’’ہر گھر سے ہلاکُو نِکلے گا؟‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
’’ہر گھر سے ہلاکُو نِکلے گا؟‘‘

2014 ء کے آخری  دِن سینٹ میں وزیرِاعظم میاں نواز شریف کا خطاب تھا۔’’نوائے وقت‘‘ کے بعض قارئین مجھ سے  پوچھتے رہتے ہیں کہ ’’جب جنابِ وزیرِاعظم کو کوئی اہم اعلان کرنا ہوتا ہے تو وزیرِاعظم ہائوس میں اُن کے شاگرد پیشہ مُشِیر ہر موضوع پر اظہارِ خیال کیوں کرتے رہتے ہیں؟ خاموش کیوں نہیں رہتے؟‘‘ اب میں کیا کہوں؟ اُنہیں خاموش کرانا تو جنابِ وزیرِاعظم کا کام ہے؟
ایسے آئِین کا کیا فائدہ؟
وزیرِاعظم صاحب نے اپنے خطاب میں پٹرول ٗ ڈیزل اور مٹی کا تیل سستا کرنے کا اعلان کِیا اور اُس کے ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ ’’قیمتوں میں کمی کے فائدے عوام تک پہنچانے کے اقدامات کریں۔‘‘ وزیرِاعظم صاحب جانتے ہیں کہ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے اشیائے ضرور یہ سستی نہیں ہوتِیں۔ خوفزدہ جنابِ زرداری نے کہا تھا کہ ’’کہیں فوجی عدالتوں میں میرا اور میاں نواز شریف کا ٹرائل نہ ہونے لگے؟‘‘ میاں صاحب نے کہا کہ  ’’مَیں اپنے "Trial" کے خوف سے فوجی عدالتوں کا قیام نہیں روک سکتا۔‘‘ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ایسے آئِین کا کیا فائدہ جو ہمارے بچوں کو تحفظ نہ دے سکے؟‘‘ 1970ء کے عام انتخابات سے پہلے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا ’’آئِین عوام کے لئے روٹی ٗ نان اور کباب نہیں بن سکتا۔ ایسے آئین کا کیا فائدہ؟ جنابِ بھٹو کے دَور میں ’’نامور سیاستدانوں اور جیّد عُلمائ‘‘ کے دستخطوں سے 1973ء کا ’’مُتفِقّہ آئین‘‘ لاتعداد ترامیم کے بعد کبھی عوام کے لئے روٹی ٗ نان اور کباب نہیں بن سکا۔ ایسے آئین کا کیا فائدہ؟
’’مَن تڑپت دیوی درشن کو آج!‘‘
خبر ہے کہ بھارتی بارڈر فورس کے لوکل کمانڈرز نے 2014ء کے آخری دِن فلیگ مِیٹنگ کے لئے کال کی اور پاک فوج کے نائیک ریاض شاکر اور لانس نائیک صفدر علی زیرو لائن پر پہنچے تو انہوں نے فائرنگ کر دی۔ دونوں زخمی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔‘‘ کیا اب بھی بھارت سے تجارت اور دوستی کے خواہشمند ’’امن کی آشا دیوی کے پُجاری‘‘
’’من تڑپت دیوی درشن کو آج‘‘
کا بھجن گانے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کریں گے؟
’’دستار بندی اور دستارِ فضیلت؟‘‘
خبر ہے کہ ’’زرداری قبیلہ کی سات شاخوں کے بزرگوں نے سابق صدر جناب آصف زرداری کو ’’زرداری قبیلہ کا سردار‘‘ مُنتخب کر کے اُن کی باقاعدہ دستار بندی کردی ہے۔‘‘ ایک نیوز چینل پر دکھایا گیا کہ تقریبِ دستار بندی میں پیپلز پارٹی کے ایک 80 سالہ جیالے کو تقریب میں داخل ہونے سے یہ کہہ کر روک دِیا گیا کہ ’’تم زرداری نہیں ہو‘‘ پھر وہ جیالا بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اُس کے بعد کیا ہُوا؟ نہیں دکھایا گیا۔ شاعر نے اپنی محبوبہ سے مخاطب ہو کر کہا تھا  ؎
’’مَیں تری مست نگاہی کا بھرم رکھ لُوں گا
ہوش آیا بھی تو کہہ دُوں گا مجھے ہوش نہیں‘‘
بلاول بھٹو زرداری لندن میں (اپنے اعلان کے مطابق ’’اَنکل الطاف‘‘ کا جِینا حرام کرنے کا طریقہ تلاش کر رہے ہیں)۔ 30 نومبر کو اپنے ’’نانا سائیں‘‘ ذوالفقار علی بھٹو  کی قائم کی گئی پاکستان پیپلز پارٹی کے یومِ تاسِیس پر اور 27 دسمبر 2014 ء کو اپنی ’’رانی ماں‘‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر نہیں آئے تھے لیکن اُنہیں اپنے ’’بابا سائیں‘‘ (جنہیں انہوں نے ’’سائنسی سیاستدان‘‘ کا خطاب دِیا تھا) کی دستاربندی کی تقریب پر تو اُڑ کر آنا چاہیے تھا۔ جِس دِن جنابِ زرداری کی دستار بندی ہُوئی اور اُسی دِن ’’مِٹّھی‘‘ سے غذائی قِلّت کے باعث دو اور بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر آ گئی۔ وزیرِ اعلیٰ سیّد قائم علی شاہ وضاحت کر چُکے ہیں کہ سِندھ کے علاقہ ’’مِٹھّی ہو یا کٹھّی‘‘  ہر جگہ بچے غذائی قِلّت کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’غُربت‘‘ کی وجہ سے مرتے ہیں۔ کیوں نہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ٗ سائیں سیّد قائم علی شاہ کو بھی ’’سائنسی سیاستدان 2 نمبر‘‘ قرار دے دیں؟ اور اُن کے لئے لندن سے ’’دستارِ فضیلت‘‘ بھجوا دیں۔ قائم علی شاہ صاحب کو اپنا سر ڈھانپنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ مِرزا غالبؔ نے کسی اور پَیرائے میں کہا تھا  ؎
’’بھرم کُھل جائے نہ ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اِسی طُرّۂ پُر پیچ وخم کے پیچ وخم نکلے‘‘
’’ہر گھر سے ہلاکُو نِکلے گا؟‘‘
مجاہدِ تحریکِ پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی کے مُرِیدِ خاص اور ’’نظریۂ پاکستان فورم برطانیہ کے صدر ’’بابائے امن‘‘ گلاسگو کے ملک غلام ربانی ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں جدوجہد آزادی کے ایک نامور مجاہد شمس اُلعُلماء مولانا الطاف حسین حالیؔ کی 100ویں برسی کی تقریب میں شرکت کے بعد میرے پاس آئے تو بہت اُداس تھے۔ انہوں نے کہا کہ’’تقریب کے صدر سابق صدرِ پاکستان اور چیئرمین ’’نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘‘ کی حیثیت سے جناب مجید نظامی کے جانشِین جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ نے جب اپنی دُعائیہ تقریر میں جب کہا کہ ’’آج پاکستان سنگین بحران کا شکار ہے اور مَیں تمام قائدین سے اپیل کرتا ہُوں کہ وہ اِس نازک مرحلے پر اکٹھا ہو جائیں۔‘‘ تو وہ آبدیدہ ہو گئے۔‘‘ پھر ’’بابائے امن‘‘ نے مجھ سے پوچھا کہ اثر چوہان صاحب! کیا ایسا ممکن ہے کہ ’’دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سب سیاستدان اکٹھا ہو جائیں!‘‘
میرے پاس ’’بابائے امن‘‘ کے اِس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ تاہم مَیں نے عرض کِیا کہ 1258ء میں بنو عباس کے ’’خلیفۂ اسلام‘۔ مُستعصم باِللہ کے دَور میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکُو خان نے خلافت کے دارالحکومت ’’بغداد‘‘ پر حملہ کِیا تو بغداد کی مسجدوں میں بحث یہ ہو رہی تھی کہ ’’کوّا حلال ہے، حرام یا مکرُوہ؟‘‘ بَیت اُلمال خلیفہ اور اُس کے خاندان کی ملکیت بن گیا تھا۔ صِرف خلیفہ کا خاندان اور درباری خُوش حال تھے اور عوام مفلُوک الحال فوج ناکارہ تھی اور اُسے باقاعدہ تنخواہ بھی نہیں مِلتی تھی۔ ہلاکُو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور خلیفہ سمیت 16 لاکھ مسلمانوں کو قتل کرا دِیا تھا۔ اِس وقت پاکستان میں ’’جمہوریت‘‘ ہے اور وفاقی وزیرِ خزانہ جناب اسحاق ڈار کے بقول 60 فی صد لوگ غُربت کی لکِیر سے نیچے زِندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہماری فوج دُنیا کی بہترین فوج ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پُوری طرح اہل بھی لیکن بیرونی ملکوں میں سرمایہ کاری کرنے والے اور لُوٹی ہُوئی قومی دولت بیرونی بینکوں میں جمع کرانے والے بم پرُوف حملوں میں اپنے والے اور سرکاری اور غیر سرکاری بُلٹ پرُوف گاڑیوں میں گھُومنے پھِرنے والے سیاستدان، کوئی معجزہ ہی ہو جائے تو اکٹھا ہو سکتے ہیں۔ حکمران، اُن کے اتحادی اور حکومت سے باہر ’’امن پسند سیاستدان‘‘ اب بھی آئینی مُو شگافیوں میں اُلجھے  ہُوئے ہیں۔ مجھے تو اُس دِن سے خوف آ رہا ہے کہ جب ’’ہلاکت مآب طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کے‘‘ ’’سہولت کار‘‘ مولوِی عبدالعزیز کی طرح ہماری مُحبِ وطن اور بہادر فوج کو چیلنج کریں گے کہ  ؎
’’ ہر گھرسے ہلاکُو نِکلے گا
تُم کِتنے ہلاکُو مارو گے؟‘‘