے بلکہ ناکارہ اور نامراد چینل بند کرنے کا موسم ہے     ؎
یہ طریق لذتِ سوز و غم جو بیاں کروں تو بیاں نہ ہو
جسے شمع سمجھی ہے انجمن کسی دل جلے کی زباں نہ ہو؟